وہ دونوں ایک ہی آسمان کے نیچے رہتے تھے، مگر جیسے دو الگ مداروں میں گردش کر رہے ہو۔ ارمان فزکس کا طالب علم تھا اعداد، قوانین اور ستارے اس کی دنیا تھے۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 2:00 PM IST | Qazi Sabiha | Mumbai
وہ دونوں ایک ہی آسمان کے نیچے رہتے تھے، مگر جیسے دو الگ مداروں میں گردش کر رہے ہو۔ ارمان فزکس کا طالب علم تھا اعداد، قوانین اور ستارے اس کی دنیا تھے۔
وہ دونوں ایک ہی آسمان کے نیچے رہتے تھے، مگر جیسے دو الگ مداروں میں گردش کر رہے ہوں۔ ارمان فزکس کا طالب علم تھا اعداد، قوانین اور ستارے اس کی دنیا تھے۔
حرا ادب کی طالبہ تھی۔ لفظ، احساس اور خاموشیاں اس کی زبان تھیں۔ لائبریری میں ان کی ملاقاتیں اتفاق نہیں رہیں تھیں، بلکہ ایک خاموش عادت بن چکی تھیں۔
ارمان ہمیشہ وہی کھڑکی والی میز لیتا، حرا ہمیشہ چند قدم کے فاصلے پر بیٹھتی۔
باتیں کم تھیں، مگر خاموشی میں بہت کچھ کہہ دیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: احساس نامہ
ایک دن حرا نے دھیرے سے کہا ’’تم نے کبھی محسوس کیا ہے، کچھ لوگ دل سےقریب ہو کر بھی دور معلوم ہوتے ہیں ایسا کیوں؟‘‘
ارمان نے کتاب بند کی ’’ہاں، جیسے کشش موجود ہو، مگر فاصلے نے اسے کمزور کر دیا ہو۔‘‘
حرا مسکرائی ’’تم ہر بات کو قانون میں کیوں بدل دیتے ہو؟‘‘
ارمان نے پہلی بار شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’’کیونکہ میرے لئے تم خود ایک قانون ہو۔ جسے میں سمجھتا بھی ہوں اور نہیں بھی۔‘‘
حرا کی پلکیں جھک گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: یہ نئے مزاج کے رشتے
’’نیوٹن کہتا ہے، کائنات میں ہر شے کشش کی وجہ سے کسی نہ کسی ربط میں بندھی ہوتی ہے۔‘‘ ارمان نے دھیرے سے کہا۔
’’مگر وہ یہ بھی کہتا ہے کہ فاصلہ بڑھ جائے تو کشش کم ہو جاتی ہے۔‘‘ حرا نے آہستہ سے جواب دیا۔
’’اور اگر دل چاہے کہ فاصلہ کم ہو جائے؟‘‘ ارمان کی آواز میں ایک دبی ہوئی چاہت تھی۔
’’تو پھر انسان کو خود قدم بڑھانا پڑتا ہے۔ کوئی قانون کسی کے لئے فاصلہ طے نہیں کرتا۔‘‘
وہ دونوں جانتے تھے کہ ان کے درمیان صرف چند قدم کا فاصلہ نہیں تھا۔
خاندان کی روایات، مستقبل کے خواب، اور کہی نہ گئی باتیں ان کے درمیان دیوار بن چکی تھیں۔
حرا نے آہستہ سے کہا ’’کیا تمہیں کبھی ڈر نہیں لگتا کہ ہم ہمیشہ اسی فاصلے پر رہ جائینگے؟‘‘
ارمان نے کھڑکی سے باہر آسمان کو دیکھا ’’ڈر لگتا ہے، مگر اس سے زیادہ یہ خیال تکلیف دیتا ہے کہ کشش ہونے کے باوجود ہم نے کوشش نہ کی۔‘‘
حرا کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی ’’کبھی کبھی مجھے لگتا ہے، ہم دو ستارے ہیں جو ایک دوسرے کو دیکھ تو سکتے ہیں، مگر ٹکرا نہیں سکتے۔‘‘
ارمان نے دھیرے سے کہا ’’شاید ہمیں ٹکرانا نہیں، ایک ہی مدار میں آنا ہے۔‘‘
خاموشی چھا گئی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ریت پر لکھی تقدیر
مگر اس خاموشی میں وعدہ تھا۔
وہ مکمل طور پر قریب نہیں آئے، مگر اس دن دونوں کے دلوں نے فاصلہ تھوڑا سا کم کر لیا تھا۔
کیونکہ انہوں نے یہ سیکھ لیا تھا کشش ِ ثقل محبت کی وضاحت کرسکتی ہے، مگر محبت کو منزل تک پہنچانے کے لئے دل کو خود حرکت میں آنا پڑتا ہے۔