Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسانہ: مِس رومینٹک

Updated: October 28, 2023, 5:25 PM IST | Aasiya Raees khan | Mumbai

ہمارے نصیب میں رتجگے تھے لیکن تارے گننے کے لئے نہیں نیپیاں بدلنے کے لئے، مون لائٹ واک بھی ہمیں نصیب ہوئی لیکن ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ڈوئیٹ گانے کے لئے نہیں بلکہ ڈائٹ کو مزید کارآمد بنا کر اپنا حدودِ اربعہ محدود رکھنے کے لئے، بیت بازی کا شغل بچوں کے جھگڑے سلجھاتے ہوئے ان کی الزام تراشیاں، صفائیاں اور اس کے جواب میں مزید صفائیاں سن کر پورا کر لیا۔ بچے پورا خیال رکھتے تھے کہ الزامات ہم وزن ہوں اورصفائیاں ہم قافیہ۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

پچھلے وقتوں میں کارزارِ محبت میں محو سفر ہونے کے لئے ضروری لوازمات، صحرا کی خاک چھاننے والے جوتے، پہاڑ کھودنے والا تیشہ اور دریا پار کرنے کے لئے مٹکا، ہوا کرتے تھے۔ اب یہ فہرست ِ سامان مختصر ہے، ایک موبائل فون اور اپنے یا پڑوسی کے وائے فائے کا پاس ورڈ، بس یہ دو اسباب میسّر ہیں تو آپ داستانِ محبت کے جتنے چاہے اتنے باب رقم کرنے کے قابل ہیں ، ایسا ہمارا خیال تھا۔ لیکن ہماری اماں جان کی موجودگی میں ان میسّر اسباب کے باوجود ہم عشق کی پینگیں نہ بڑھا سکے۔ ہمارا شوق، جوش، خلوصِ نیت، صلاحیت اور تیاری سب اماں جان کی کڑی نگرانی، طبیعت طوفانی اور طیش ِ بارانی کے آگے ڈھے گئے تھے۔
 عمر کے اٹھارہویں موسم ِ بہار میں ہماری آہوں اور وظیفوں کا اثر تھا کہ اللہ کو رحم آیا اور اماں جان کو ہمارا رشتہ طے کرنے کی توفیق ملی۔ ہم نے پھر کمر کس لی کہ منگیتر سے رومانس تو ہمارا حق تھا۔ شاعری سے رتی بھر رغبت نہ تھی لیکن شوقِ رومانس میں ہم عشق میں لتھڑے اشعار رٹنے لگے۔ جلد ہی ہمیں احساس ہوا کہ ہماری نازک یادداشت اشعار کا بار اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔
 ہماری یادداشت بھی رومانس کی قائل تھی اور وہ پروین شاکر کا مصرع فراز سے جا ملاتی اور شعر کچھ یوں ہو جاتا؎
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں 
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی 
 ہم نے اپنی یادداشت پر مزید ستم کا ارادہ ملتوی کیا اور چھانٹ چھانٹ کر اشعار ڈائری میں قلم بند کرنے لگے تا کہ حسب ِ ضرورت استعمال کے وقت آسانی ہو۔ ہم حاشیے میں ان اشعار کے استعمال کی متوقع سچوئیشن بھی درج کرتے جاتے تاکہ عین وقت پر دشواریوں سے بچا جا سکے۔ ہم واقعی دور اندیش واقع ہوئے ہیں ۔ ہم نے موقع محل کے لحاظ سے ’ پِنٹرسٹ ‘ سے کئی ساری تصاویر بھی ڈاؤن لوڈ کر رکھی تھیں ۔ جن میں قابلِ ذکر تصویریں ہاتھوں میں ہاتھ، آنکھوں پر ہاتھ، روٹھی آنکھیں اور چاند راتیں تھیں ۔ مختصراً ہم اگلے مرحلے کے لئے ’ اَپ ٹو ڈیٹ ‘ تھے۔ محترم کی فیس بک آئی ڈی پر ہم نے اتنے پھیرے لگائے کہ ہر پوسٹ مع تصویر اور کمنٹس کے زبانی یاد ہوگئی، جو ساری حالاتِ حاضرہ اور سیاست پر تھیں ۔ ہم نے مایوس ہوتے دل کی ڈھارس بندھائی کہ محترم اس قدر رومینٹک ہیں کہ اپنا یہ روپ دنیا سے بھی چھپا رکھا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب وہ سارا رومانس اور محبت ہم پر نچھاور کریں گے۔ کئی دن ہم یہ سوچ سوچ کر اتراتے، شرماتے اور اٹھلاتے رہے۔ منگنی ہوتے ہی ہم نے چھوٹے بہن بھائیوں کے ذریعے اشارے کنایہ میں ان تک یہ پیام پہنچانے کی کوشش کی کہ ہم کس قدر رومانیٹک ہیں مگر ہماری ننھی ہمشیرہ و برادرانِ ناپختہ پیغام رسانی میں نااہل و ناکارہ ثابت ہوئے۔
 اماں جان ہمارے نیک ارادے جانتی تھیں اس لئے انہوں نے نگرانی مزید کڑی کر دی۔ یوں ہمارے ’ ڈیجیٹل رومانس ‘ کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے اور اماں جان ہماری پریم کہانی کی ’ ’موگیمبو‘ ثابت ہوئیں ۔
 ہم نے پھر ایک بار آزمودہ آہوں اور وظیفوں کا سہارا لیا اور ہماری ساسو ماں شادی کی تاریخ طے کرنے آن پہنچیں ۔ بس پھر کیا تھا، ہم نے ڈائری سے دھول جھاڑی اور مزید تڑکتے بھڑکتے اشعار کا اضافہ کیا کہ پہلے والے اشعار منگنی شدہ سے مناسبت رکھتے تھے اور اب ہمیں شادی شدہ کے معیار والے اشعار درکار ہوں گے۔ کزنز اور سہیلیاں جوڑوں ، جوتوں اور چوڑیوں کی باتیں کرتیں اور ہم کینڈل لائٹ ڈنر، مون نائٹ واک، اور عشقیہ بیت بازی کے تصور میں ڈوبے رہتے۔ ہم پہلے دن سے ہی ابتدا کر سرگوشیاں ، لڑائیاں ، روٹھنا، منانا، رونا، ہنسنا، مسکرانا سب کچھ کرنے کی متمنی تھے یعنی رومانس کا ’سلیبس‘ پہلے پیریڈ سے ہی شروع کرنا چاہتے تھے۔
  اللہ اللہ کرکے شادی ہوگئی اور ہم محترم کی جانب سے سینت کر رکھے جذبات کی رونمائی کا انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ محترم ٹھیک ٹھاک بندے تھے لیکن ہمیں تو رومینٹک بندہ چاہئے تھا۔  اب تو یہ کہنے کے قابل بھی نہ تھے کہ ٹھیک ٹھاک بندے کا ہم نے کرنا کیا ہے! اب تو جو کرنا تھا محترم ٹھیک ٹھاک کے ساتھ ہی کرنا تھا۔ ہم موقع کی مناسبت سے شعر پڑھ دیتے تو وہ ہونق بنے تشریح کا انتظار کرتے، کبھی ان کے لئے رومینٹک سرپرائز پلان کرتے تو ان کا رد عمل ہمیں شرمندگی سے پانی پانی کر دیتا۔ تیار شیار ہو کر ان کے گرد منڈلاتے کہ تعریف میں ڈوبا، محبت کے ریپر میں لپٹا کوئی فقرہ ہمارے کانوں کا مقدر بنے گا تو وہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ہمارا بخار چیک کرنے لگتے۔ جلد ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ شادی کے کورس میں کتابِ رومانس آؤٹ آف سلیبس ہے۔ میکے جا کر ہم اپنی چھوٹی سی لو اسٹوری کے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہونے کا دکھ اپنی سہیلی سے بیان کر رہے تھے کہ اماں جان نے سن لیا اور ہماری وہ عزت افزائی کی کہ سسرال اور ساس کا ڈر ہی نکل گیا کہ اب اس سے زیادہ عزت افزائی کوئی اور کیا کر سکے گا!
 شادی کے بعد پہلا ویلنٹائن ڈے آیا تو ہماری رگِ محبت پھر پھڑکی اور ہم نے محترم ٹھیک ٹھاک کے لئے خود ہی سرخ رنگ کا، سرخ دلوں ، سرخ ربنوں سے سجا اور سرخ روشنائی سے لکھا کارڈ بنا ڈالا۔ شومئی قسمت وہ کارڈ دیور کے ہاتھ لگ گیا اور پھر ہم کیا بتائیں ! دیور کی تو بتیسی اندر نہیں ہو رہی تھی۔ ہم نے غصہ اور رومانس دونوں طاق پر رکھ کر منتیں کیں اور گڑگڑائے کہ خدارا ہماری حلال محبت کو رسوا نہ کریں ۔ اس راز کو راز رکھنے کا راز یاد کر کے آج بھی خون میں اُبال اٹھتے ہیں اور آج بھی ہم دیور کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے ہیں۔
 جلد ہی انکشاف ہوا کہ ہماری ساسو ماں کو بھی آہوں اور وظیفوں پر ملکہ حاصل ہے، جب انہوں نے پوتے کی آمد پر خود اس بات کا اعتراف کیا۔ لو جی! اب کیا رومانس ہونا تھا۔ اب تو اپنا بھی ہوش نہ تھا۔ ڈائری میز کی آخری دراز میں دھول سے اٹتی رہی اور ہم دو سے تین پھر چار اور پھر پانچ ہوتے گئے۔
 ہمارے نصیب میں رتجگے تھے لیکن تارے گننے کے لئے نہیں نیپیاں بدلنے کے لئے، مون لائٹ واک بھی ہمیں نصیب ہوئی لیکن ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ڈوئیٹ گانے کے لئے نہیں بلکہ ڈائٹ کو مزید کارآمد بنا کر اپنا حدودِ اربعہ محدود رکھنے کے لئے، بیت بازی کا شغل بچوں کے جھگڑے سلجھاتے ہوئے ان کی الزام تراشیاں ، صفائیاں اور اس کے جواب میں مزید صفائیاں سن کر پورا کر لیا۔ بچے پورا خیال رکھتے تھے کہ الزامات ہم وزن ہوں اورصفائیاں ہم قافیہ۔
 بہاریں گزرتی رہیں اور ہمارا رومینٹک مزاج بھی ’میچور‘ ہوتا گیا۔ بابو، جانو، شونو.... سننے کی چاہ اب رافعہ کی تلخیص رافی، رافو، راف پر سمجھوتہ کر چکی تھی۔ ویلنٹائن ڈے پر کارڈ نہ سہی ایک گلاب کی خواہش اب بھی زندہ تھی اور تین بچوں کی والدہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی خاص موقعوں پر مسز ٹھیک ٹھاک کے اندر آج بھی مس رومینٹک زندہ ہو جاتی ہے جیسے آج....
 ’’مما!‘‘ بیٹی کی پکار پر ہم نے قلم روکا اور ڈائری بند کرکے کھڑے ہوگئے۔
 ’’آرہے ہیں بیٹا جانی۔‘‘ بیت بازی کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ 
 ساسو ماں کے ساتھ بچوں کو ان کی پھوپھو کے گھر روانہ کر، اوپر اپنے کمرے میں جاتے ہوئے ہم سوچ رہے تھے کہ آج سورج کس سمت سے نمودار ہوا تھا جو بچے رات میں اپنی پھوپھو کے گھر قیام کو راضی ہوگئے؟
 ’’کہیں یہ پھوپھو میری بیٹی کے لئے ابھی سے آہوں اور وظیفوں میں تو نہیں لگ گئیں ؟‘‘ سوچتے ہوئے ہم نے کمرے کی بتی جلانی چاہی لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر ہماری آنکھیں پھیلیں ، پھر مزید پھیلیں اور پھر.... اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں تھی سو لب پھیل گئے۔ بالکنی میں چھوٹی سی میز پر چاند کی روشنی میں جلتی موم بتیاں اور پھول دیکھ کر نہیں ، ہمارا دل دھڑکا تھا محترم ٹھیک ٹھاک کو دیکھ کر جو ہاتھ میں ہماری ڈائری تھامے مسکرا کر پکار رہے تھے....
 ’’رافو....‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK