• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ : درد سے مسکراہٹ تک

Updated: January 14, 2026, 8:05 PM IST | Khan Nargis | Jalgaon

سعدیہ آج کالج سے گھر پیدل چل کر آئی تھی اور کافی تھک گئی تھی۔ اس لئےگھر پہنچتے ہی بیگ ٹیبل پر رکھا اور خاموشی سے صوفے پر لیٹ گئی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
سعدیہ آج کالج سے گھر پیدل چل کر آئی تھی اور کافی تھک گئی تھی۔ اس لئےگھر پہنچتے ہی بیگ ٹیبل پر رکھا اور خاموشی سے صوفے پر لیٹ گئی۔ اس کی بڑی بہن شازیہ کو اسے یوں خاموش دیکھ کر تشویش ہوی تو بالآخر اس نے پوچھ ہی لیا ’’کیا ہوا سعدیہ؟ سب خیریت تو ہیں۔‘‘ آج اتنی خاموش نظر آرہی ہو۔ کیا بات ہے۔‘‘ سعدیہ نے بیزاری سے کہا ’’کچھ نہیں آپی.... وہ بس چھوٹ جانے کی وجہ سے پیدل چل کر آ رہی ہوں اس لئے تھک گئی ہوں۔‘‘ سعدیہ اکثر کالج سے آتے ہی سارے دن کے واقعات گھر میں سب کو سناتی پھرتی۔ ایک منٹ بھی خاموش نہ بیٹھتی۔ آج اسے اس طرح خاموش دیکھ شازیہ کو عجیب سا لگا تھا۔ سعدیہ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کے باعث ہر ایک کی لاڈلی اور چہیتی تھی۔ اس کی ہر بات مان لی جاتی۔
سعدیہ کافی ذہین اور سمجھدار تھی۔ اسے پڑھائی سے بہت لگاؤ تھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی۔ کچھ بن کر اپنے والدین کا سہارا بننا چاہتی تھی۔ اس نے جو برے حالات گزارے ہیں اسے بدلنا چاہتی تھی۔ اپنی آنکھوں میں اس نے کچھ خواب سجائے تھے اور ان خوابوں کی تکمیل کے لئے وہ مسلسل محنت اور جدوجہد کرتی رہتی۔ اس کے والد مرزا صاحب ایک کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ تنخواہ معمولی تھی۔ گھر کے اخراجات مشکل سے پورے ہو پاتے تھے۔ سعدیہ سے بڑی دو بہنیں اور تھیں، ثانیہ اور شازیہ۔ ثانیہ کی شادی ہوچکی تھی اور وہ بیرون ملک رہائش پذیر تھی۔ معمولی تنخواہ میں تعلیم کا بوجھ اٹھا پانا مشکل تھا اس لئے شازیہ نے تعلیم ترک کرکے گھریلو ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ گھر کے مالی حالات کے پیش نظر اعلیٰ تعلیم کی ضد نہ کی۔ لیکن سعدیہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بضد تھی۔ اس نے ٹیوشن کے ذریعے اپنے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس لئے اسے اجازت مل گئی۔ سعدیہ نے اپنے والد پر بوجھ نہ ڈالا بلکہ اپنے سارے اخراجات خود اٹھاتی۔ اس کی والدہ رفیعہ بیگم نہایت ہی سمجھدار، شکر گزار اور صابر خاتون تھیں۔ کبھی کسی بات کا شکوہ نہ کرتیں۔ جو کچھ ہوتا اسی میں گزر بسر کر لیتیں اور اپنی بیٹیوں کو بھی یہی نصیحت کرتی رہتیں۔
کچھ ماہ گزرے تھے کہ شازیہ کے لئے ایک اچھا خاصا رشتہ آگیا اور اسے بھی جلد رخصت کر دیا گیا۔ والدین جلد از جلد اپنے فرض کی ادائیگی چاہتے تھے۔ سعدیہ پڑھائی بھی کرتی اور اپنی والدہ کا ہاتھ بھی بٹاتی تھی۔ یوں ہی دن گزرتے گئے اور بالآخر سعدیہ اپنے فائنل ایئر میں پہنچ گئی۔ اب اسے اپنی منزل قریب اور خواب پورا ہوتا ہوا معلوم ہونے لگا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ابھی فائنل ایئر میں پہنچے اسے چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ اس کے لئے ایک نہایت ہی اچھا رشتہ آگیا۔ اس کے والدین راضی تھے۔ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔ لڑکا نہایت ہی خوبصورت، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اونچے گھرانے سے تھا۔ اس کے آگے پیچھے کوئی نہ تھا۔ والدہ بچپن میں ہی اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ اس کے بابا نے ہی اس کی پرورش و تربیت کی تھی۔ اور اسے اس مقام تک پہنچایا تھا۔ اس کے بابا ہی اس کے سب کچھ تھے۔ اسے اپنے بابا بہت عزیز تھے لیکن مختصر علالت کے بعد وہ بھی انتقال کرگئے اور فہد کی ذمہ داری اپنے قریبی دوست منظور علی کو دے گئے۔ منظور علی انکل کے علاوہ فہد کا کوئی نہ تھا۔
یہ خبر جب رفیعہ بیگم نے اپنی بیٹی سعدیہ کو سنائی تو اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ وہ ابھی شادی کے لئے تیار نہ تھی۔ اسے اپنا کریئر بنانا تھا۔ اپنے خوابوں کو پورا کرنا تھا۔ والدہ نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسے رشتے بار بار نہیں اتے۔ اور سب سے بڑی بات انہوں نے جہیز کی کوئی مانگ نہ کی۔ سعدیہ سمجھدار تھی وہ اپنے والدین کو تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی اس لئے والدین کے اصرار پر وہ خوشی خوشی راضی ہوگئی۔ والدین نے خوش ہو کر اسے بہت سی دعاؤں سے نوازا۔
والدہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’بیٹا! جو والدین کی بات مانتے ہیں، ان کا مان رکھتے ہیں وہ کبھی نقصان نہیں اٹھاتے۔‘‘ اسے اپنا خواب مکمل نہ ہونے کا غم تھا۔ ورنہ وہ والدین کی مرضی میں راضی تھی۔
ز ز ز
اب سعدیہ کی شادی ہوچکی تھی اور وہ اپنے گھر آچکی تھی۔ ابھی شادی کو ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ اسے فہد کی رویے ناگریز لگنے لگے۔ وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ کرتا اور چیختا چلّاتا۔ سعدیہ اس سے جب بھی کسی موضوع پر بات کر تی تو وہ طرح طرح کے ہزاروں سوال کرتا۔ نہ ڈھنگ سے جواب دیتا نہ ہی سیدھے منہ بات کرتا۔ ایسا لگتا جیسے اس کے نزدیک میری کوئی اہمیت ہی نہ ہو، مجھ پر اعتبار ہی نہ ہو۔ سعدیہ کو اس کی باتوں سے یوں محسوس ہوتا جیسے اسے عورت ذات پر اعتماد، یقین و بھروسہ نہ ہو۔ اسے ہر عورت بے وفا اور خود غرض معلوم ہوتی۔ سعدیہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتی لیکن وہ سمجھنے کو تیار نہ تھا۔ اسے فہد سے ایسی امید نہ تھی۔ پہلے پہلے تو وہ خاموش رہی لیکن روز روز کی بحث سے وہ بیزار آچکی تھی۔
وہ ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ رفیعہ بیگم کا فون آگیا۔ دعا سلام و خیر خیریت دریا فت کرنے کے بعد سعدیہ نے انہیں سارا ماجرہ سنایا۔ ساری بات سننے کے بعد انہوں نے سعدیہ کو صبر و شکر کی تلقین کی۔ اور کہاکہ ’’ایک دوسرے کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے، ہر ایک کو پہلے تکلیف اٹھانی ہی پڑتی ہے بعد میں راحت ملتی ہے۔ ہر وقت کے شکوے اچھے نہیں ہوتے بیٹا۔ اسے سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنے مسائل حل کرو۔‘‘
امی کی کہی باتوں کو وہ سنجیدگی سے سوچنے لگی۔ اور وجہ تلاش کرنے لگی کہ آخر کیا بات ہے جو فہد کا ہر وقت موڑ آف ہوتا ہے۔ ہر وقت غصہ کرتا رہتا ہے۔ اس نے کئی مرتبہ باتوں باتوں میں فہد سے معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن نا کام رہی۔ بارہا کوششوں کے باوجود نا کامی ہاتھ لگنے پر وہ اندر ہی اندر ٹوٹ چکی تھی۔ بکھر سی گئی تھی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کِیا جائے۔ آخرکار تھک ہار کر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، رب کی بارگاہ میں گڑگڑا کر دعائیں کرنے لگیں ’’اے اللہ تو سب کے دلوں کا حال بہتر جانتا ہے۔ میرے حق میں جو بہتر ہے وہ معاملہ فرما۔‘‘ آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور رب سے باتیں۔ کب وقت بیتا اسے پتہ ہی نہ چلا۔
دوسرے روز فہد آفس کے لئے نکل ہی رہا تھا کہ اسے کچھ یاد آیا وہ جھٹ اپنے کمرے میں گیا۔ اور فائل ڈھونڈنے لگا لیکن فائل ندارد۔ فائل اپنی جگہ نہ پا کر وہ ہنگامہ برپا کرنے لگا اور سعدیہ کو ڈانٹ ڈپٹ کی۔ سارا گھر سر پہ اٹھا لیا۔ اسی بات پر دونوں کی آپس میں پھر بحث و تکرار ہوئی۔
 
 جس سے سعدیہ اس قدر دلبرداشتہ ہوئی کہ اس کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلیں ’’آپ مجھے چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔ اتنی اذیتیں اور ذلت و رسوائی سے بہتر ہے آپ مجھے اپنے حال پر چھوڑ دیں۔‘‘
اتنا سننا تھا کہ فہد تلملا اُٹھا اس کا ہاتھ اٹھ گیا لیکن ضبط کرکے اس نے اپنے ہاتھ کو روک لیا۔ سخت لہجے میں سعدیہ سے کہا ’’اب کہہ دیا دوبارہ یہ بات مت کہنا.... مَیں نے چھوڑنے کے لئے تم سے شادی نہیں کی۔ یہ کوئی کھیل نہیں ہے....‘‘ اور غصے سے وہاں سے نکل گیا۔
سعدیہ اس کا یہ انداز دیکھ کر ٹھٹک کر رہ گئیں۔ فہد کا اس قدر غصہ دیکھ وہ اپنے آپ پر ہی لعنت ملامت کرنے لگیں۔ وہ اس قدر غمگین و پریشان تھی گویا کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہو۔ دل اچاٹ سا تھا کسی کام میں توجہ مرکوز نہیں کر پا رہی تھی۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد تھوڑا اطمینان ہوا تو پھر خود کو مصروف رکھنے کے لئے کمرے کی ڈسٹنگ شروع کی۔ کمرے میں رکھے بک شیلف کی صفائی کے دوران کتابوں کو ترتیب سے رکھتے وقت اس کے ہاتھ ایک ڈائری لگی۔ اسے کھولتے ہی وہ دنگ رہ گئی۔ جن سوالوں کے جواب وہ چاہتی تھی وہ سارے جوابات اس میں موجود تھے۔ وہ جوں جوں صفحے پلٹتی، ہر منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا۔
فہد کا سارا ماضی اس ڈائری میں قید تھا۔ وہ حیران ہوگئی کہ یہ سخت لہجے والا شخص اتنا نرم دل بھی ہوسکتا ہے۔ اب اسے سمجھ آیا کہ اس کا غصہ کرنا، چیخناچلّانا ایک درد تھا گہرا درد، جو اندر ہی اندر اسے کھائے جا رہا تھا اور وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے اپنائیت اور محبت کی ضرورت تھی۔ بچپن میں والدہ کے چھوڑ جانے سے اس کے دل میں عورت ذات کے لئے جو نفرت پیدا ہوچکی تھی وہ آج تک نکل نہیں پائی تھی۔ وہ ہر عورت کو بے وفا، خود غرض اور مطلب پرست ہی سمجھتا رہا۔ اس کا عورت ذات سے یقین و اعتماد ہی اُٹھ چکا تھا۔ وہ لاکھ چاہنے پر بھی اپنی محبت ظاہر نہیں کر پاتا۔ شاید اسے محبت کا اظہار کرنا ہی نہ آتا ہو۔ ہر صفحے کی اپنی ایک کہانی، ایک درد تھا۔ شاید حالات نے اسے ایسا بننے پر مجبور کیا تھا۔ وہ جوں جوں صفحے پلٹتی آنکھوں سے آنسو بہتے۔ کس قدر درد و تکلیف سے زندگی گزاری ہے اس شخص نے، لیکن کچھ احساس بھی نہ ہونے دیا۔
امی کے وہ الفاظ اسے یاد آئے کہ اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ اسے افسوس ہوا کہ وہ بھی فہد کو سمجھ نہ پائی اور نہ اس کے درد کو دیکھ پائی۔ لیکن اب اسے سب سمجھ آگیا تھا۔ اس نے قلم اُٹھایا اور ڈائری کے آخری صفحے پر لکھنا شروع کیا:
مَیں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کی ڈائری کو بغیر اجازت پڑھا۔ لیکن یہ میرے لئے ضروری تھا ورنہ میں آپ کو کبھی سمجھ ہی نہیں پاتی اور شاید آپ یہ ساری باتیں مجھے بتا نے کی ہمت ہی نہیں کرپاتے۔ آپ کے درد بہت گہرے ہیں۔ بہت افسوس ہوا۔ لیکن اب ہم دونوں مل کر اس درد کا مداوا کریں گے۔ اور خوشحال رہیں گے، ان شاء اللہ۔
اسی روز سے اس نے خود کو بدلنے کا مصمم ارادہ کر لیا کہ اب وہ ہر وقت اس کی خدمت میں لگی رہیں گی، اس کے ہر حکم کی تعمیل کریں گی۔ اسے خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔ اس کے درد کی شدت کا جو احساس ہوا اس نے اسے یکسر بدل کے رکھ دیا۔
آفس سے آنے پر فہد جب روم میں داخل ہوا تو روم کی سیٹنگ اور صفائی دیکھ کر کہنے لگا ’’اچھا.... تو آج صفائی ہوئی ہے۔ سعدیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں! آج روم کے ساتھ ساتھ دل کی بھی سیٹنگ اور صفائی ہوئی ہے۔‘‘ فہد مسکرایا۔ اسے سعدیہ کا یہ بدلتا رویہ عجیب سا لگا۔ اور خوشی بھی ہوئی۔ دھیرے دھیرے فہد کے مزاج میں بھی نرمی اتر آئی۔
دوسرے روز وہ دونوں ناشتے کی میز پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ ابو کا فون آیا۔ وہ بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ انہوں نے سعدیہ سے کہا ’’سعدیہ بیٹا! تم ابھی گھر آؤ۔ تمہاری امی کی طبیعت خراب ہوگئی ہے۔‘‘
فہد جو سامنے بیٹھا ساری باتیں سن چکا تھا فوراً اُٹھ کھڑا ہوا اور دونوں جانے کے لئے روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچتے ہی انہیں فوراً اسپتال لے جایا گیا اور نگہداشت والے روم میں رکھا گیا۔ امی کی ایسی حالت دیکھ کر سعدیہ نے ان کے پاس رکنے کا ارادہ ظاہر کیا تو فہد کو نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کرنی پڑی۔
سعدیہ کو وہیں چھوڑ کر فہد جب گھر لوٹا تو گھر میں داخل ہوتے ہوئے اسے ویرانی محسوس ہوئی۔ گھر میں اداسی سی چھائی تھی۔ اسے سعدیہ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ اس کی یادوں میں کھوئے ہوئے بہت دیر یوں ہی بیٹھے رہنے کے بعد فہد جب سونے کے لئے اپنے بیڈ پر گیا تو اسے نیند نہ آئی۔ بہت کوششوں کے بعد بھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
بالآخر اٹھا اور اپنی بک شیلف میں کتابیں دیکھنے لگا۔ اس کی نظر جوں ہی ڈائری پر پڑی جھٹ سے ڈائری نکال کر دیکھنے لگا اور صفحے پلٹنے لگا۔ جب آخری صفحے کی تحریر پر نظر پڑی تو وہ دنگ رہ گیا۔ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
دوسرے روز صبح سویرے ہی فہد سعدیہ کی امی کے گھر پہنچ گیا۔ اسے صبح صبح یہاں دیکھ سعدیہ چونکی۔ جس پر فہد نے اسے ساری روداد سنائی جسے سن کر سعدیہ مسکرائی۔ فہد نے اسے ابھی اپنے ساتھ لے جانے کی بات کی جس پر سعدیہ بھی راضی ہوگئی۔ امی کی حالت اب بہتر تھی اور ڈسچارج بھی مل چکا تھا۔ امی ابو نے دعاؤں کے ساتھ انہیں رخصت کیا۔ دونوں نے سارے راستے خوب باتیں کی، ایک دوسرے کو اپنے اپنے حالات و معاملات سے آگاہ کیا۔ پھر سعدیہ نے موقع کو غنیمت جان کر فہد کو محبت سے بتایا کہ ’’ہر رشتے کی بنیاد یقین اور اعتماد ہے جس کے بغیر ہر رشتہ کھوکھلا ہوتا ہے۔ ہر رشتے میں ایک دوسرے کے جذبات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر عورت بے وفا، خود غرض اور مطلب پرست ہوتی ہے۔ اسے حالات ہی ایسا بنا دیتے ہیں۔ یا پھر وہ مجبور ہوتی ہے۔ لیکن کسی ایک کی سزا سب کو دینا سراسر ناانصافی ہے۔ ہر ایک کے الگ الگ معاملات ہوتے ہیں۔ اسی کی بنا پر فیصلہ کرنا چاہئے۔ زندگی کی تلخیاں ہر ایک کو سمجھدار بنا ہی دیتی ہے۔‘‘
فہد نے مسکرا کر کہا ’’ہاں! تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔‘‘
اب فہد کو بھی سب سمجھ میں آگیا تھا۔ اب وہ دونوں خوشی خوشی اپنے گھر لوٹ آئے اور خوشگوار زندگی گزارنے لگے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK