Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: ہائے وہ اشک

Updated: June 01, 2026, 3:01 PM IST | Maryam Bint Mujahid Nadwi | Mumbai

عبیر کی آنکھیں پچھلے دنوں کا احوال سنا رہی تھیں۔ اس کا مرجھایا ہوا چہرہ اور آنکھوں کی ویرانی دیکھنے والے دلوں کو گداز کر رہے تھے۔ آج حدید کا سوئم تھا۔ گھر میں مہمانوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا۔ قریبی رشتے دار بھی تین دن سے وہیں رہ رہے تھے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

عبیر کی آنکھیں پچھلے دنوں کا احوال سنا رہی تھیں۔ اس کا مرجھایا ہوا چہرہ اور آنکھوں کی ویرانی دیکھنے والے دلوں کو گداز کر رہے تھے۔ آج حدید کا سوئم تھا۔ گھر میں مہمانوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا۔ قریبی رشتے دار بھی تین دن سے وہیں رہ رہے تھے۔ مہمانوں کی خاطر مدارات، ان کیلئے چائے، گھر پر رکے رشتےداروں کے تین وقت کے کھانوں کا انتظام؛ اوپر سے بچوں نے الگ گھر سر پر اٹھایا ہوا تھا۔ چاروں نندیں عبیر کی مدد کر رہی تھیں، مگر زیادہ تر کام اسی کے کاندھوں پر تھا؛ کیونکہ وہ لوگ آنے والوں کے ساتھ بیٹھ کر تعزیتیں قبول کر رہی تھیں، عبیر زیادہ تر کام اکیلی ہی کر رہی تھی۔

کچھ دیر پہلے ہی حدید کی خالہ کے سسرال والوں کو رخصت کرکے عبیر کچن کا کام سمیٹنے آئی تھی۔ وہ ابھی ایک ایکسٹرا چائے کی پیالی کو دیکھ ہی رہی تھی، جسے بے خیالی میں اس نے حدید کے لئے بنائی تھی؛ کہ پیچھے پیچھے اس کی چار سالہ بیٹی رابعہ بھی اس کا دامن پکڑے چلی آئی۔ ’’مما، بابا کو تتنا (کتنا) تائم لگے گا آنے میں؟ دش (دس) بج گئے نا....‘‘ رابعہ کا جملہ ختم ہونے تک عبیر کے رخسار پر آنسوؤں کی لڑیاں اتر چکی تھیں۔ سنک پر رکھے اپنے ہاتھوں کی گرفت کو مضبوط کرتے ہوئے عبیر نے پوری کوشش کی تھی کہ اس کی آواز کی کپکپاہٹ ظاہر نہ ہو۔ ’’بیٹا، اپنے کمرے میں جاؤ۔‘‘ اس کے دوسری بار کہنے پر رابعہ منہ پھلا کر چلی تو گئی، مگر جاتے وقت دو بار اس نے مڑ کر اپنی مما کو دیکھا تھا۔ کتنا آسان ہوتا ہے نا یہ کہنا کہ کسی شخص کے جانے سے دنیا اجڑ نہیں جاتی، لیکن اس بات کا اندازہ تو انہی لوگوں کو ہوتا ہے جنہوں نے اپنی جان سے زیادہ عزیز لوگ کھوئے ہیں؛ جن کے جانے سے ان کی دنیا میں ایک خلا سا آجاتا ہے، جن کا نعم البدل نہیں ملتا۔ عبیر پچھلے تین دنوں سے لوگوں کی باتیں سن سن کر جس کرب سے گزر رہی تھی، اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا۔ اس لئے کہ دوسرے کا غم ہمارے لئے صرف افسوس کی حد تک ہی رہتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔ جیسے کسی کہنے والے نے کہا ہے: دوسروں کی آنکھ کے آنسو ہمارے لئے صرف پانی ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دروازے کے اس پار

خیر، عبیر کا حال تو اب یہ ہوچکا تھا کہ رات میں سونے کے لئے بستر پر لیٹتی تو ساری رات بس کروٹیں ہی بدلتی رہتی، نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہوتی؛ مستقبل سے متعلق سو خدشے الگ اس کے دل کو گھیرے رکھتے۔ وہ سوئے ہوئے ننھے رابعہ اور انجم کو دیکھتی تو مستقبل کے متعلق ہزاروں سوالات اس کے ذہن میں ابھر آتے جن کا جواب وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔

گھر آئی عورتوں کی گفتگو عبیر کو ہمہ وقت کانوں میں گونجتی محسوس ہوتی۔ کبھی کوئی کہتا ’’میری پڑوسن کے میاں کا بھی ایکسیڈنٹ ہوا تھا، اس نے رات رات بھر دعائیں مانگیں، اور رو رو کر اللہ سے مدد مانگی، اس کا شوہر ٹھیک ہوگیا تھا۔ اللہ سبھی کی سنتا ہے، بس کبھی کبھی بندے کی طرف سے ہی کمی رہ جاتی ہے....‘‘ عبیر کی طرف کن انکھیوں سے دیکھتی۔ کوئی دوسری خالہ اپنی رائے کا اظہار کرتیں ’’کیا خبر دونوں کا جھگڑا ہوا ہو اور اسی ٹینشن میں حدید تیز ڈرائیونگ کے دوران ہی....؟‘‘ اُدھر چاچی کو الگ ہی فکر ستانے لگتی ’’بیچاری عبیر، سارا کام خود کر رہی ہے۔ اس کے تو آنسو بھی خشک نہیں ہوئے تھے کہ کچن میں کھڑا کر دیا۔‘‘ پھر کسے کوئی اور بات یاد آتی تو کسے کوئی اور۔

اور ایسے تعزیت کے لئے آنے والے عبیر کے دل کا تازہ زخم کرید کر چلے جاتے۔ وہ جواب دینا چاہتی تھی، مگر نہ جانے کیوں اس کے دل میں بحث، جھگڑوں اور صفائیاں: یہ سب بے معنی ہو کر رہ گئی تھیں۔ اسے حدید سے آخری ملاقات یاد آنے لگتی تو وہ گھر کے اضافی کاموں کو لے کر بیٹھ جاتی۔ لیکن وہ دن اسے نہیں بھولتا تھا:

شام کا وقت تھا، بالکل وہی والا موسم تھا جب مئی کی شدید گرمی میں اچانک سے بارش کی چند بوندیں برس کر ماحول میں ایک عجیب مخصوص ٹھنڈک کا احساس پیدا کر دیتی ہے۔ اور جب دل کو گرم گرم پکوڑے اور چائےکی طلب ہونے لگتی ہے۔ اس دن حدید بھی آفس سے جلدی چھٹی لے کر گھر آگیا تھا۔ اور آتے ہی پکوڑوں اور چائے کی فرمائش کر دی تھی۔ چائے کی چسکیاں بھرتے عبیر اور حدید باتوں میں مگن اس سنہرے موسم کا مزہ لے رہے تھے۔

’’مجھے رات میں دعوت میں جانا ہے، آفس کے دوستوں نے رکھی ہے۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘ آپ نے کہا تھا کہ آپ مجھے اور بچوں کو سیر کے لئے لے کر جائیں گے۔‘‘ وہ ناراض ہوگئی۔

موسم میں بھی بھاری پن سا پھیلتا گیا۔ چھوٹی سی بات پر دونوں نے بحث بھی کی۔

اگر عبیر کو معلوم ہوتا کہ اس کے بعد وہ حدید سے پھر کبھی لڑ نہیں پائے گی تو وہ اس سے ناراض نہ ہوتی۔ حدید کے جانے کے تھوڑی دیر بعد اس کا فون آیا جسے نہ چاہتے ہوئے بھی عبیر نے اٹھا لیا؛ سلام نہ کلام، حدید نے بس اتنا کہا کہ ’’مَیں آئس کریم لاؤں گا، سو مت جانا۔‘‘

عبیر غصے میں بھی مسکرا گئی۔ لیکن پھر جب اگلی بار فون آیا تو عبیر اس کے انتظار میں ٹہل رہی تھی؛ حدید کے ایکسیڈنٹ کی خبر آئی جسے سن کر عبیر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی۔ اور جب تک اس کی حالت سنبھلی، ایک ہنستا مسکراتا بات کرتا ہوا گھر سے لوٹ کر جانے والا شخص بلا حس و حرکت سفید کپڑے میں گھر لوٹ چکا تھا۔ شاید کچھ عورتیں اس اذیت کا اظہار چھوٹی موٹی باتوں پر لڑ جھگڑ کر، چیخ چلا کر کرتی ہیں، تو کوئی عبیر کی طرح چپ کی چادر اوڑھ لیتی ہیں۔ اس نے گھر کے لاتعداد کاموں کا بوجھ خود پر لے لیا تھا، اور کوئی شکوہ نہیں کیا تھا کہ شاید کام کرتے وقت ذہن اور دل یادوں کے حصار سے آزاد رہے، مگر ناکام۔

یہ بھی پڑھئے: قربانی، اخلاص اور خواتین کی ذمہ داریاں

عبیر خیالوں کا سفر کرتی نہ جانے کہاں تھی کہ بیلن پٹکنے کی آواز پر ڈر کر پیچھے پلٹی۔ ’’مَیں کب سے آوازیں دے رہی ہوں۔‘‘ آمنہ (عبیر کی نند) نے کہا ’’مہمان آئے ہیں، ان کے لئے چائے بناؤ۔‘‘

آمنہ کو شاید کچھ اور بھی کہنا تھا مگر اسے عبیر کی آنکھوں کی ویرانی سے خوف سا آیا، یا اس کی حالت پر رحم، اس نے کچھ اور کہنے کے بجائے اتنا ہی کہا اور چلی گئی۔

چائے بنا کر بیٹھک میں داخل ہوتی عبیر کے قدم وہیں رک گئے جب اس نے کسی کی آواز سنی۔ اس کے ہاتھ سے چائے کی ٹرے گرتے گرتے بچ گئی۔

’’قدسیہ آپا (عبیر کی ساس)، گھروں کا حال گھر کے مکین ہی جانتے ہیں۔ مگر مجھے نہیں لگتا کہ حدید کی پنشن سے اتنے لوگوں کا گزارا ممکن ہوگا۔‘‘ سرگوشی کے انداز میں بات جاری رکھی گئی، ’’میری مانیں تو عبیر کو رابعہ اور انجم کے ساتھ ابھی اپنی امی کے پاس روانہ کر دینا بہتر ہے۔ ویسے بھی، عبیر کو اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں بھی سوچنا ہے۔ دونوں بچیوں کی ذمہ داری نانا نانی اٹھا لیں گے۔‘‘

اپنے خیالات کے پیالے کو انڈیلتے ہوئے اس خاتون کو یہ تک محسوس نہیں ہوا کہ یہ خیالات کسی کے دل پر گرم سیال بن کر گر رہے ہوں گے؟ حدید کے جانے سے اس کے بچوں کی زندگی پہلے ہی ادھوری ہوچکی تھی، اگر عبیر دوسری شادی کرتی ہے تو اس کی بچیاں دوسری بار یتیم ہوجائیں گی اور وہ مکمل طور پر بکھر جائیں گی۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ ان معصوم پھولوں کو سمیٹنے کیلئے اسے یہی تلخ رویوں کو جھیل کر، اسی گھر میں گزارا کرنا تھا۔ غصے اور غم کے امتزاج کو ہاتھ میں موجود ٹرے کو زور سے پکڑ کر اس نے اپنے جذبا ت کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ بچوں سے بچھڑنے کے خیال سے ہی اس کے حواس باختہ ہوچکے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: دوسروں کی راہ روشن کرنے سے ہماری راہ بھی منور ہوتی ہے

اس نے ایک گہری سانس لی، دوپٹہ درست کیا، اور ایک فیصلہ کرتی روم میں داخل ہوگئی۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ اپنی بچیوں کو اپنے بوڑھے والدین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی۔ حدید کے بعد کوئی اور اس کی زندگی میں اب نہیں آئے گا۔ ٹھیک ہے، اس کے ہمدرد لوگ اس کو بہت ڈرائیں گے۔ زمانہ خراب ہونے کی دہائی دیں گے۔ ایک جوان عورت کو آج کے معاشرے میں درپیش مسائل کا واسطہ دیں گے۔ لیکن اس نے ایک آہنی ارادہ کر لیا تھا، اور وہ اس پر تاحیات قائم رہنا چاہتی تھی۔ باہر آنے کو بیتاب آنسوؤں کو اندر دھکیلتے ہوئے، عبیر نے کمرے میں موجود لوگوں کو سلام کیا اور وہی ’ہمدردی کے دو بول‘ سننے کے لئے صوفے پر بیٹھ گئی۔ ہر جملہ وہ کئی بار سن چکی تھی، مگر اس بار فرق یہ تھا کہ اس کے رخسار آنسوؤں سے تر نہیں ہوئے تھے۔ اس نے محسوس کرلیا تھا کہ اس کے آنسوؤں کے ریلے اس کو دنیا کی نظر میں کمزور ثابت کررہے تھے۔ اور اسی کمزوری کے علاج کے لئے دوسری شادی، اس کے اپنے بچوں سے جدائی.... اس قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔ جن پر وہ ایک مکمل فل اسٹاپ لگا دینا چاہتی تھی۔

اس کے اطراف میں رسماً ادا کئے جانے والے تعزیتی کلمات کا ایک شور برپا تھا۔ اس سب کے بیچ اپنی ہاتھوں کو گھورتی ہوئی عبیر کو ادا جعفری کی نظم کا ایک مصرعہ یاد آیا، جس کا پورا مطلب اسے آج سمجھ آیا تھا:

ہائے وہ اشک جو پلکوں سے ڈھلک بھی نہ سکے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK