’’اماں! کیا اُس کے علاوہ دُنیا میں کوئی لڑکا نہیں ہے؟‘‘ وہ تنک کر بولی۔
’’اماں! کیا اُس کے علاوہ دُنیا میں کوئی لڑکا نہیں ہے؟‘‘ وہ تنک کر بولی۔
’’لڑکے تو بہت ہیں میری بچی مگر اچھے لڑکوں کی کمی ہے۔‘‘ ماں مطمئن تھیں۔
’’اور کیا اُس کے سوا کوئی اچھا لڑکا نہیں ہے اِس شہر میں؟‘‘
’’ہوسکتا ہے مگر وہ.... بہت اچھا ہے.... نیک ہے، کم سخن ہے اور....‘‘
’’بس اماں بس.... مَیں سمجھ گئی۔‘‘ مہوش جل کر بولی اور پاوں پٹختی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
اماں کے مطابق شجاعت میں سو نہیں، ایک ہزار خوبیاں تھیں۔ اس سے بہتر جوڑ اماں کی نظر میں مہوش کے لئے کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ شجاعت اس کا خالہ زاد تھا، اپنی بیوہ ماں کا اکلوتا بیٹا، اس کا بڑا سا کاروبار تھا اور عالیشان گھر۔ اس سے رشتہ جوڑنے میں مہوش کے لئے سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ شجاعت کی رنگت تانبے جیسی تھی، ناک چپٹی اور قد بہت نکلا ہوا تھا جب ہنستا تو یوں لگتا جیسے کوئی کالا دیو دانت دِکھا رہا ہو!
مہوش کو اس کی صورت بالکل پسند نہیں تھی۔ وہ اسے اپنے شوہر کے روپ میں ہرگز قبول نہیں کرسکتی تھی۔ مانا کہ وہ کوئی بے حد حسین لڑکی نہ تھی مگر یوں بھی نہیں تھی کہ اس کو شجاعت جیسے کالے دیو کے ساتھ بیاہ دیا جائے۔
وہ چاند کا ٹکڑا نہ تھی مگر چاند کی مدھم اور ٹھنڈی روشنی کی طرح تھی۔ اس کے گالوں پر گلابوں کی سی سرخی نہ سہی مگر سورج مکھی جیسا سنہری اُجالا تھا۔ وہ سرما کی میٹھی میٹھی دھوپ کی مانند تھی جس کے ساتھ گھنٹوں بیٹھنے کو جی چاہے، اس کا وجود اس خوشگوار ہوا کے جھونکے کی طرح تھا جو شام کے وقت آہستہ آہستہ چلے اور دل کو بھی اپنے ہمراہ لے کر آگے بڑھ جائے۔
وہ اکثر آئینہ کے سامنے کھڑی ہو کر مسکراتی اور کہتی بتاؤ مَیں کیسی لگ رہی ہوں۔ آئینے سے بڑھ کر سچا کون ہوسکتا ہے۔ آئینہ صدق دل سے کہتا: ’’جیسے جھیل میں ڈولتا کنول، جیسے ستاروں سے بھری خوبصورت رات۔‘‘ وہ آئینے کے جواب پر شرما کر مسکراتی۔
سارے رشتہ داروں نے اس رشتہ پر خوب زور دیا۔ اس کی خالہ بھی بضد تھیں۔ مہوش ماں کے کانوں میں ’نا‘ کی رٹ لگاتی رہی۔ رشتہ داروں کے سامنے اس میں زبان کھولنے کی ہمت نہ تھی۔
انسان کے دل کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ جب کوئی اچھا لگتا ہے تو اپنی تمام خوبیوں کے ساتھ اچھا لگتا ہے پھر اس میں کوئی برائی ہو بھی تو نظر نہیں آتی، اور جب برا لگنے لگتا ہے تو اپنی ساری برائیوں کے ساتھ برا لگتا ہے پھر اس میں لاکھ اچھائیاں ہوں نظر ہی نہیں آتیں۔ مہوش کا جی چاہا وہ زور زور سے چیخ کر ساری دنیا کو بتا دے کہ وہ شجاعت سے شادی نہیں کرے گی۔ ہائے رے بے بسی! اُسے اس بے بسی پر خوب رونا آیا۔
ز ز ز
شام کا وقت تھا۔ گھر میں ڈھول کے بجنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ ہر جگہ خوبصورت گلابوں کی لڑیاں کن انکھیوں سے مہوش کو دیکھ رہی تھیں۔ رنگ برنگے قمقمے جگمگ کرتے منہ ہی منہ میں ہنس رہے تھے۔ سامنے مہوش منہ لٹکائے دونوں ہاتھ پسارے ہوئے تھی۔ اس کے سامنے ایک لڑکی بیٹھی مہوش کے ہاتھوں میں مہندی لگا رہی تھی۔ آج مہوش سے بڑھ کر کوئی مظلوم نہیں تھا اور شجاعت سے زیادہ کوئی ظالم نہیں تھا۔ آج وہ ساری خدائی سے ناراض تھی۔ اس کا دل چاہا کہ اپنے دونوں ہاتھ اس لڑکی کے منہ پر مل کر باہر بھاگ جائے۔
رخصتی کے وقت وہ ماں سے لپٹ کر خوب روئی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ایک خوبصورت شہزادی کو کوئی خوفناک جادوگر زبردستی اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔
ز ز ز
اُسے اپنے سسرال میں آئے دس بارہ دن ہوگئے تھے اور وہ کسی چراغ کی طرح بجھی ہوئی نظر آرہی تھی۔ ایک مکروہ صورت شخص کے ساتھ گزارا کرنا اس کیلئے بہت کٹھن تھا۔ جب وہ مہوش سے بات کرتا تو وہ دوسری طرف منہ پھیر لیتی، جب وہ کسی بات پر ہنستا تو وہ ضبط سے آنکھیں بند کر لیتی، جب وہ کھانا کھاتا تو مہوش کو یوں لگتا جیسے کوئی اونٹ گھاس کھا رہا ہوں.... آہستہ آہستہ!
اسے سب سے شکایت تھی۔ اماں سے، شجاعت سے، دنیا والوں سے اور خدا سے بھی۔ جب معاملات انسان کی مرضی کے موافق نہ ہوں تو وہ سرکشی پر اتر آتا ہے۔ مہوش کی حالت بھی ایسی ہی تھی۔ اس نے بات بات پر شجاعت کو ستانا شروع کر دیا۔ وہ دانستہ طور پر اسکے کام بگاڑ دیتی۔ کھانا دیر سے پکاتی۔ اسکے کپڑے استری نہ کرتی۔
اس دن بھی اس نے جان بوجھ کر سالن میں نمک نہیں ڈالا۔ رات کو جب شجاعت کھانا کھانے بیٹھا تو وہ اس کے آگے کھانا رکھ کر کھڑکی میں منہ ڈال کر بیٹھ گئی۔ شجاعت نے پہلا لقمہ منہ میں ڈالا اور نگل گیا پھر دھیرے سے اٹھا اور نمک کی برنی لے آیا اور نمک چھڑک کر کھانے لگا۔ مہوش نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا، وہ یوں کھانا کھا رہا تھا جیسے کوئی درویش ہوں... مفاہمت پسند! ہونہہ۔
اسے تو لگا تھا وہ مہوش پر غصہ کرے گا۔ اس کی غلطیاں گنوائے گا جس کے نتیجے میں وہ اس سے جھگڑا کرے گی ان سب باتوں کو اس کے خلاف دلیل بنا کر سب کے سامنے پیش کرے گی اور یوں ماں کے گھر جاکر بیٹھ جائے گی مگر یہ کیا؟
شجاعت ایک حلیم طبیعت آدمی تھا۔ فطرتاً کم گو تھا۔ مہوش اسے ستانے اور چڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی مگر وہ تھا کہ ہر بار مہوش کو مات دے دیتا۔ بار بار شکست کا سامنا کرتے کرتے وہ تھک سی گئی تھی۔ برائی کو برائی سے نہیں مارا جاتا۔ شجاعت اس گُر کا بہتر طریقے سے استعمال کرتا تھا۔
ز ز ز
اماں پریشان سا چہرہ لئے اسپتال میں داخل ہوئی تھیں، ’’کیا ہوا میری مہوش کو؟ کیا ہوا؟‘‘
مہوش ایک بیڈ پر نیم جان سی پڑی کراہ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر سفید پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ اپنی ہی کسی لاپروائی کے سبب گرم گرم تیل اس کے چہرے پر گر گیا تھا۔ اس کے سرہانے شجاعت اپنی کالی صورت لئے فکر مند سا کھڑا تھا۔ ساس ایک کونے میں روہانسی سی بیٹھی تھیں۔ اماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔
آٹھ دن بعد وہ گھر آئی۔ اب وہ پہلی سی مہوش نہ تھی۔ اب وہ موسم ِ گرما کی کسی جھلسی ہوئی دوپہر کی مانند نظر آرہی تھی ایسی دوپہر، جس سے آنکھ ملانے کی تاب نہ ہو۔ اس کا دایاں گال بری طرح جھلس گیا تھا۔ جلد متاثر ہوگئی تھی۔ اب وہ بھی مکروہ صورت تھی۔ وہ آئینے کے سامنے نہیں گئی۔ اس میں اب اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ آئینے سے آنکھیں ملا سکے۔
شجاعت اس کے قریب آکر بیٹھ گیا اور کہا، ’’تم آج بھی وہی مہوش ہو جس کو مَیں نے اپنی بیوی کے طور پر پسند کیا تھا۔‘‘
مہوش کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کر شجاعت کو دیکھا اس کے چہرے پر سچائی کا نور تھا، تمکنت کا اجالا تھا اور صداقت کی چمک تھی۔ اب وہ اسے کوئی خوفناک جادوگر نہیں بلکہ کوئی خوبصورت فرشتہ نظر آرہا تھا۔ وہ تو ہمیشہ سے ایسا ہی تھا مہوش کو نظر، اب آیا تھا۔
ز ز ز
وہ خدا کے دربار میں بیٹھی رو رہی تھی اپنی مکروہ صورت کی شکایت لے کر نہیں بلکہ ان گزرے لمحات کی معافی کیلئے جن لمحوں میں اس نے شجاعت کو برا سمجھا۔ وہ قدرت کی اس مصلحت پر حیران بھی تھی اور شکر گزار بھی۔
سارے شکوے گلے مٹ چکے تھے۔ اب معاملہ ’برابری‘ کا تھا۔