Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسلامیات کے ممتاز امریکی اسکالر پروفیسر جان ایل ایسپوزیٹو کا انتقال

Updated: July 16, 2026, 3:28 PM IST | Washington

اسلام، بین المذاہب تعلقات اور مسلم دنیا پر اپنی گہری علمی خدمات کے لیے عالمی شہرت رکھنے والے امریکی محقق پروفیسر جان ایل ایسپوزیٹو ۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر اور پرنس الولید سینٹر فار مسلم کرسچن انڈرسٹینڈنگ کے بانی ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے اسلام اور مغرب کے درمیان علمی مکالمے کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

John L. Esposito. Photo: X
جان ایل ایسپوزیٹو۔ تصویر: ایکس

اسلام، مسلم دنیا اور بین المذاہب تعلقات کے عالمی شہرت یافتہ امریکی اسکالر پروفیسر جان ایل ایسپوزیٹو ۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے بین الاقوامی علمی دنیا ایک ایسے محقق سے محروم ہو گئی ہے جس نے کئی دہائیوں تک اسلام، مسلم معاشروں اور مغرب کے ساتھ تعلقات پر تحقیق، تدریس اور مکالمے کو نئی جہت دی۔ پروفیسر ایسپوزیٹو جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں مذہب اور بین الاقوامی امور کے ممتاز پروفیسر تھے اور انہیں اسلام اور مسلم دنیا اور مغرب تعلقات کے حوالے سے دنیا کے صفِ اول کے ماہرین میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی میں درجنوں کتابیں تصنیف، تدوین اور مشترکہ طور پر تحریر کیں، جنہوں نے اسلام کے بارے میں عالمی علمی اور عوامی فہم کو گہرے انداز میں متاثر کیا۔ انہوں نے اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم معروف اسلامی مفکر اور اسکالر ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی کی نگرانی میں مکمل کی، جس نے ان کی علمی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ناگالینڈ: دہشت گرد حملے میں حوالدار محمد اقبال شہید، سرحدی گاؤں میں سوگ

پروفیسر ایسپوزیٹو کی نمایاں تصانیف میں ’’Shariah: What Everyone Needs to Know‘‘، ’’The Future of Islam‘‘، ’’What Everyone Needs to Know About Islam‘‘، ’’Who Speaks for Islam? What a Billion Muslims Really Think‘‘، ’’Islam and Democracy After the Arab Spring‘‘، ’’Religion and Violence‘‘ اور ’’Islamophobia: The Challenge of Pluralism in the 21st Century‘‘ شامل ہیں۔ ان کتابوں کو دنیا بھر کی جامعات اور تحقیقی اداروں میں بطور مستند حوالہ استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے متعدد اہم علمی منصوبوں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ The Oxford Encyclopedia of the Modern Islamic World، The Oxford History of Islam، The Oxford Dictionary of Islam، The Oxford Encyclopedia of the Islamic World اور Oxford Islamic Studies Online کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں انہوں نے پرنس الولید بن طلال سینٹر فار مسلم کرسچن انڈرسٹینڈنگ کی بنیاد رکھی، جو اسلام، عیسائیت اور بین المذاہب مکالمے پر دنیا کے نمایاں تحقیقی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس ادارے کے ذریعے انہوں نے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان علمی تعاون اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ پروفیسر ایسپوزیٹو کی خدمات صرف تدریس اور تحقیق تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے کئی بین الاقوامی اداروں میں بھی نمایاں ذمہ داریاں انجام دیں۔ ۱۹۸۸ء میں وہ Middle East Studies Association of North America  (میسا) کے صدر منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ American Academy of Religion اور American Council for the Study of Islamic Societies کے بھی صدر رہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: کلکٹر کی عوام سے ایس آئی آر فارم جمع کروانے کی اپیل

انہوں نے Center for the Study of Islam and Democracy کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، جبکہ ورلڈ اکنامک فورم کی Council of 100 Leaders، اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیب (UN Alliance of Civilizations) کے اعلیٰ سطحی گروپ اور یورپی یونین کے European Network of Experts on De-radicalisation کے بھی رکن رہے۔ اسلام کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے انہوں نے علمی تحقیق کے ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ وہ PBS کی ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’’Muhammad: Legacy of a Prophet‘‘ کے مشیر بھی تھے، جسے Unity Productions Foundation نے 2002 میں تیار کیا تھا۔

اسلامیات اور مذہب کی عوامی تفہیم کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں American Academy of Religion کا Martin E. Marty Award for the Public Understanding of Religion، پاکستان کا قائداعظم ایوارڈ برائے اسلامک اسٹڈیز اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی اسکول آف فارن سروس کا Outstanding Teaching Award شامل ہیں۔ پروفیسر جان ایل ایسپوزیٹو کی وفات علمی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دی جا رہی ہے۔ اسلام، بین المذاہب تعلقات اور عالمی مکالمے کے فروغ میں ان کی خدمات آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک اہم علمی سرمایہ سمجھی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK