گاندھی مارکیٹ کی بھیڑ میں اچانک رشمی رک گئی۔
EPAPER
Updated: January 06, 2026, 4:31 PM IST | Badrunnisa Sheikh | Dubai
گاندھی مارکیٹ کی بھیڑ میں اچانک رشمی رک گئی۔
باب اول: بازار کا طوفان
گاندھی مارکیٹ کی بھیڑ میں اچانک رشمی رک گئی۔
اس کی نظر جس چہرے پر پڑی....
وہ چہرہ بھلایا نہیں جاسکتا تھا۔
’’راج....؟‘‘
اس کے ہونٹ بغیر آواز کے ہلے
راج ایک اجنبی عورت کے ساتھ کھڑا تھا، مسکراتا ہوا، جیسے دنیا میں کوئی بوجھ ہی نہ بچا ہو۔
رشمی کے اندر ایک بےچین لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔
یہ وہی آدمی ہے جس نے کہا تھا....
’’اگر تم مجھے چھوڑ گئی.... تو میں مر جاؤں گا!‘‘
وہ آہستہ آہستہ دکان کے پیچھے کی طرف چلی، آنکھوں میں سوال، دل میں چبھن۔
اس کے قدموں کے ساتھ ساتھ اس کے خیالات بھی تیز ہوگئے۔
’’ایک میسیج.... بس ایک میسیج سے اس نے مجھے بےوفا مان لیا؟‘‘
’’وہ لڑکا ہی بات شروع کرتا تھا.... میں تو بس جواب دیتی تھی!‘‘
’’اور اس نے سوچا کہ
میں اسے دھوکہ دے رہی ہوں؟‘‘
اس کے ہونٹ کانپ گئے۔
’’کتنا چھوٹا دل نکلا تمہارا، راج....‘‘
اس توہین کی آگ پھر سے بھڑک اُٹھی....
وہ دن یاد آیا جب وہ اچانک خاموش ہوگیا تھا۔
فون نہ اٹھانا
میسیج نہ پڑھنا
اور پھر....
غائب۔
’’کسی کو ایسے چھوڑتے ہیں؟
بغیر ایک الوداع کے؟‘‘
آنکھیں غصے اور درد سے بھر آئیں۔
باب دوم: سچ کا صاعقہ
رشمی نے آخر کار اُس عورت کا چہرہ دیکھ لیا۔
راج ابھی بھی اسے نہیں دیکھ سکا تھا۔
وہ ہنس رہا تھا....
کھلکھلا رہا تھا
گویا زندگی اچانک بہت خوبصورت
اور ہلکی پھلکی ہو گئی ہو
رشمی بڈبڈائی،
’’اتنا خوش؟ میرے بغیر؟‘‘
اور تبھی....
اس کی نظر اُس عورت کے گلے پر گئی۔
منگل سوتر۔
ایک چمک۔
ایک سچ۔
اس کے پیروں تلے جیسے زمین کھسک گئی۔
’’راج.... شادی شدہ؟‘‘
اس کی آواز ٹوٹ گئی....
جیسے کسی نے گلا دبا دیا ہو۔
یادیں طوفان کی طرح دماغ میں ٹکرانے لگیں....
’’رشمی، تم ہی ہو میری دنیا۔‘‘
’’تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ پاؤں گا!‘‘
’’بس تم رہنا.... ہمیشہ۔‘‘
سب جھوٹ۔
سستے، خالی جھوٹ۔
رشمی کے ہونٹ کس گئے۔
’’واہ، راج.... واہ۔
اتنی آسانی سے کسی اور کی دنیا میں چلے بھی گئے؟‘‘
اس کی آنکھیں بھر آئیں، لیکن اس نے پلکیں جھپکائیں....
آنسو گرنے سے روک لئے۔
باب سوم: موڑ.... جہاں کہانی بدلتی ہے
تبھی اس کا فون بجا۔
Vijay Calling....
وہ اسکرین کو دیکھتی رہی.... کچھ دیر تک، خاموش۔
وجے کی آواز اسپیکر پر آئی،
’’رشمی؟ سب ٹھیک ہے نا؟
ویک اینڈ کے لئے تیار ہو؟‘‘
رشمی نے ہلکی سانس لی۔
آواز بھاری تھی، لیکن ٹوٹنے نہیں دی۔
’’ہاں.... ہاں۔ سب ٹھیک ہے وجے۔‘‘
’’تم ٹھیک نہیں لگ رہی ہو۔ کچھ ہوا ہے؟‘‘
رشمی خاموش رہی۔
کچھ لمحے بعد بولی....
’’کچھ چیزیں.... بس راستے میں مل جاتی ہیں۔
لیکن کوئی بات نہیں۔ مَیں آ رہی ہوں۔‘‘
وجے نے نرمی سے کہا،
’’اگر بات کرنا چاہو تو مَیں ہوں، رشمی۔‘‘
اس کے الفاظ میں ایک سہارا تھا....
جو راج نے کبھی دیا ہی نہیں۔
رشمی نے فون کاٹ دیا،
خود سے سرگوشی کی....
’’زندگی رکتی نہیں، رشمی....
تم بھی مت رکنا۔‘‘
اس نے پیچھے مڑ کر راج کو آخری بار دیکھا۔
وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہنس رہا تھا....
اتنا مگن، جیسے اس نے کبھی کسی اور کو دیکھا ہی نہ ہو۔
رشمی نے ہونٹ بھیچے اور کہا....
’’بس ہوگیا.... اب ختم۔
اب مَیں اپنی کہانی خود لکھوں گی۔‘‘
وہ سڑک پر بڑھ گئی، ایک ٹیکسی روکی،
اور اس کی آنکھوں میں پہلی بار لمبے وقت کے بعد طاقت چمکی۔