یہ کہنا مشکل ہے کہ گیانیش کمار کے ’’عوامی مواخذہ‘‘ اور رام لیلا میدان تک مارچ اور پھر ’’مہا رَیلی‘‘ کی حکمت عملی کس کی ہے۔ جس کی بھی ہو، دونوں اجلاس، جو کھرگے کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا وہ بھی اور جو رام لیلا میدان میں برپا کیا گیا وہ بھی، دو طرفہ ثمرات کے حصول کا ذریعہ بنے ہیں۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ گیانیش کمار کے ’’عوامی مواخذہ‘‘ اور رام لیلا میدان تک مارچ اور پھر ’’مہا رَیلی‘‘ کی حکمت عملی کس کی ہے۔ جس کی بھی ہو، دونوں اجلاس، جو کھرگے کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا وہ بھی اور جو رام لیلا میدان میں برپا کیا گیا وہ بھی، دو طرفہ ثمرات کے حصول کا ذریعہ بنے ہیں۔ ایک یہ کہ الیکشن کمیشن پر بھرپور دباؤ پڑا اور اَب اس کیلئے دھاندلی اتنی آسان نہیں رہے گی جتنی کہ تھی۔ دوسری ممکنہ حصولیابی اپوزیشن کے اتحاد کی مضبوطی ہے۔ جو لوگ مذکورہ مارچ میں شریک تھے، انہوںنے بتایا کہ ایک پارٹی کے کارکن کے ہاتھوں میں کسی دوسری پارٹی کا پرچم آگیا تو اُس نے اُسے تھامنے میں پس و پیش نہیں کیا۔ اسی طرح، کسی بھی پارٹی کے لوگ الگ جماعت بنا کر نہیں چل رہے تھے۔ سب مل جل کر احتجاج میں شریک تھے اور شیرو شکر تھے۔ ہوتا آیا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کا معاہدہ زمین پر نہیں اُترتا اور کارکنان کے طور طریقہ سے نہیں جھلکتا۔ اتوار کے مارچ اور رَیلی میں کہیں کوئی تفریق نہیں دکھائی دی۔ اس جذبے کو مستحکم کرنے اور آگے لے جانے کی ذمہ داری متعلقہ پارٹیوں کے سربراہوں پر ہے۔ اتحاد ہے تو اُسے بامعنی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ برقرار رہے، انتخابی نفع پر منتج ہو اور یہ شکایت نہ رہے کہ ہم نے فلاں کو سپورٹ کیا مگر اُس کے ووٹ ہمیں ٹرانسفر نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے:یوپی انتخابات: لیڈروں کی اگلی نسل میدان میں
اتوار کے مارچ اور بعد کے جلسہ ٔ عام کو دیکھ کر پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ اتحاد برائے نام نہیں رہا، بامعنی بن رہا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح ممتا بنرجی نے اپنی تقریر سے پہلے ’’مائی لیڈر سونیا گاندھی‘‘ کہا۔ کس طرح لیفٹ پارٹیوں کا نام لیا۔ کس طرح راہل گاندھی نے کہا کہ یہ کسی ایک لیڈر یا کسی ایک پارٹی کا جلسہ نہیں، سب کا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ الگ الگ پارٹیوں کے کارکنان میں تصادم تو دور کی بات، معمولی نوک جھونک بھی نہیں ہوئی۔ کس طرح تمام لیڈروں نے ایک ہی سُر اور ایک ہی تال میں اظہار ِ خیال کیا۔ کسی نے خفیف طنز کا بھی سہارا نہیں لیا۔ کوئی رسہ کشی نہیں دیکھی گئی۔ یہ سب پہلے نہیں ہوتا تھا۔ پہلے، اتحادی پارٹیاں کانگریس سے خبردار رہتی تھیں کہ اسے زیادہ موقع ملا تو یہ ہماری زمین کھینچ لے گی۔ راہل گاندھی نے اعتماد کا ایسا ماحول پیدا کیا کہ اب تمام پارٹیوں کو محسوس ہورہا ہے کہ کانگریس کی وجہ سے اُن کی زمین بچی رہے گی۔ بالواسطہ یا بلا واسطہ اور علانیہ یا غیر علانیہ طور پر سب نے کانگریس کے راہل گاندھی کو اپنا لیڈر تسلیم کرلیا۔ مختصر یہ کہ غیر معمولی یکجہتی اُس ’’انڈیا‘‘ کی نئی پہچان بن گئی ہے جسے وزیر اعظم مودی انڈی الائنس کہتے ہیں۔ راہل کی مدلل گفتگو، پُراعتماد لہجہ، مخلصانہ حسن عمل، جرأت اور بے خوفی نئے دروازے کھول رہی ہے۔ اگر عوام میں اُن کی مقبولیت کا دائرہ وسیع ہورہا ہے تو حلیف سیاسی جماعتوں میں بھی وہ پہلے سے کہیں زیادہ قابل قبول بن چکے ہیں۔ اس کے سبب کانگریس، کسی ریاست میں جاکر تو چھوٹی بہن بنی رہ سکتی ہے مگر قومی سطح پر بڑی بہن ہی مانی جائیگی۔ اِدھر یہ اتحاد مضبوط ہورہا ہے، اُدھر اس میں شامل پارٹیوں کے حامیوں کی مایوسی چھٹ رہی ہے اور اُمید کا اُجالا پھیل رہا ہے۔ ابھی یہ منظرنامہ مزید بدلے گا اور توانا ہوگا۔