Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ : بکھرے ذرّے

Updated: November 13, 2023, 3:00 PM IST | Najma Usman | Mumbai

فائزہ آہستگی سے اپنے دونوں ہاتھ چھڑا کر کمرے کی کھڑکی طرف جا کھڑی ہوئی۔ ’’مجھ سے خفا ہو؟‘‘ نسیم اس کے ساتھ جا کھڑی ہوئی، ’’مَیں نے تمہیں کتنا تلاش کیا۔ اور سیما بھی غائب ہوگئی۔ تمہارے گھر والے....‘‘

Photo : INN
تصویر :آئی این این

لندن کے عالمی سائنس کانفرنس میں وہ مقالہ پڑھ کر اسٹیج سے تالیوں کی گونج میں اتری تو دوسری قطار میں سے ایک خاتون اٹھ کر اس سے لپٹ گئیں، ’’فائزہ یہ تم ہو؟ مجھے تو یقین ہی نہیں آتا۔ اور کتنی بدل گئی ہو۔‘‘ وہ اس خاتون کو پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی۔
 ’’ارے پگلی! مَیں ہوں تمہاری رقیب.... سہیلی نسیم۔‘‘ ’’ہاں پہچان گئی۔‘‘ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔
 وقفہ کا اعلان ہوچکا تھا۔ کچھ اور لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے۔ نسیم اسے اپنی طرف گھسیٹ رہی تھی، ’’کیسی ہو؟ کہاں ہو؟ اتنی باتیں کرنی ہیں۔ میرے ساتھ گھر چلو پروگرام کے بعد۔‘‘
 فائزہ نے اس کے ہاتھ میں اپنا کارڈ پکڑاتے ہوئے کہا، ’’اس پر میرا موبائل نمبر ہے اور اسی ہوٹل میں ٹھہری ہوں۔ پرسوں واپس چلی جاؤں گی۔ کل فری ہوں مجھے فون کرنا پھر بات کریں گے۔‘‘ وہ اسے کارڈ دے کر لوگوں کے ہجوم میں کھو گئی۔ نسیم نے کارڈ دیکھا۔ پروفیسر فائزہ صدیقی اسلام آباد۔ تو فائزہ میرے شہر میں تھی ہی نہیں۔ اسے ملتی کیسے؟ نسیم کی شادی میں آئی تھی۔ خوب دھوم دھڑکا کیا، جیسی اس کی عادت تھی۔ اور دوسری سہیلیاں بھی تھیں۔
 سیما کا ہونا تو لازمی تھا اس کے بغیر تو فائزہ نوالہ بھی نہیں توڑتی تھی۔ پھر نسیم اپنے شوہر کے ساتھ لندن آگئی۔ اس بات کو بھی بیس سال ہوئے۔ وہ ایک لمبے عرصے کے بعد وطن آئی۔ پرانی سہیلیوں سے رابطہ کیا مگر فائزہ اور سیما کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ وہ کارڈ ہاتھ میں لئے سوچ میں غرق تھی۔ میاں نے آکر کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک پڑی۔ ’’بھئی کہاں رہ گئی تھیں؟ اور یہ فائزہ بی بی تو چھپی رستم نکلیں۔ کیا مقالہ پڑھا ہے۔ جواب نہیں....‘‘
 ’’آپ کو میری سہیلی یاد رہی؟‘‘
 ’’کیسے بھول سکتا تھا۔ مجھے چھیڑ چھیڑ کر میرا نام میں دم کر دیا تھا۔ لیکن جوتا چھپائی میں میری بہن بن کر تمہارے گھر والوں سے ٹکرا گئیں۔‘‘
 ’’اکلوتی جو ٹھہری۔ بھائی بنانے کا ارمان پورا کر لیا۔‘‘
 نسیم اسے لوگوں میں ڈھونڈتی رہی لیکن وہ نہ ملی۔ اور نہ بعد کے پروگرام میں نظر آئی۔
 اس رات نسیم کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور رہی۔ فائزہ کی برد بار سنجیدہ یکسر بدلی ہوئی شخصیت۔ اس کے بات کرنے کا ٹھہرا ہوا لہجہ.... اور وہ.... ہر ایک پر واری فدا ہونے والی۔ تیرے میرے کے لئے بھاگ دوڑ کرنے والی۔ کسی کی ایک مسکراہٹ پر جان دینے والی۔ نکھری ستھری۔ کوٹ کوٹ کر محبت بھری شخصیت کہاں جا چھپی تھی۔ عمر کے ساتھ سنجیدگی آنا اور چیز ہے لیکن فائزہ سے تو یہ امید بھی نہیں تھی۔ وہ تو پیار محبت کا اتھاہ سمندر تھی جو کبھی خشک نہیں ہوتا۔ ماں باپ کیا سارے خاندان کی لاڈلی۔ اکلوتی اور خوبصورت ہونے کے باوجود نہ مغرور نہ ضدی اور کسی کا دل توڑنا تو اس کے نزدیک بدترین گناہ تھا۔ یہ اور بات تھی کہ اس کی یہ سادہ لوحی اس کے لئے مصیبت کا باعث بن جاتی۔ اکثر لوگ اس کی اس عادت کو اپنے مطلب کیلئے استعمال کر لیتے۔ اور اس کے ڈھیر سارے چچیرے، خلیرے اور ممیرے بھائی اسے پسند کرتے تھے۔ کچھ نے والدین کے ذریعے باقاعدہ پیغام بھیجا.... اور.... سیما اس کی چہیتی سہیلی.... یہ ساری باتیں اس تک پہنچاتی تھی.... نسیم کو نہ جانے کیوں سیما کے خلوص پر شک ہی رہا۔ وہ جب بھی فائزہ کے قریب ہونے کی کوشش کرتی سیما بیچ میں آجاتی۔ شاید یہ اس کا وہم ہی تھا۔ فائزہ کو اپنی بچپن کی سہیلی سے حد درجہ کا پیار تھا۔ حالانکہ ان دونوں کے گھرانوں میں طبقاتی فرق تھا۔ سیما کے والد ایک معمولی کلرک پانچ بچوں کا بوجھ تھا ان کے کندھوں پر۔ سیما تیسرے نمبر پر تھی۔ دو بڑی بہنیں اور دو چھوٹے بھائی۔ فائزہ کی شاندار کوٹھی کے سامنے ان کا ۱۲۰؍ گز کے پلاٹ پر بنا ہوا چھوٹا سا گھر تھا۔ فائزہ کی امی اور سیما کی والدہ کی بہت پرانی دوستی تھی۔ روز ملنا جلنا رہتا۔ پھر فائزہ اور سیما ہم عمر ہونے کے ناطے ساتھ ساتھ رہیں۔ سیما پڑھائی میں تیز تھی اور پوزیشن اور اسکالرشپ کے سہارے نکلتی چلی گئی۔
 اور یوں ڈگری کالج میں وہ دونوں ساتھ رہیں۔ نسیم بھی اسکول سے ساتھ رہی۔ فائزہ کوکیمسٹری سے الرجی تھی۔ بوٹنی پسند تھی پھول پودوں سے کھیلنا اچھا لگتا تھا لیکن سیما کی محبت میں کیمسٹری لے بیٹھی۔ کس مشکل سے سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہوئی۔ گھر والوں کے لئے معجزے سے کم نہ تھا اور فائزہ کے بابا کا کہنا تھا کہ اگر بلال اور سیما اس کے ساتھ جان توڑ محنت نہ کرتے تو وہ پاس بھی نہیں ہوتی۔ نسیم کو بلال کا خیال آیا۔ کتنا ذہین اور شریر تھا۔ فائزہ کے سب کزنوں سے مختلف۔ اس کے پڑھانے کے طریقے بھی عجیب تھے۔
 سیما سے خوب نوک جھونک رہتی۔ نسیم زیادہ تر خاموش رہ کر سنتی اور فائزہ عادتاً ان دونوں کی باتوں پر غور کرتی کہ موضوع کیا ہے۔ اس طرح کچھ اس کے پلے بھی پڑ جاتا۔ پھر اس سے رائے لی جاتی اور ان جانے میں وہ بہت کچھ سیکھ جاتی۔ نسیم کو بلال بہت پسند تھا اور فائزہ کے لئے اس کے نزدیک بہترین جوڑ۔ ایک انجانا وسوسہ اسے سیما کی طرف سے لگا رہتا۔
 یوں تو وہ سارے خاندان میں گھلی ملی تھی لیکن بلال کو اس کے ساتھ دیکھ کر نسیم کے دل میں شک سر اٹھاتا۔ پھر فائزہ کے لئے اس کا پیار دیکھ کر وہ اپنے شک پر لعنت بھیجنے لگتی۔ سب لوگ کہاں چلے گئے۔ اسلام آباد میں فائزہ اکیلی ہے۔ اس نے شادی بھی نہیں کی۔
 ماضی کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے صبح ہوگئی۔ دس بچے اس نے فائزہ کے موبائل پر فون کیا۔ وہ شاید ابھی سو کر اٹھی تھی۔ آواز میں بھاری پن تھا۔
 ’’مَیں تمہیں لینے آرہی ہوں، بس تیار ہو جاؤ۔‘‘ ’’مجھ سے ملنا ہی تو ہے۔ آجاؤ میرے ہوٹل کے کمرے میں۔‘‘ فائزہ کی آواز میں وہی عجب ٹھہراؤ تھا۔ ’’شام کو مجھے ذرا کام سے باہر جانا ہے۔‘‘ اس نے کمرہ نمبر بتا کر فون بند کر دیا۔
 نسیم فون ہاتھ میں لئے کھڑی سوچتی رہ گئی۔ فائزہ واقعی بہت بدل گئی ہے۔
 فائزہ کا کمرہ بہت کشادہ اور دو حصوں میں تھا۔ وہ ابھی تک نائٹ ڈریس پر گاؤن لپیٹے گھوم رہی تھی۔ ’’آؤ نسیم! اس طرف سیٹنگ ایریا میں بیٹھتے ہیں۔ میز پر چائے کا سارا سامان موجود تھا۔
 ’’فائزہ!‘‘ نسیم نے اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے، ’’کیسی ہو؟ کیا کرتی ہو؟ گھر والے کہاں ہیں؟‘‘
 فائزہ آہستگی سے اپنے دونوں ہاتھ چھڑا کر کمرے کی کھڑکی طرف جا کھڑی ہوئی۔
 ’’مجھ سے خفا ہو؟‘‘ نسیم اس کے ساتھ جا کھڑی ہوئی، ’’مَیں نے تمہیں کتنا تلاش کیا۔ اور سیما بھی غائب ہوگئی۔ تمہارے گھر والے....‘‘
 فائزہ نے اس کی بات کاٹی، ’’مَیں بھلا تم سے کیوں خفا ہوں گی۔ اور گھر والوں میں کون بچا ہے..... بابا ختم ہوگئے۔ ایک سال بعد اماں بھی چل بسیں۔ خاندان کے لوگ اپنی اپنی مرضی سے ادھر ادھر ہوگئے۔ بزرگ نہ رہے تو کوئی کسی کو نہیں پوچھتا....‘‘
 ’’اور سیما؟‘‘ نسیم کے لبوں پر سوال مچلنے لگا، ’’وہ تمہیں چھوڑ کر کہاں چلی گئی؟‘‘
 ’’سیما....‘‘ یہ نام لیتے ہوئے اس کا چہرہ جذبات سے عاری تھا، ’’سیما نے اپنے خاندان کے لئے بہت کیا۔ اسکالرشپ پر لندن آئی۔ پی ایچ ڈی کیا۔ ایک بہن کی شادی امریکہ میں کرا دی۔ پھر سارے خاندان کو وہاں بلا لیا۔‘‘
 ’’اور اس کی اپنی شادی؟‘‘
 فائزہ جواب دینے سے پہلے صوفے کی طرف مڑ گئی، ’’آؤ چائے پیتے ہیں.... ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ یہ کیک بھی لو۔‘‘ وہ جیسے موضوع بدلنا چاہتی تھی۔ نسیم اسے ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ ’’سیما کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی۔‘‘ فائزہ نے گفتگو کا سرا پھر سے جوڑا، ’’اس کی بہن نے اس کی شادی اپنے سسرال میں کرا دی لیکن وہ آدمی بہت غلط قسم کا تھا۔ سیما کو بہت پریشان کرتا تھا۔ بعد میں پتہ چلا وہ کبھی بلال کا دوست بھی رہا تھا۔ شادی کے بعد سیما اور بلال کی دوستی کے حوالے سے اس پر الٹے سیدھے الزامات لگاتا۔ یہاں تک کہ مار پیٹ کی نوبت آگئی۔ اور اسے طلاق دے دی۔ وہ روتی دھوتی وطن آئی۔ مجھ سے مدد چاہی۔ مَیں وہاں بیٹھ کر اس کے لئے کیا کرسکتی تھی۔ بلال کا سارا خاندان امریکہ میں تھا۔ صرف وہ یہاں میرے لئے رکا ہوا تھا۔‘‘
 نسیم کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی، ’’مَیں جانتی تھی تم دونوں ایک دوسرے کے لئے بنے ہو۔ اور تمہارے دل میں اس کے لئے ایک خاص جذبہ تھا.... مَیں نے بار بار تمہاری آنکھوں میں اس کے لئے ایک انوکھی چمک دیکھی تھی۔‘‘

’’آنکھوں کا کیا ہے وہ تو دل کے جذبوں کے راستوں میں بھٹکتی رہتی ہیں ۔ جگنو کی چمک، ستاروں کی روشنی، تتلیوں کے رنگ، پھولوں کی خوشبو، سانسوں میں بھرنے کی آرزو میں ۔ اور پھر یوں ہوتا ہے کہ نہ جگنو ہاتھ آتے ہیں نہ تتلیوں کے رنگ اور خوشبو کو کون قید کر سکا ہے۔ تاروں بھرے آسمان تک کس کی پہنچ ہے۔ حقیقت کی دنیا اس سے بہت مختلف ہے۔ کڑوی حقیقت آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے اور نازک نازک جذبوں کو لہولہان کر دیتی ہے۔‘‘ فائزہ جیسے اپنے آپ سے گفتگو کر رہی تھی۔
 ’’فائزہ.... فائزہ.... یہ تم کیسی فلسفیانہ باتیں کر رہی ہو۔ اور بلال تو تم سے محبت کرتا تھا.... پھر کیا ہوا....؟‘‘ نسیم مضطرب سی ہو کر پوچھنے لگی۔
 ’’لیکن سیما بھی اس کی ذمہ داری بن گئی۔ اس کی وجہ سے سیما کی شادی ٹوٹی۔ میری بچپن کی سہیلی کے گھر میں آگ لگی تھی اور مَیں اپنے سپنوں کا محل بنانے چلی تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا؟‘‘ فائزہ پھر کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
 ’’تم نے زندگی بھر لوگوں میں پیار بانٹا۔ جھولی بھر بھر کے دیا۔ سب کی محبتوں کو اپنے ننھے سے دل میں بھرتی گئیں ۔ پھر بھی تمہارے حصے میں کچھ نہیں آیا۔ آتا بھی کیسے؟ اور یہ سیما اور بلال کا چکر تو محض ایک مذاق تھا۔ وہ تو ہر لڑکے سے بہت جلدی فری ہو جاتی تھی۔ اور سچ پوچھو تو میرے دل میں اس کی طرف سے عجیب اندیشے سر ابھارتے تھے۔ مجھے وہ کبھی بھی تمہارے لئے سنجیدہ نہیں لگی۔ ہاں اپنے مقصد کیلئے تمہارا استعمال خوب کیا۔ وہ تو تمہارے دل کا حال جانتی تھی....‘‘ نسیم کی بات پوری نہیں ہوئی کہ فائزہ اس کی طرف پلٹ کر بولی، ’’اب ان باتوں کا کیا فائدہ۔‘‘ پھر اچانک جیسے اسے کسی احساس نے جھنجھوڑا، ’’نسیم! تمہیں مسز فاروقی یاد ہیں ؟‘‘ ’’اپنی کیمسٹری کی پروفیسر؟ انہیں کون بھول سکتا ہے۔ تمہاری طرف سے تو انہوں نے ہمیشہ مایوسی کا اظہار کیا۔ اور ہم سب ان کے کڑھے ہوئے کرتوں اور لہریے دار دوپٹوں پر فدا تھے اور وہ تمہاری نالائقی سے سخت نالاں ۔ ایٹم کے انرجی لیول کی تقسیم میں تم ہمیشہ گڑبڑ کر دیتی تھیں ۔‘‘ فائزہ کے چہرے پر ایک دکھ بھری مسکراہٹ آگئی، ’’ایک بیچارہ ننھا سا ایٹم، بے ضرر سی شے مگر اپنے اندر پیچیدگیوں کا خزانہ لئے ہوئے۔‘‘ ’’تمہاری خاطر تو انہوں نے شیلف کی مثال دی تھی۔ یاد ہے نا؟‘‘ نسیم پوچھنے لگی۔ ’’سب کچھ یاد ہے۔ ان کا چاک اٹھا کر بورڈ پر دائرہ بنانا اور پھر لمبی چوڑی تقریر۔‘‘
 شاید دونوں کے ذہن میں ان کے کہے ہوئے الفاظ گونجنے لگے:
 ’’مَیں نے آپ لوگوں کے اسائنمنٹ دیکھے۔ بہت سی لڑکیاں اب بھی انرجی لیول نہیں سمجھ پائی ہیں ۔ مَیں نے آپ لوگوں کو کتنی مرتبہ سمجھایا ہے کہ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے آپ کے گھر کی دیوار پر مختلف سائز کے شیلف لگے ہوئے ہیں ۔ پہلے شیلف پر صرف دو کتابیں رکھی جاسکتی ہیں ۔ دوسرے پر آٹھ اور، تیسرے پر اٹھارہ کتابیں ۔ زیادہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر پہلے شیلف پر تین کتابیں رکھ دیں تو اس کا توازن بگڑ جائے گا۔ ایک رکھ دیں تو جگہ خالی رہے گی۔ یہی صورتحال آٹھ کتابوں والے شیلف کی ہے۔ اب شیلف کی جگہ انرجی لیول اور کتابوں کے بجائے الیکٹرون رکھ دیں ۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ الیکٹرون کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔‘‘ بات کرتے ہوئے وہ زیادہ تر فائزہ کی طرف اشارہ کرتیں ، ’’تم نے تو بیحد گڑبڑ کی ہے۔ کلاس کے بعد مجھ سے اسٹاف روم میں ملو۔‘‘ ’’کاش! وہ شیلف پر کتابوں والی مثال نہ دیتیں ۔‘‘ فائزہ جیسے اپنے آپ سے کہنے لگی، ’’اب دیکھو نا ایٹم کے الیکٹرون میں اور شیلف کی کتابوں میں بڑا فرق ہے۔ ایک طرف سائنس کی تھیوری ہے دوسری طرف زندگی کا فلسفہ جو رشتے ناطوں کی بھیڑ میں بھٹکتا اور بدلتا رہتا ہے۔ میں نے زندگی کے مختلف شیلف پر وہ ساری نسبتیں رکھ دیں جن سے مَیں الگ ہونا نہیں چاہتی تھی۔ توازن بگڑنا ہی تھا۔ انسانی رشتے کوئی مادی چیز تو ہیں نہیں کہ جہاں رکھ دو جیسے ترتیب دے دو اسی طرح رہیں گے۔ یہ تو پارے سے بھی زیادہ متحرک اور مضطرب جذبے ہیں ۔‘‘ ’’تم کن رشتوں کی بات کر رہی ہو؟‘‘ نسیم حیران تھی۔ فائزہ کو پھر کچھ یاد آگیا، ’’سو سوری نسیم! مجھے باہر جانا ہے اور کل میری اسلام آباد کی فلائٹ ہے۔‘‘ ’’لیکن سیما اور بلال کا قصہ ادھورا ہی رہا۔‘‘ نسیم چلنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’ہاں ان کی کہانی تو پوری ہوگئی.... بلال کو سیما سے شادی کرنی پڑی۔ اب دونوں امریکہ میں ہیں ۔‘‘ ’’اور تم اکیلی ہو.....؟‘‘ ’’میری کتابیں اور میری ڈھیر ساری شاگردیں مجھے اکیلے پن کا احساس کہاں ہونے دیتی ہیں ۔ میرے کمرے میں کوئی شیلف نہیں ہے۔ کتابیں ہر جگہ بے ترتیبی سے پھیلی رہتی ہیں ۔ لیکن کلاس میں ایٹم کے الیکٹرون ترتیب دینے میں اب کبھی غلطی نہیں کرتی۔‘‘ نسیم اس سے گلے مل کر باہر نکلی۔ کار پارکنگ تک پہنچتے پہنچتے بارش نے آلیا۔ لندن کی بے موسم برسات کے ساتھ اس کی آنکھوں میں رکے ہوئے آنسو بہہ نکلے۔ تو یہ بلال اور سیما کا پلان تھا۔ ایسے حالات پیدا کرنے کا کہ فائزہ خود ان کی شادی کرا دے۔ امریکہ میں بلال کے دوست سے شادی کا قصہ بھی من گھڑت ہوگا لیکن فائزہ کو شاید اس کی خبر بھی نہ ہو۔
 فائزہ یونیورسٹی سے گھر پہنچی تو بہت تھک گئی تھی۔ ملازمہ ابھی ابھی صفائی کرکے گئی تھی۔ اس نے سلیقے سے رکھی ہوئی کتابوں کو پھر سے بکھیر دیا۔ زندگی میں ترتیب، نظام، رشتوں کا احترام، وعدوں کی پاسداری سب بیکار چیزیں ہیں ۔ سیما نے اس کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھایا۔ بلال محبت کے نام پر اسے دھوکہ دیتا رہا یا شاید وہ خود ہی دھوکہ کھاتی رہی بلال نے تو کبھی اپنے جذبات کا کھل کا اظہار نہیں کیا۔ اور وہ بھی تو اپنے دل کی بات نہ کہہ پائی۔ سیما کی شوخ طبیعت اس کا والہانہ پن، بلال کو اپنی طرف کھینچتا رہا۔ فائزہ کی سادگی اور خلوص، لئے دیئے رہنے کا انداز، سیما کے بے باک رویوں کے آگے ہار گیا۔ جو کچھ بھی تھا اسے نظر نہ آسکا۔ اس زمانے کی فائزہ کے لئے کسی اپنے پر شک کرنا، گناہ کرنے کے مترادف تھا۔ اس کے سامنے سارا کھیل کھیلا گیا اور وہ کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتی رہی اور حقیقت کو جھٹلاتی رہی۔ اس نے مادی چیزوں کے نظام میں گڑبڑ کی تو ایٹم کے انرجی لیول کی ترتیب بگڑ گئی۔ اس نے رشتوں کی پاسداری نبھائی تو زندگی کے شیلف پر اصول سے رکھے ہوئے جذبے بے ترتیب ہوگئے۔ اسے دکھ ہوا تھا، بہت دکھ ہوا تھا۔
 اصلیت جان کر.... اپنے سچے جذبوں کی پامالی کا۔ سب نے اس کے بے لوث جذبوں کا مذاق بنا کر رکھ دیا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی نسیم کو حقیقت نہ بتا سکی۔ کمزوریوں کی پردہ پوشی کرنی چاہئے، سو اس نے کی۔ اس کی بلال سے محبت ایک اٹل سچائی تھی۔ بلال کا سیما کی طرف جھکاؤ ایک بے رحم حقیقت تھی۔ یہ سچ اور حقیقت ایک کڑوا زہر بن کر اس کی زندگی میں سرایت کر چکا تھا۔ یہی زہر اس کو اس دنیا میں لے آیا تھا جہاں زندگی شیلف پر رکھی ہوئی کتاب نہیں ہے اور نہ ہی اسے ایٹم کے انرجی لیول کی طرح ترتیب دیا جاسکتا ہے۔
 اس نے کیمسٹری کی کتاب اٹھالی۔ کل فرسٹ ایئر کی طالبات کی پہلی کلاس تھی۔ ایٹم اور انرجی لیولز کے بارے میں بتانا تھا۔
 مسز فاروقی کا جملہ ذہن میں سرسرایا:
 ’’الیکٹرون کبھی اکیلا نہیں رہتا۔‘‘
 ’’مَیں رشتوں کے اس جنگل میں تنہا ضرور ہوں مگر الیکٹرون نہیں جو اکیلا نہیں رہ سکتا۔ جذبوں کی توڑ پھوڑ سے بکھر گئی ہوں لیکن ٹوٹی نہیں ۔‘‘ اس نے ہوا کے ساتھ آئی ہوئی گرد کو کتاب پر سے جھاڑتے ہوئے سوچا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK