اُردو شاعری اور عوامی احتجاج کی شکل

Updated: February 02, 2020, 3:53 PM IST | Ali Sardar Jaafri

یہ مضمون کوئی چالیس پینتالیس سال قبل لکھا گیا ہوگا۔ تب کے اور آج کے حالات میں فرق ہے مگر شاعری کی عوام دوستی اب بھی کم نہیں ہوئی ہے

اُردو شاعری اور عوامی احتجاج کی شکل
مشاعروں کو سننے والے مختلف عمر اور زبان سے تعلق رکھتے ہیں

اردو کے اساتذہ صاحب ِ دیوان بننے سے پہلے مشاعروں میں سند حاصل کرتے تھے۔ قصائد، جن کے بعض حصے اعلیٰ شاعری کی اچھی مثال ہیں، کاغذ سے نہیں پڑھے جاتے تھے بلکہ بھرے درباروں میں سنائے جاتے تھے۔ جب شاعر اپنا کلام سنا سنا کر اور داد اور سند حاصل کرلیتا تھا تب کہیں جا کر دیوان مرتب کرنے کی ہمت کرتا تھا۔ میرؔ اور غالبؔ کے دیوان ان کے شہرت حاصل کرلینے کے بعد لکھے اور چھاپے گئے ہیں۔ ذرائع آمدورفت کے محدود ہونے کے باوجود ان کے اشعار ایک شہر سے دوسرے شہر میں سفر کرتے رہتے تھے۔انیسؔ اور دبیرؔ کے مرثیے شائع ہونے سے پہلے منبر سے سنائے جاتے تھے اور ان کے سننے والے عام لوگ تھے۔ داغؔ اور امیرؔمینائی ہی نہیں اقبالؔ بھی اپنا ابتدائی کلام مشاعروں میں سناتے تھے۔ آج بھی اچھے قوالوں کے پاس اقبال، غالب، حافظ، رومی، خسرو، سعدی اور عطار کا بہترین کلام ملے گا۔ اب بھی وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے حفیظ جالندھری کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ جیسی درس گاہوں میں ترنم سے شاہنامہ اسلام پڑھتے سنا ہے۔ وہ گھنٹوں اپنا کلام سناتے تھے اور علی گڑھ کے انتہائی سنجیدہ اساتذہ اور دانشور گھنٹوں بیٹھ کر سنتے تھے۔ صرف جگرؔ ہی نہیں بلکہ فراقؔ گورکھپوری نے بھی اپنی شہرت مشاعروں سے حاصل کی۔
 دراصل شاعری بنیادی طور سے گانے، سننے اور سنانے کی چیز ہے۔ (ترنم کے ساتھ اور بغیر ترنم کے) جو شاعری اس قابل نہیں ہے اس کا رشتہ عام انسانوں اور زندگی سے کٹ چکا ہے اور وہ اپنے جواز کے لئے یہ دلیل لارہی ہے کہ شاعری دراصل کتاب میں پڑھنے کی چیز ہے۔ وہ معمہ اور چیستان ہے جسے حل کرنے کیلئے سر کھپانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ وہ دلوں میں نہیں اترسکتی اس لئے دلیلوں کے سہارے زندہ رہنا چاہتی ہے۔ دنیا کی عظیم شاعری سہل ممتنع ہے،جو شاعری یہ کیفیت حاصل کرلیتی ہے وہ تمام تاریخی، قومی، لسانی سرحدوں کو توڑ دیتی ہے اور بنی آدم کی میراث بن جاتی ہے۔ اسکی شہادت شیکسپئر، حافظ، سعدی، خیام، پشکن، غالب، ٹیگور سب دے  سکتے ہیں۔
 یہ جھوٹ انحطاطی شاعرو ںکی طرف سے بولاجارہا ہے کہ مشاعرے اچھی شاعری کے دشمن ہیں اور اس کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان نئے شاعروں کو پہنچ رہا ہے۔ وہ اپنا کلام سنانے سے پہلے چھاپ دیتے ہیں۔ نتیجہ مایوسی اور گمنامی ہے۔ اقبالؔ نے شاعری شروع کرنے کے تقریباً ۳۰؍ سال بعد ، جوشؔ نے ۲۰؍سال بعد، مجازؔ اور فیضؔ نے تقریباً ۱۵؍ سال  اور فراقؔ نے ۲۰۔۲۵؍ سال بعد اپنا کلام کتابی شکل میں شائع کیا۔
 اس زمانے میں اردو شاعری ایک نئی صورت ِ حال سے دوچار ہے۔ گزشتہ پچاس سال میں اردو کے ساتھ جو بے انصافی کی گئی ہے اس کی وجہ سے اس زبان کی بساط سکڑ گئی ہے۔ آج کی طاقتور ریاستوں کے عہد میں جو زبان تعلیم اور سرکاری نظم و نسق سے نکال دی جائے گی اس کی بساط یقیناً سمٹتی چلی جائے گی  اور اس کے سمجھنے والوں کی تعداد روزبروز کم ہوتی جائے گی، یہی اردو کے ساتھ ہوا۔  لیکن چونکہ بول چال میں اب بھی اردو زبان اپنے سارے حسن کے ساتھ حاوی ہے اس لئے فلموں میںبھی یہی زبان ہندی کے نام پر استعمال ہورہی ہے ۔ اس نے اردو کو ایک ہندوستان گیر مقبولیت عطا کردی ہے اور اس کے ساتھ مشاعروں کی مقبولیت بھی بڑھ گئی ہے۔  یہ دراصل عوام کے احتجاج کی ایک شکل ہے۔ یہ خاموش احتجاج اردو شاعری کی مقبولیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ گزشتہ بیس سال میں جب اردو کچلی گئی ہے تو اس زبان کا نام کروڑوں آدمیوں تک صرف فلموں اور مشاعروں کے ذریعے سے پہنچا ہے۔ اس نے اردو کو سامعین کا ایک نیا گروہ دیا ہے جو اردو تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے زبان کو کم سمجھتا ہے لیکن اس کے حسن اور لطافت کا گرویدہ ہے۔ یہ گروہ مشاعروں میں بڑی تعداد میں نظر آتا ہے اور حسب توفیق شعر سے لطف لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس گروہ کے خلاف حقارت کا انداز ایک ایسے احساس برتری کا نتیجہ ہے جس سے اردو زبان اور ادب کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔
   دوسرا گروہ ان حضرات پر مشتمل ہے جو اس اعتبار سے خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے اردو کی تعلیم حاصل کی ہے اور شعر کی بہترین روایت سے واقف ہیں۔ اس گروہ کا ذوق سنجیدہ ہے لیکن پھر بھی صرف کلاسیکی ہے۔اردو کی عام تعلیم کی کمی کی وجہ سے یہ گروہ خود اپنے اندر سمٹ گیا ہے۔ اس نے اساتذہ کے کلام کو کلیجے سے لگا رکھا ہے اور نئے شاعروں کو نظرانداز کردیا ہے۔
 اس ثقہ اور روایتی مزاج کے گروہ کے ردعمل میں ایک تیسرا گروہ وہ پیدا ہوگیا ہے جو سامع بھی ہے اور شاعر بھی، وہ اردو کی ساری روایت کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنے آپ کو بے انتہا جدید سمجھتا ہے۔ یہ گروہ مغرب کی  اندھی تقلید میں مبتلا ہے۔ اس نے مغرب کی صحتمند روایت سے تخلیقی اثر نہیں قبول کیا۔
 اور آج کا اردو شاعر ان تینوں گروہوں کے درمیان حیران و پریشان ہے۔ اس کے سامعین اور قارئین ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں اور یہ تینوں ٹکڑے آپس میں ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے۔ ان حالات میں اردو شاعروں کا کام خاصا دشوار ہوگیا ہے لیکن اس دشواری کے باوجود شاعر ہی ہے جو ان تینوں گروہوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرسکتا ہے۔ اگر اردو کی نئی شاعری اپنی روایت کے احترام کے ساتھ نئی تکنیک اور جدت کی طرف قدم بڑھائے گی اور آج کے اجتماعی عرفان کو اپنے ذاتی عقیدے سے ہم آہنگ کرے گی تو وہ شاعری پیدا ہوسکے گی جو بیک وقت زمانے کی طرح بوڑھی اور جوان ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK