عراق نے اپنی سرزمین سے خلیجی ممالک پر حملوں میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف سخت کارروائی کا عزم کیا ہےوزیراعظم علی الزیدی نے ہدایت دی ہے کہ ملوث افراد کے خلاف سخت اقدام کیے جائیں۔
EPAPER
Updated: May 21, 2026, 10:06 PM IST | Baghdad
عراق نے اپنی سرزمین سے خلیجی ممالک پر حملوں میں ملوث کسی بھی شخص کے خلاف سخت کارروائی کا عزم کیا ہےوزیراعظم علی الزیدی نے ہدایت دی ہے کہ ملوث افراد کے خلاف سخت اقدام کیے جائیں۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے بدھ کو ہدایت کی کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ عراقی سرزمین کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا گیا، تو ملوث افراد کے خلاف ضروری اقدامات کیے جائیں۔عراقی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ ہدایت مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے ترجمان صباح النعمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ ہدایت عراقی قومی سلامتی کونسل کے پہلے اجلاس کی صدارت کے دوران دی گئی۔ واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت آیا جب چند گھنٹے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے عراق سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری اور غیر مشروط طور پر اپنی سرزمین سے ہونےوالی مسلح کارروائی کو روکے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو جنگ خطے سے باہر تک پھیل جائے گی: پاسداران انقلاب
النعمان کے مطابق، الزیدی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت عراقی سرزمین یا فضائی حدود کو عرب ممالک اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی، اور اس معاملے پر فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔بعد ازاں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کی مذمت کا اعادہ کیاگیا۔ساتھ ہی النعمان نے کہا، ؔ’’اجلاس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے والے حملوں میں جاری تحقیقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس علاوہ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی۔‘‘ مزید برآںانہوں نے کہا، ’’حکومت کسی بھی ایسے فرد یا گروہ کو برداشت نہیں کرے گی جو عراق یا اس کے بھائیوں اور خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کو خطرہ پہنچانے کی کوشش کرے۔حکومت ملک کے استحکام کی حفاظت اور اس کی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی پابند ہے۔‘‘
ذہن نشین رہے کہ بدھ کوہی، متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’وہ عراقی سرزمین سے شروع کیے گئے ڈرون کے ذریعے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔‘‘اس نے مزید کہا کہ ڈرون میں سے ایک نے اتوار کو ابوظہبی میں بارکاہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا، جس سے پلانٹ کے باہر ایک جنریٹر میں آگ لگ گئی۔دریں اثناءوزارت خارجہ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں اہم شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے، عراقی سرزمین سے شروع کیے گئےحملوں کی شدید مذمت کی۔
اتوار کو، ابوظہبی میڈیا آفس نے اعلان کیا تھا کہ حکام نے بارکاہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے باہر ایک جنریٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا۔اسی دن، سعودی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ اس نے تین ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا جو عراقی فضائی حدود سے سعودی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ جس کے بعد عراق نے ایک سرکاری بیان میں اس حملے کی مذمت کی تھی۔
یاد رہے کہ خطے میں علاقائی کشیدگی اس وقت سےبرقرار ہے جب سے امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف حملے کیے تھے، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی حملے کیے ، نیز آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا۔حالانکہ پاکستان کی ثالثی سے ۸؍ اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی تھی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں دیرپا معاہدہ طے نہ ہو سکا۔ جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بعد میں جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا ساتھ ہی آبنائے ہرمز کے راستے ایرانی بندرگاہوں تک یا وہاں سے آنے والے بحری جہازوں پر ناکہ بندی برقرار رکھی۔