پلیٹ فارم پر کھڑا میں یہ سوچ رہا ہوں..... دیر تو ہو ہی چکی ہے اب بھی کیا مجھے فاسٹ ٹرین سے جانا چاہیے؟ یہ میرا خود سے سوال کرنا تھوڑا عجب تھا کیونکہ عادتاً میں روز اسی ٹرین سے دفتر جاتا ہوں....نہیں نہیں ! میں جاب نہیں کرتا ٹریننگ پر ہوں۔
پلیٹ فارم پر کھڑا میں یہ سوچ رہا ہوں..... دیر تو ہو ہی چکی ہے اب بھی کیا مجھے فاسٹ ٹرین سے جانا چاہیے؟ یہ میرا خود سے سوال کرنا تھوڑا عجب تھا کیونکہ عادتاً میں روز اسی ٹرین سے دفتر جاتا ہوں....نہیں نہیں ! میں جاب نہیں کرتا ٹریننگ پر ہوں۔ روز مرجھائے ہوئے چہرے میرے سامنے آجاتے ہیں جن کے جسم میں روح تو ہے مگر وہ زندہ نظر نہیں آتے....روز آتے ہیں ایک دوسرے کی شکلیں دیکھتے ہیں مگر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نظر نہیں آتی..... ہاں یہ ۹؍ سے ۵؍کام کرنے والے لوگ ہیں......
ٹرین آگئی اور لوگ اندر جانے کے لیے اس قدر بے دردی سے ایک دوسرے کو کچلتے چلے جا رہے تھے جیسے رگبی کا میدان ہو..... اندر جانے کے بعد بھی وہی حال، وہی چہرے پتہ نہیں کیوں مجھے اچانک طویلے کی یاد آگئی اور میں مسکرا دیا۔ آگے کے کچھ لوگ مجھے اس طرح سے دیکھنے لگے جیسے انسانی فطرت میں ہنسنا شامل نہیں ہے۔ ابھی آنے والے اسٹیشن پر مجھے اترنا نہیں تھا۔
اپنے جسم کو بچاتے ہوئے میں بائیں جانب چلا گیا۔ انتظار کرنے لگا کب کوئی اٹھے اور میں اپنی تشریف کو دو پل کی راحت دے سکوں۔ مگر ایسا ہو نہ سکا۔ویسے بھی کہاں کسی کو احساس ہوتا ہے آپ کی تکلیفوں کااور یہاں کے لوگ.......اف!! کافی دیر کھڑے رہنے کے بعد میری پیٹھ کی نچلی جانب کسی کا ہاتھ محسوس ہوا میں حیرانی سے پلٹا۔
کیا ہوا بابا !! کچھ تکلیف ہے؟ میں نے ان سے پوچھا..... اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’ آؤ بازو میں بیٹھ جاؤ !!‘‘ میں سوچ میں پڑ گیا..... یہ بزرگ جو انسان نظر آتے ہیںیہاں کیا کر رہے جانوروں کے بیچ؟..... سیٹ پر پہلے ہی تین لوگ بیٹھے تھے، ان بزرگ نے اپنی جگہ سے آدھی جگہ مجھے دے دی...... میں بیٹھ گیا...... ان کی طرف دیکھا، وہ مسکرا رہے تھے میں بھی مسکرانے لگا......
ٹرین کے اس پورے ڈبے میں صرف ہم دو ہی انسان نظر آرہے تھے گویا جیسے ہم طویلے کی سیر کرنے آئے ہوں۔ اس معمر انسان کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر خوشی دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ.... اس بے وفا اور خود غرض زندگی سے بھری ٹرین میں کوئی انجان تمہیں اپنی آدھی سیٹ مہیا کرے تو وہ تمہاری مسکراہٹ کا اور تمہارے شکریہ کا حقدار ہے!
اتنی بھیڑ میں اچانک میرے کانوں نے ایک اعلان سنا...... میرا اسٹیشن بس آنے ہی والا تھا۔ میں تیزی سے اٹھا، خودغرضی سے دوسروں کو دھکیلتے ہوئے......
بنا چہرے کے تاثرات کو بدلے... بس اسٹیشن کے آنے کا انتظار کرنے لگا اور اس کے آتے ہی جانوروں کی طرح آگے کے لوگوں کو دھکا دیتے ہوئے پلیٹ فارم پر جا گرا....... کچھ لمحے وہیں گرا رہا..... پھر اٹھا خود کو صاف کرنے لگا.....میری نظر ڈبے کی اسی سیٹ پر بیٹھے بوڑھے پر گئی جو کسی اور کی مدد کر رہا تھا.....
ٹرین کے ڈبے کی کھڑکی کے شیشے پر میں نے بہت تیزی کے ساتھ اپنا عکس دیکھا.... میرے چہرے کے دھندلے سے عکس میں..... ان کا شفاف چہرہ اور چہرے پر ان کا خلوص دیکھتے ہی میں سفید پڑ گیا۔ مجھے احساس ہوا کہ اس بھری ٹرین میں دو نہیں صرف ایک ہی انسان تھا۔