Updated: March 08, 2026, 11:31 PM IST
| Ahmedabad
ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے وہ کر دکھایا جو آج تک کوئی ٹیم نہ کر سکی۔ نیوزی لینڈ کو ایک یکطرفہ مقابلے میں شکست دے کر ہندوستان ۳؍ ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ خطاب جیتنے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ہندوستان اپنا خطاب کامیابی سے بچانے والا بھی پہلا ملک بن گیا ہے۔
ہندوستانی کھلاڑی۔ تصویر:پی ٹی آئی
ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے وہ کر دکھایا جو آج تک کوئی ٹیم نہ کر سکی۔ نیوزی لینڈ کو ایک یکطرفہ مقابلے میں شکست دے کر ہندوستان ۳؍ ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ خطاب جیتنے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ہندوستان اپنا خطاب کامیابی سے بچانے والا بھی پہلا ملک بن گیا ہے۔ہندوستان نے نیوزی لینڈ کو ۲۵۶؍رن کا ہدف دیا لیکن کیوی ٹیم ۱۵۹؍رن پر آؤٹ ہوگئی اور ہندوستان نے میچ ۹۶؍رن سے جیت لیا۔
ابھیشیک شرما، سنجو سیمسن اور ایشان کشن نے نیوزی لینڈ کے بولرس کو بے بس کر دیا۔ ہندوستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک ایسا پہاڑ جیسا اسکور کھڑا کیا جس نے کیوی ٹیم کو نفسیاتی طور پر میچ سے باہر کر دیا۔ ۲۵۵؍ رنز کے دفاع میں جسپریت بمراہ اور اکشر پٹیل نے نپی تلی بولنگ کی۔ بمراہ کی یارکرز اور اکشر کی گھومتی گیندوں نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
ٹم سیفرٹ کی مزاحمتی نصف سنچری کے علاوہ کوئی بھی کیوی بلے باز ہندوستانی بولرز کا مقابلہ نہ کر سکا۔ نیوزی لینڈ کے لیے یہ ۱۱؍برسوںمیں پانچواں وائٹ بال فائنل تھا جس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ فتح ۲۶۔۲۰۲۴ء کے دور کا ایک بہترین اختتام ہے۔ ہندوستان اس پورے عرصے میں ٹی ۲۰؍ فارمیٹ کی سب سے طاقتور ٹیم رہی ہے اور آج اس ٹرافی نے اس بات پر مہر لگا دی ہے۔
سنجو سیمسن کی کہانی اس ورلڈ کپ کی سب سے خوبصورت داستان ہے۔ وہ ٹورنامنٹ کے آغاز میں پہلی الیون کا حصہ بھی نہیں تھے، لیکن انہوں نے کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور اب فائنل میں ۸۹؍رنز کی اننگز کھیل کر ثابت کر دیا کہ وہ ایک ’’ورلڈ کلاس‘‘ کھلاڑی ہیں۔
اس سے قبل ہندوستانی اوپنرز ابھیشیک شرما اور سنجو سیمسن کی برق رفتار بیٹنگ کی بدولت ہندوستان نے مقررہ ۲۰؍ اوورز میں ۵؍وکٹ پر ۲۵۵؍رن کا ہمالیائی اسکور کھڑا کر دیا ہے۔ہندوستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل میں بیٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف اس گراؤنڈ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے بلکہ ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کی تاریخ کا تیسرا بڑا مجموعی اسکور بھی بنا ڈالا ہے۔ یہ اسکور اس سے بھی زیادہ ہے جو ہندوستان نے محض ۳؍ دن پہلے ممبئی میں انگلینڈ کے خلاف بنایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:میسی کا ۸۹۹؍واں گول: انٹر میامی کی ڈی سی یونائیٹڈ کے خلاف شاندار جیت
ایک وقت پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہندوستان بلے باز آج ۳۰۰؍ رنز کا جادوئی ہندسہ عبور کر لیں گے جو ٹی ۲۰؍کرکٹ میں ایک غیر معمولی کارنامہ ہوتا۔۱۶؍ ویں اوور میں جیمی نیشام نے نقشہ بدل دیا۔ انہوں نے ایک ہی اوور میں ۳؍وکٹ حاصل کر کے ہندوستان کی رنز بنانے کی رفتار کو بریک لگا دی۔ آخری اوورز میں جب ایسا لگ رہا تھا کہ مومینٹم ختم ہو گیا ہے، شیوم دوبے نے اپنی طاقتور ہٹنگ سے ٹیم کو سنبھالا اور ڈیتھ اوورز میں رنز کی برسات کر کے اسکور کو ایک بار پھر بلندیوں تک پہنچا دیا۔
ابھیشیک نے محض ۱۸؍ گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، جو ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کے کسی بھی ناک آؤٹ میچ (سیمی فائنل یا فائنل) میں تیز ترین ففٹی ہے۔ انہوں نے ۲؍ گیندوں پر ۵۲؍رنز بنائے۔ سنجو سیمسن نے۸۹؍رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ وہ شاہد آفریدی (۲۰۰۹ء) اور وراٹ کوہلی (۲۰۱۴ء) کے بعد دنیا کے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے ایک ہی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور فائنل دونوں میں نصف سنچریاں اسکور کیں۔
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کی غیر موجودگی میں سیماکان کا جادو، النصر ٹاپ پر قابض
ہندوستان نے پہلے ۶؍ اوورز میں بغیر کسی نقصان کے ۹۲؍ رنز بنائے، جو فائنل جیسے بڑے میچ میں ایک ریکارڈ ہے۔ ایشان کشن نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور صرف۲۳؍ گیندوں پر۵۴؍ رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ جیمی نیشام نے ۱۶؍ ویں اوور میں سیمسن، ایشان کشن اور کپتان سوریا کمار یادو (صفر) کو آؤٹ کر کے ہیٹ ٹرک کے قریب پہنچ گئے تھے، لیکن شیوم دوبے ( ناٹ آؤٹ ۲۶؍رن ) نے آخری اوورز میں ہندوستان کو ۲۵۰؍رن کے پار پہنچا دیا۔