• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: حدود

Updated: November 03, 2026, 1:56 PM IST | Ansari Zara Naseem Akhtar | Mumbai

ہر انسان کی زندگی میں کچھ حدود کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں جو رشتوں کو خراب نہیں کرتے بلکہ انسان کی عزت، سکون اور دل کی حفاظت کرتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
ہر انسان کی زندگی میں کچھ حدود کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں جو رشتوں کو خراب نہیں کرتے بلکہ انسان کی عزت، سکون اور دل کی حفاظت کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایک عورت کی زندگی میں اپنی حدود پہچاننا بہت ضروری ہے، کیونکہ بعض اوقات غلط انسان پر کیا گیا اندھا اعتبار زندگی سے صرف ایک شخص نہیں، بلکہ سکون بھی چھین لیتا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک خوبصورت سی لڑکی، اجالا کی۔
اجالا اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی، ان کی لاڈلی اور دل سے پیاری۔ اللہ نے اسے ہر نعمت سے نوازا تھا۔ اچھا گھر، محبت کرنے والے والدین، دولت، خوبصورتی اور ذہانت۔ پڑھائی میں بھی وہ بہت اچھی تھی۔ یونیورسٹی کا پہلا سال چل رہا تھا جب ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں اس کی ملاقات زین سے ہوئی۔
پروجیکٹ کے دوران دونوں کی بات چیت ہوئی، دوستی بڑھی اور پھر نہ جانے کب یہی دوستی محبت میں بدل گئی۔
زین ذہانت اور تعلیم میں بہت آگے تھا۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی اعتبار سے بھی وہ ایک اچھا انسان تھا۔ نماز کا پابند تھا، تہجد پڑھتا تھا اور اللہ سے محبت کی باتیں کرتا تھا۔
اجالا کو زین کا یہ دیندار ہونا بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ خود بھی نماز پڑھتی تھی، مگر زین جیسی عبادت گزار نہیں تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچتی کہ جو انسان اپنے رب سے اتنی محبت کرتا ہے، وہ مجھے بھی ہمیشہ محبت دے گا۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں کی قربت بڑھتی گئی۔
پھر تعلیم مکمل ہونے کے بعد زین ملازمت کے سلسلے میں دوسرے ملک چلا گیا، مگر اجالا سے رابطہ برقرار رہا۔ اجالا کی تعلیم بھی مکمل ہوئی تو اس کے والدین نے اس کی شادی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ اپنی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی کو دلہن بنتے دیکھنا ان کا سب سے بڑا خواب تھا۔
لیکن اجالا نے کچھ وقت مانگ لیا۔
زین ابھی نئی ملازمت میں تھا، اس لئے اجالا کو امید تھی کہ کچھ وقت بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کچھ ماہ گزرے تو اجالا کے لئے اچھے گھرانوں سے رشتے آنے لگے، مگر وہ ہر بار انکار کر دیتی۔
اس کے والدین حیران تھے کہ آخر ان کی بیٹی کو اعتراض کس بات پر ہے۔
ایک دن اجالا نے فون پر زین کو سب کچھ بتا دیا۔ زین نے اسے یقین دلایا کہ وہ ملک واپس آتے ہی اپنے والدین سے اس کے بارے میں بات کرے گا۔
اجالا خاموش ہوگئی۔
 
 
اس نے زین پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اگر دنیا میں کوئی شخص ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑا رہے گا تو وہ زین ہوگا۔ وہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔
کچھ ماہ بعد زین واپس اپنے ملک آگیا۔ اجالا سے ملاقات بھی ہوئی، مگر اس نے ابھی تک اپنے گھر والوں سے اجالا کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ جبکہ اُجالا کے والدین اپنی بیٹی کی پسند پر راضی تھے....
اجالا کا اصرار بڑھتا گیا....
آخر ایک دن زین نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والدین سے بات کرے گا....
لیکن اسکے والدین نے صاف انکار کر دیا۔
زین کا خاندان پسند کی شادی کے سخت خلاف تھا۔ انہوں نے زین کو سمجھایا کہ جو لڑکی شادی سے پہلے کسی تعلق میں رہی ہو، وہ گھر نہیں بسایا کرتی۔
زین نے بہت سمجھانے کی کوشش کی، مگر اس کے والدین نہیں مانے۔
اور پھر زین نے ہار مان لی۔
اس نے اجالا کے لئے اپنے والدین کے سامنے مزید کھڑے ہونے کی ہمت نہیں کی۔
کچھ دن بعد....
اجالا نے زین کو فون کیا زین، تم نے گھر والوں سے بات کی؟ وہ راضی ہوگئے نا؟ بتاؤ، تم خاموش کیوں ہو؟
اجالا، میرے گھر والے اس رشتے کیلئے راضی نہیں ہیں۔ وہ پسند کی شادی کیخلاف ہیں۔ میں نے بہت سمجھایا، مگر وہ نہیں مانے۔ آئی ایم سوری، اجالا! میں اپنے والدین کے خلاف نہیں جاسکتا۔
اُجالا نے کہا تو کیا تم بھی ہار مان گئے، زین؟ اتنے برسوں کی محبت، وہ سارے وعدے، وہ خواب جو تم نے میری آنکھوں میں سجائے تھے... وہ سب کہاں گئے؟ تم نے تو کہا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، تم میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گے۔ پھر آج تمہارے وعدے تمہاری مجبوریوں کے سامنےچھوٹے کیسے پڑ گئے؟
اجالا، میں نے تم سے محبت کی تھی، میرے جذبات جھوٹے نہیں تھے۔ لیکن میں اپنے والدین کو ناراض نہیں کرسکتا.... آج میں جس مقام پر ہو اپنے والدین کی وجہ سے ہو انہوں نے مجھے نام دیا، تعلیم دی، مَیں تمہارے لئے ان کی نافرمانی نہیں کرسکتا....
میں نے بھی تم سے محبت کی تھی، زین! تم پر اعتبار کرکے کتنے رشتوں سے انکار کیا، کتنی دعاؤں میں تمہیں مانگا، کتنے خواب تمہارے نام کیے۔ میں نے تمہیں اپنا مستقبل سمجھا، اور تم نے مجھے اپنے ماضی میں بھی جگہ نہ دی۔ جب ہم قریب آرہے تھے، تب تمہیں اپنے والدین کی مرضی یاد کیوں نہیں آئی؟ اور آج جب مجھے عزت کے ساتھ اپنانے کی باری آئی تو تمہیں ان کی فرمانبرداری یاد آگئی؟
 
 
اُجالا، مجھے معاف کر دو۔ مَیں تمہارے لئے کچھ نہیں کرسکتا۔ تم مجھے بھول کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ جانا۔ اُجالا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے.... نم آواز میں اُجالا نے کہا عجیب بات ہے نا، زین! جس شخص نے مجھے زندگی بھر ساتھ دینے کے خواب دکھائے، آج وہی مجھے اکیلے جینے کا مشورہ دے رہا ہے۔ تم تو مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گے، مگر میں ان وعدوں کا کیا کروں جو تم نے میرے دل میں زندہ کئے تھے؟ تمہارے لئے شاید یہ ایک رشتے کا اختتام ہے، مگر میرے لئے یہ برسوں کے اعتبار کا ٹوٹنا ہے....
زین خاموش رہا.... اور کچھ دیر میں فون منقطع ہوگیا....
اُجالا کے ہاتھ سے موبائل گرگیا۔ جس شخص کے لئے وہ دنیا سے لڑنے کو تیار تھی، وہ اسے اپنے لئے ایک قدم بھی اٹھائے بغیر چھوڑ گیا تھا۔ اور آج پہلی بار اسے احساس ہوا کہ کسی پر اندھا اعتبار کرنے کی قیمت کبھی کبھی انسان اپنے سکون سے ادا کرتا ہے۔
اس پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔ اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی اور اپنے والد کے کمرے کی طرف چلی گئی۔
والدین نے اپنی بیٹی کو اس حالت میں دیکھا تو پریشان ہوگئے۔
اُجالا روتے ہوئے انہیں سب کچھ بتا دیا۔
اس کے والدین نے اسے سنبھالا، اسے تسلی دی اور آرام کرنے کے لئے کہا۔
مگر اُجالا کے لئے سب کچھ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوا تھا۔
وہ کئی دن تک زین کو فون کرتی رہی۔
مگر جس اُجالا سے بات کرنے کے لئے کبھی زین بے چین رہتا تھا، آج وہ اس کی ایک کال بھی نہیں اٹھا رہا تھا۔
پھر ایک دن اُجالا کو معلوم ہوا کہ زین نے اسے ہر جگہ سے بلاک کر دیا ہے۔
اُجالا کے لئے خاص سے خاک ہونے کا یہ سفر بہت تکلیف دہ تھا۔
اس مرد نے اسے خاک کر دیا تھا جس نے کبھی اسے عزت کے مقام پر بٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔
کچھ ہی دنوں میں اس کا چمکتا چہرہ مرجھا گیا۔ اس کی خاموشی اس کے والدین کے لئے سب سے بڑا درد بن گئی۔
ایک دن اُجالا اپنے کمرے میں خاموش بیٹھی خلا میں دیکھ رہی تھی۔
اس کے والد اس کے پاس آئے۔
انہوں نے محبت سے اس کے سَر پر ہاتھ رکھا اور کہا: ’’بیٹا! جو شخص تمہیں بیچ راستے میں چھوڑ کر جاسکتا ہے، وہ کبھی تمہارا حقیقی سہارا تھا ہی نہیں۔ شاید اللہ نے اسے تمہاری زندگی سے نکال کر تمہیں کسی بڑے نقصان سے بچا لیا ہے۔ جو تمہارا نہیں تھا، اس کے چلے جانے کا غم ضرور ہے، مگر اسے اپنی پوری زندگی کا اختتام مت سمجھو۔‘‘
اُجالا خاموشی سے سنتی رہی۔
اس کے والد نے کہا: ’’بیٹا، انسان کبھی کبھی کسی شخص کو اپنا نصیب سمجھ لیتا ہے، جبکہ اللہ نے اس کے لئے کچھ اور لکھ رکھا ہوتا ہے۔ تمہارے لئے بھی اللہ نے بہتر راستہ رکھا ہوگا۔ بس اپنے رب سے تعلق مت توڑنا۔‘‘
یہ الفاظ اُجالا کے دل میں اتر گئے۔
اس رات وہ بہت روئی۔
 
 
مگر اس بار اس کے آنسو صرف زین کے لئے نہیں تھے۔
وہ اپنے رب کے سامنے اپنے گزرے ہوئے وقت کا حساب بھی کر رہی تھی۔
اسے احساس ہوا کہ محبت نے اسے اندھا نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے خود اپنی آنکھوں پر اعتبار کی پٹی باندھ لی تھی۔
اس نے اپنی غلطیوں کو پہچانا۔
اس نے جانا کہ محبت اپنی جگہ، مگر اپنی حدود، اپنی عزت اور خالق ِ کائنات کی رضا سے بڑھ کر کوئی رشتہ نہیں ہوتا....
کچھ دن اور گزرے۔
اُجالا نے خود کو دوبارہ سنبھالنا شروع کیا۔
اس نے زین کا انتظار کرنا چھوڑ دیا۔
اس نے پرانی گفتگوئیں مٹائیں، پرانی یادوں سے فاصلہ بنایا اور سب سے بڑھ کر اپنے دل کو اللہ کے قریب کرنا شروع کیا۔
جو وقت کبھی زین کے پیغام کے انتظار میں گزرتا تھا، اب وہی وقت قرآن پڑھنے، دعا کرنے، نماز میں دل لگانے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے میں گزرنے لگا۔
زخم فوراً نہیں بھرے تھے۔
کبھی کبھی یاد پھر بھی آ جاتی تھی۔
مگر اب اُجالا ہر یاد کے ساتھ ٹوٹتی نہیں تھی۔
وہ خود سے کہتی: ’’جس چیز نے مجھے اللہ سے دور کیا، وہ میری منزل نہیں ہو سکتی۔ اور جس راستے پر چل کر میں اپنے رب کے قریب ہو جاؤں، شاید میری اصل منزل وہی ہے۔‘‘
وقت کے ساتھ اُجالا نے دوبارہ پڑھائی اور اپنے مستقبل پر توجہ دینا شروع کی۔ اس نے اپنے والدین کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ لانے کی کوشش کی۔
وہ پہلے جیسی تو نہیں رہی تھی۔
وہ اس سے کہیں زیادہ سمجھدار ہو گئی تھی۔
اب وہ جانتی تھی کہ ہر قریب آنے والا شخص زندگی بھر کا ساتھی نہیں ہوتا، ہر خوبصورت وعدہ حقیقت نہیں بنتا اور ہر محبت نکاح کی منزل تک نہیں پہنچتی۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں سبق بن کر آتے ہیں۔ اور کچھ جدائیاں ہمیں ہمارے رب کے اور قریب کر دیتی ہیں۔
اُجالا نے زین کو معاف تو کر دیا، مگر اسے اپنی زندگی میں دوبارہ جگہ نہیں دی۔
کیونکہ بعض دروازے بند ہی رہیں تو انسان محفوظ رہتا ہے۔ اور شاید اُجالا کی زندگی کا سب سے خوبصورت موڑ وہ دن تھا جب اس نے زین کو نہیں، خود کو چن لیا۔
اس نے اپنے ماضی کو اپنی پہچان نہیں بننے دیا۔ اس نے اپنے زخموں کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنی طاقت بنا لیا۔
اور سب سے بڑھ کر، اس نے یہ سیکھ لیا کہ زندگی میں کسی انسان کو اتنا اختیار نہیں دینا چاہئے کہ اس کے آنے یا جانے سے انسان کا اللہ سے تعلق کمزور پڑ جائے۔
اُجالا نے ایک بار پھر زندگی کی طرف قدم بڑھایا۔ اس بار کسی کے وعدے کے سہارے نہیں، بلکہ اپنے رب پر بھروسے کے ساتھ۔ کیونکہ کبھی کبھی اللہ ہمیں کسی انسان سے اس لئے دور کرتا ہے کہ ہم دوبارہ اسی کی طرف لوٹ آئیں۔
اور اُجالا نے آخرکار سمجھ لیا تھا کہ زندگی کا سب سے خوبصورت اُجالا کسی انسان کے ساتھ سے نہیں، اللہ کے ساتھ سے آتا ہے۔
حدود ہمیں محبت سے دور نہیں کرتیں، حدود ہمیں غلط محبت سے محفوظ رکھتی ہیں....!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK