Inquilab Logo Happiest Places to Work

روبوٹ امپائرز: انسانی ریفری اسٹار کھلاڑیوں کے حق میں لاشعوری طور پر جھکاؤ رکھتے ہیں

Updated: July 16, 2026, 4:08 PM IST | Seoul

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوران ریفریز پر جانبداری اور بعض ٹیموں یا بڑے کھلاڑیوں کے حق میں فیصلے کرنے کے الزامات کے درمیان ایک نئی تحقیق نے انسانی فیصلوں میں ممکنہ تعصب کی نشاندہی کی ہے۔

Messi.Photo:X
لیونل میسی۔ تصویر:ایکس

جنوبی کوریا کی کوریا بیس بال آرگنائزیشن (کے بی او) نے ۲۰۲۴ء کے سیزن میں  روبوٹ امپائرز  متعارف کرائے تھے، جو پچ ٹریکنگ سینسرز اور کیمروں کی مدد سے یہ طے کرتے ہیں کہ گیند اسٹرائیک زون میں آئی ہے یا نہیں۔ آٹومیٹک بال-اسٹرائیک  (اے بی ایس) نظام کا فیصلہ انسانی امپائر کو موصول ہوتا ہے، جو پھر حتمی اعلان کرتا ہے۔
مشی گن یونیورسٹی کی تحقیق
یونیورسٹی آف مشی گن کے محققین نے اس نظام کے اثرات کا جائزہ لیا۔ ان کے مطابق، روبوٹ سسٹم متعارف ہونے سے پہلے انسانی امپائرز ممکنہ طور پر لاشعوری طور پر معروف اور بڑے نام والے کھلاڑیوں کے حق میں سرحدی (Borderline) گیندوں پر نرم فیصلے کرتے  تھے۔تحقیق کی شریک مصنفہ اور کائنیسیولوجسٹ  جیمن سونگ  نے کہا’’اے بی ایس  سے پہلے جب کوئی بڑا اسٹار بلے بازی کر رہا ہوتا تھا تو امپائرز ممکنہ طور پر بارڈر لائن گیندوں پر اس کے حق میں زیادہ سازگار فیصلے دیتے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ باضابطہ طور پر سوہم شاہ اور نوازالدین صدیقی کی فلم ’’تمباڑ۲ ‘‘میں شامل


روبوٹ امپائرز کے بعد کیا بدلا؟
تحقیق کے مطابق اے بی ایس کے نفاذ کے بعد معروف بلے بازوں کی  سٹرائیک زون سے متعلق کارکردگی  میں نمایاں کمی دیکھی گئی  جبکہ ان کی مجموعی بیٹنگ کارکردگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔محققین کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کی صلاحیت میں فرق نہیں آیا بلکہ  امپائرز کے فیصلوں کا انداز بدل گیا۔البتہ یہی رجحان بڑے نام والے پچرز (Pitchers) میں واضح طور پر نظر نہیں آیا کیونکہ انہیں مختلف حالات میں کم مواقع ملتے ہیں۔
صرف کھیل ہی نہیں، دیگر شعبوں کے لیے بھی سبق
تحقیق کے شریک مصنف  رچرڈ پالسن  نے کہا’’کچھ فیصلے، جیسے بال یا اسٹرائیک کا تعین یا آؤٹ آف باؤنڈز کال، مکمل طور پر معروضی ہوتے ہیں اور انہیں آسانی سے خودکار بنایا جا سکتا ہے۔‘‘محققین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کا اطلاق صرف کھیلوں تک محدود نہیں بلکہ دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں میں بھی ہو سکتا ہے، جہاں طاقت یا شہرت فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ناگالینڈ: دہشت گرد حملے میں حوالدار محمد اقبال شہید، سرحدی گاؤں میں سوگ


تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انسانی فیصلہ سازی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتی  کیونکہ کئی ایسے معاملات ہوتے ہیں جن میں انسانی فہم اور حالات کا جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ البتہ انہوں نے سفارش کی کہ  جانبداری کم کرنے کے لیے بلائنڈ پرفارمنس ریویو اور غیر جانبدارانہ جائزہ نظام کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK