• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: احساس نامہ

Updated: February 09, 2026, 3:28 PM IST | Roshan Parveen | Mumbai

وقت ۵؍ بج کے ۳۰؍ منٹ.... آسمان میں دھیرے دھیرے اندھیرا چھا رہا تھا۔ دن میں ہلکی پھلکی بارش ہونے کی وجہ سے موسم ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ ’’دیکھو نا میرے اکاؤنٹ میں مسئلہ ہوگیا ہے، رقم منتقلی نہیں ہو رہی۔‘‘ فضا نے پریشانی کے عالم میں کہا اور اپنا فون نور کو تھما دیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

وقت ۵؍  بج کے  ۳۰؍ منٹ.... آسمان میں دھیرے دھیرے اندھیرا چھا رہا تھا۔ دن میں ہلکی پھلکی بارش ہونے کی وجہ سے موسم ٹھنڈا ہوگیا تھا۔

’’دیکھو نا میرے اکاؤنٹ میں مسئلہ ہوگیا ہے، رقم منتقلی نہیں ہو رہی۔‘‘ فضا نے پریشانی کے عالم میں کہا اور اپنا فون نور کو تھما دیا۔

’’اچھا مَیں دیکھتی ہوں۔‘‘ ابھی نور نے فون ہاتھ میں لیا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی اور کمرے میں زبیدہ داخل ہوئی۔ وہ ان کی ہمسایہ تھی، جس کی ماں بچپن میں ہی فوت ہوگئی تھی۔

زبیدہ ابھی اندر آئی ہی تھی کہ نور نے لیپ ٹاپ اور موبائل ہاتھ میں لے کر کمرے سے باہر جانے لگی، اُس کے ساتھ فضا بھی چل دی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: ریت پر لکھی تقدیر

نور اور فضا اس کے بھائی کے کمرے میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں، تبھی فضا کی بہن صبا نے اسے کمرے کے باہر سے آواز دی ’’فضا! فضا! جاؤ بھائی کے لئے روٹی بنانی ہے۔‘‘

صبا کی آواز پر فضا نے غور نہ کیا اور نور کے ساتھ باتوں میں مشغول رہی۔ فضا اور نور اسکول کے زمانے سے ساتھ تھیں، بچپن کی ہمسائیگی کے ساتھ ساتھ وہ دونوں بہترین دوست بھی تھے۔ اُن کی دوستی بہت گہری تھی، جیسے دل اور دھڑکن، ایک کے بغیر دوسرے کا وجود ممکن نہیں۔

’’اچھا فضا چلو تمہیں روٹیاں بھی پکانی ہے نا۔‘‘ اتنے میں دروازہ کھولا اور اس کی بہن اندر آئی اس کے پیچھے زبیدہ بھی تھی۔

’’اچھا کچن میں چلتے ہیں۔‘‘ نور نے صبا باجی کو دیکھتے ہی آہستگی سے کہا۔ نور نے فضا کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتی ہوئی لے جانے لگی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: یہ نئے مزاج کے رشتے

’’نہیں.... نہیں! نور.... تم رکو، مَیں ہی چلی جاتی ہوں۔ تم کیوں جا رہی ہو؟‘‘ زبیدہ کے لہجے کی گرمی کمرے کے سکوت کو چیر گئی۔ پل بھر میں ماحول بدل گیا۔ سب زبیدہ کو دیکھنے لگے، آخر وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھی۔

نور کے چہرے پر عجیب سا تاثر ابھرا، وہ سمجھ نہ سکی کہ زبیدہ اچانک اتنی تلخ کیوں ہوگئی۔

’’ارے نہیں آپی.... آپ کیوں جائیں گی آپ رہیں نا، ہم تو ویسے بھی کچن میں جا رہے ہیں۔‘‘ نور نے نرمی سے اتنا ہی کہا۔

نور جو سمجھی تھی، اسے ظاہر کرنے کے بجائے اُس نے عاجزی سے بات کو الگ رخ دیا۔ زبیدہ کے چہرے کی بےچینی گہری ہوگئی۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : برابری

’’نہیں! مَیں جا رہی ہوں۔‘‘ اس نے سخت لہجے میں کہا ’’مَیں نے کئی مرتبہ یہ غور کیا ہے، جب بھی مَیں آتی ہوں، تم اپنی جگہ بدل لیتی ہو، یا پھر فوراً گھر چلی جاتی ہوں۔‘‘

نور کو جیسے جھٹکا لگا،اس کا نرم چہرہ پھیکا پڑ گیا۔ اس نے سب کے چہرے کو دیکھا۔ سب کے چہرے پر حیرت اور سوال تھا کہ زبیدہ کیا کہہ رہی ہے؟ نور صفائی پیش کرنے والی ہی تھی کہ.... ’’مَیں جا رہی ہوں!‘‘ کہتے ہوئے زبیدہ جانے لگی۔ وہ تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ اور دروازہ بند ہوگیا۔ زبیدہ کے جانے کے بعد گھر میں سناٹا چھا گیا۔ فضا نے خاموشی کو ختم کرنے کی کوشش کی ’’نور تم زیادہ مت سوچوں، ان کی تو عادت ہی ہے۔ تم جانتی ہو نا؟ انہیں ہر ایک کی زندگی سے فرق پڑتا ہے۔ تب ہی نا کہہ رہی ہے کہ ہم اکثر ان کی آمد پر کمرہ بدل لیتے ہیں۔‘‘

نور نے آہستہ سے سر ہلایا۔

سب کو معلوم تھا کہ نور کتنی حساس طبیعت کی لڑکی ہے۔ کچھ دیر خاموشی میں گزرے۔ نور نے لمبی سانس لی اور دھیرے سے کہا ’’اچھا مَیں چلتی ہوں، امی نے کہا تھا جلد آجانا۔‘‘

وقت ۳؍ بجکر ۲۳؍ منٹ، صبح صادق.... آج وہ وقت سے پہلے جاگ گئی تھی، شاید نیند آئی ہی نہیں تھی۔ مومنوں کے دل ایسے ہی ہوتے ہیں، وہ دوسروں کا درد جلد محسوس کر لیتے ہیں۔ وضو کے بعد جائے نماز پر بیٹھتے ہی آنسو بہہ نکلے۔ زبیدہ کا اداس چہرہ اس کی نظر سے اوجھل ہی نہیں ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سسرال سے آگے....

’’اے پروردگار عالم! تُو تو جانتا ہے نا، مَیں ایسی نہیں ہوں۔ میرا دل کبھی کسی کو دکھ دینے کی نیت نہیں رکھتا۔‘‘

دعا کے بعد اس نے تہجد ادا کی پھر تسبیح کے دانے آہستہ آہستہ گھماتے ہوئے، وہ تھکن سے نیند کی آغوش چلی گئی۔

’’نور تمہیں زبیدہ نے گھر بلایا ہے۔‘‘ نور کی امی نے اسے ناشتے کے فوراً بعد ہی اطلاع دی۔

نور کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رکی۔

’’جی امی! کچھ بتایا انہوں نے؟‘‘

’’نہیں، اس نے یہی کہا کہ، وقت نکال کر جلد آ جائے۔‘‘

’’اچھا، مَیں ابھی چلی جاتی ہوں۔‘‘ نور نے جلدی سے ڈوپٹہ درست کیا، گہرا سانس لیا پھر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔

’’جی آپی، آپ نے مجھے بلایا تھا؟‘‘ نور نے زبیدہ سے پوچھا۔

’’ہاں، اندر آؤ۔‘‘

’’مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔‘‘

نور کو اپنی ذات سے الجھن ہو رہی تھی، آخر اس کی وجہ سے زبیدہ کا دل دکھا تھا۔

’’جی، بولیں نا آپی۔‘‘

’’دیکھو، مَیں نے کل تمہیں بلاوجہ ہی اتنا کچھ سنا دیا، حالانکہ غلطی میری تھی۔ ظاہر ہے تم چھوٹی ہو، مجھ سے کیا باتیں کروں گی!‘‘ زبیدہ نے اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہوئے بے فکری سے کہا۔

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : درد سے مسکراہٹ تک

’’ارے، آپی ایسا نہ کہیں، پلیز آپ معافی نہ مانگیں، آپ کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ مَیں نے لاشعوری میں آپ کا دل دکھا دیا۔ مجھے اس طرح محفل سے نہیں جانا چاہئے تھا۔ میرے رویے سے آپ کو تکلیف پہنچی، اللہ کے واسطے پلیز مجھے معاف کر دیجئے۔‘‘

وقت: شام ۴؍ بجے نور کے گھر.... ’’نور یار، اچھی سی چائے پلاؤ۔‘‘ فضا کمرے میں آتے ہی، نور کو چائے کا آرڈر دینے لگی۔

’’آج پتہ ہے کیا ہوا؟‘‘

’’ہاں بتاؤ نا کیا ہوا؟‘‘

’’مجھے زبیدہ آپی نے بلایا تھا۔‘‘

’’کیا واقعی؟‘‘ فضا نے بڑی حیرانی سے کہا ’’ضرور سوری بولنے کے لئے بلایا ہوگا!‘‘ فضا نے آنکھوں کو گول کرتے ہوئے کہا۔

’’نہیں بھئی، اب ایسا بھی نہیں ہے، بس انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے بلا وجہ اتنا سوچ لیا تھا کہ ہم انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔ خیر، میری بات تو سنوں....‘‘ نور نے فضا کی بات کو بدلنے کی کوشش کی۔

’’اچھا بتاؤ نا....‘‘ فضا نے چائے کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔

’’مَیں نے ان سے معافی مانگ لی ہے، اب مَیں مطمئن ہوں۔‘‘ نور نے پُرسکون انداز میں کہا، اور یہ بات فضا کو پسند نہ آئی۔

’’کیا مطلب، تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا؟ تم نے معافی کیوں مانگی، باتیں بھی تم سنو اور پھر معذرت بھی تم کرو؟ تم پاگل ہو! کیوں مانگی معافی؟ مَیں تو کبھی نہ مانگتی....‘‘

یہ بھی پڑھئے: افسانہ : شہری راکھ

’’مگر مجھے ان کا اداس چہرہ ستا رہا تھا۔ تم جانتی ہو نا جن کے پاس آسائشیں کم ہوتی ہیں، انہیں دکھ جلد محسوس ہوتا ہے۔ مَیں نے سیرتِ طیبہ سے سیکھا ہے، ہمیں ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے الفاظ، لہجے اور رویے سے کسی بھی انسان کی دل آزاری نہ ہو۔ ہم مسلمانوں کو پیارے نبیؐ کی سیرتِ طیبہ کی پیروی کرنی چاہئے، اور لوگوں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا چاہئے۔ آپؐ کی ہر ادا میں محبت، رحمت، شفقت اور انسانیت کا درس نظر آتا ہے۔ سیرتِ مصطفیؐ زندگی کے ہر پہلو پر رہنمائی فرماتی ہے، اور مَیں نبی کریمؐ کی سیرت پڑھوں لیکن اس پر عمل نہ کروں تو میرے علم کا کیا فائدہ؟‘‘ نور زبان سے نہیں دل سے کہہ رہی تھی۔

فضا چہرے پر تبسّم سجائے اپنی پیاری اور عزیز دوست کو دیکھ رہی تھی۔ اسے فخر محسوس ہوا تھا اپنی دوستی پر۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK