نئے سال میں اُردو کے فروغ کے منصوبوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے

Updated: January 05, 2020, 10:25 AM IST | Prof Aslam Jamshedpuri

وقت کے کلینڈر کا ایک ورق اور اُلٹ گیا۔ ۲۰۲۰ء دبے قدموں آگیاہے۔ ۲۰۱۹ء تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، مگر جاتے جاتے اپنے بہت سے نشانات ثبت کر گیا ہے۔ اُردو ادب کے تعلق سے یہ سال خاصا یاد گار رہا۔ اسی سال پنجاب یونیورسٹی کے نصاب میں اُردو کو غیر ملکی زبان کے خانے میں رکھا گیا جس پر خاصا ہنگامہ بپاہوا تو بعد میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس غلطی کی اصلاح کی۔

علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

وقت کے کلینڈر کا ایک ورق اور اُلٹ گیا۔ ۲۰۲۰ء دبے قدموں آگیاہے۔ ۲۰۱۹ء تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، مگر جاتے جاتے اپنے بہت سے نشانات ثبت کر گیا ہے۔ اُردو ادب کے تعلق سے یہ سال خاصا یاد گار رہا۔ اسی سال پنجاب یونیورسٹی کے نصاب میں اُردو کو غیر ملکی زبان کے خانے میں رکھا گیا جس پر خاصا ہنگامہ بپاہوا تو بعد میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس غلطی کی اصلاح کی۔ اسی سال دہلی کورٹ نے محکمہ ٔ پولیس کو اُردو فارسی کے مختلف الفاظ استعمال نہ کرنے کا حکم جاری کیا جس پر اُردو والوں میں خاموشی چھائی رہی۔ یہ حکم اب تک کا لعدم نہیں ہوا ہے۔ اتر پردیش اردو اکادمی کی ایوارڈ کمیٹی کے اُس فیصلے کی خاصی مخالفت ہوئی جس میں انعامات کمیٹی کے چیئر مین اور دو ممبران کو بھی انعامات کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ نہ صرف اتر پردیش بلکہ ہندگیر سطح پر بھی اس فیصلے کی مذمت ہوئی اور اتر پردیش حکومت نے فیصلے پر روک لگادی جو آج تک ہے۔ 
 ۲۰۱۹ء اس لیے بھی یادگار ہے کہ اس سال کئی نئے رسالے منظر عام پر آئے۔ اتر پردیش اردو اکادمی نے بچوں کیلئے ایک بے حد دیدہ زیب ماہانہ رسالہ ’’ باغیچہ‘‘ جاری کیا ۔ اس کا پہلا شمارہ جنوری ۲۰۱۹ء میں منظر عام پر آیا، اور اس کا اجراء ۱۲؍ فروری ۲۰۱۹ء کو اتر پردیش اردو اکادمی کی چیئر پرسن پروفیسر آصفہ زمانی، سکریڑی سید رضوان، مدیر اعزازی ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی، مخمورکاکوری وغیرہ کے ہاتھوں اکادمی کے آڈیٹوریم میں ہوا۔ رسالے کی خوبی یہ ہے کہ یہ ملٹی کلر اور دبیز چکنے کاغذ پر ۶۰؍ صفحات میں پھیلا ہوا ہے۔ مضامین، کہانیاں، منظومات کے علاوہ سائنس، طب، ماحولیات، لذید پکوان، دنیا جہاں (سیر سپاٹا) کے ساتھ ساتھ بچوں کی ذ ہنی ورزش کے لئے بھی کئی سلسلے بھی ہیں۔ سب سے آخرمیں پورے شمارے میں استعمال ہونے والے بعض ثقیل الفاظ کے معنی درج ہیں۔ بہت دنوں بعد اردو میں ایک بہت کار آمد رسالہ بچوں کیلئے منظر عام پر آیا ہے۔ رسالے کی تیاری کی ذمہ داری خصوصی طور پر ڈاکٹر شمیم احمد صدیقی کے سپرد کی گئی ہے جو خود بچوں کے اچھے ادیب ہیں۔
 پٹنہ سے واہی اکیڈمی نے ایک بامقصد اور خوبصورت ماہانہ رسالے ’’سفیرادب ‘‘ کی اشاعت اگست ۲۰۱۹ء سے شروع کی ہے۔ دراصل یہ اکیڈمی معروف مزاحیہ و طنز یہ شاعر رضا نقوی واہی کی یاد میں قائم ہے جس کے صدر رضا نقوی واہی کے صاحبزادے عابد نقوی ہیں۔ عابد صاحب رسالے کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔ رضا نقوی واہی کے دوست، افسانہ نگار اور صحافی ڈاکٹر شاہد جمیل رسالے کے مدیر ہیں۔ رسالہ اب تک پابندی سے شائع ہو رہا ہے اور اپنی منفرد شناخت قائم کر رہا ہے۔ گلیز پیپر پر خوبصورتی سے شائع ہونے والے اس رسالہ میں تحقیقی و تنقیدی مضامین، افسانے، شاعری اور تبصرے کے ساتھ ساتھ ہر شمارے میں’’ خزائن ادب‘‘ کے تحت مشاہیر کی تخلیقات شائع ہوتی ہیں جبکہ ’’ ثمرِ کوہ کنی‘‘ کے تحت تحقیقی مقالات شائع کئے جاتے ہیں۔ 
 ممبئی سے نیوز ٹاؤن پبلشر کے زیراہتمام ایک سہ ماہی رسالہ ’’ادب گاؤں‘‘ کا پہلا شمارہ ( اپریل تا جون ۲۰۱۹ء) شائع ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبدالباری ایم کے، کی ادارت اور اشتیاق سعید کی ترتیب و تہذیب میں ادب گاؤں نے بہت جلد مقبولیت حاصل کی ہے۔ رسالے کا عنوان اور گاؤں سے متعلق تخلیقات کے سبب رسالہ اردو والوں میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہے۔ رسالے نے برسوں سے چلے آرہے مفروضے کو بھی ختم کیا ہے کہ رسائل میں صرف نئی تخلیقات ہی شائع ہوتی ہیں۔ رسالے کے پہلے ہی شمارے کے اداریے کا یہ جملہ ’’ادب گاؤں میں غیر مطبوعہ تخلیقات کا قطعی گزر نہیں، اس میں صرف مطبوعہ چیز یں ہی شائع ہوں گی ۔‘‘ پوری اردو دنیا کو حیرت میں ڈال گیا۔ ’ادب گاؤں ‘نے مطبوعہ، معیاری تخلیقات کو دوبارہ اس طرح شائع کیا ہے کہ جواب نہیں۔ اب تک رسالے کے تین شمارے اپنے وقت پر منظر عام پر آچکے ہیں ۔
 جب سے یوجی سی کے ذریعہ ’’اے پی آئی‘‘ کا فرمان جاری ہوا، اردو میں یونیورسٹی، کالجز کے علاوہ متعدد سہ ماہی رسائل شائع ہونے لگے ہیں۔ ان میں زیادہ تر اساتذہ اور نوجوان اسکالرز کے تحقیقی و تنقیدی مضامین شائع ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک اُردو جرنل ’’ سہ ماہی ساغرِ ادب ‘‘ مظفر پورسے ڈاکٹر سید آل ظفر کی ادارت میں شائع ہونا شروع ہوا ہے جس پہلا شمارہ اپریل تاجون ۲۰۱۹ء کی شکل میں شائع ہواہے۔ رسالے میں اساتذاہ اور اسکالرز کے علاوہ ریسرچ اسکالرز کے مقالات بھی خاصی تعداد میں شامل ہیں۔ ایک بہت ہی کار آمد رسالہ جو اب تک تسلسل اور پابندی سے شائع ہورہا ہے۔ جلگاؤں، مہاراشٹر سے سہ ماہی رسالہ ’’ صحیفۂ محبت‘‘ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ اس کا پہلا شمارہ اپریل تاجون ۲۰۱۹ء ہے۔ اس کے مدیر معروف شاعر ہارون عثمانی اور معاون مدیر جاوید انصاری ہیں۔ اب تک اس کے دو شمارے شائع ہوچکے ہیں۔ 
 دوران سال ، ہرسال کی طرح مختلف اکادیمیوں اور اداروں نے ایوراڈز کا اعلان کیا جو تفصیل کے ساتھ اخبارات میں شائع ہوچکا ہے۔ اسی طرح مختلف سیمینار ، کانفرنس اور ورکشاپس کی خبریں بھی اخباروں کی زینت بنتی رہیں۔ 
  دوران سال اردو کے متعدد نامور ادیب، شاعر اور تنقید نگار ہم سے رخصت ہو گئے۔ جن کی جگہ پرہونا بہت مشکل ہے۔ اُردو زبان وادب کو ان کے جانے سے نا قابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ معروف ترقی پسند ناقد پروفیسر سید عقیل رضوی ۲۰؍ دسمبر کو ہم سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہوئے۔ ان کے ساتھ ترقی پسند تحریک کے ایک دور کا خاتمہ ہوا۔ ہندوستان کے معروف شاعرعلقمہ شبلی بھی دار فانی کو الودع کہہ گئے۔ اردو شاعری خصوصاً بنگال کی اردو شعری روایت کا ایک اہم ستون گر گیا ۔ مشترکہ تہذیب کے علمبردار اردو فکشن نگار نند کشور وکرم نے ۲۷؍ اگست کو آخری سانس لی۔ عالمی اردو ادب کے بانی مدیر نند کشور وکرم نے اردو ادب کا ایک عالمی انتخاب تسلسل کے ساتھ شائع کیا۔ اردو معاشرتی ناول کا معتبر نام، معروف ناول اور افسانہ نگار مسرور جہاں نے بھی ۲۲؍ ستمبر کو ہم سے منھ موڑ لیا۔ اردو نے ایک بے باک، نڈر اور باوقار فکشن نگار کھو دیا۔ سہ ماہی’’ رنگ‘‘دھنباد کے مدیر، اچھے شاعر شان بھارتی بھی ہمیں روتا چھوڑ گئے۔ پاکستان کے ہر دل عزیز افسانہ نگار،ناول نگار حامدسراج اور ادب لطیف کی مدیر صدیقہ بیگم نے بھی دسمبر میں ملک عدم کی راہ لی۔ جدید افسانہ نگار، ناول نگار انور سجاد بھی’’خوشیوں کا باغ ‘ چھوڑگئے۔ انور سجاد کے ساتھ جدید افسانے کا آخری قلعہ بھی مسمارہوا۔ ۲۰۱۹ء رخصت ہو چکا ہے ۔ ہم نے نئے سال کو خوش آمدید بھی کہہ لیا ہے۔ اب سنجیدگی سے اُردو کے حوالے سے غور و فکر کر نے اور اس سال اردو کے فروغ کے منصوبوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ بہت زیادہ نہیں صرف اتنا کر لیں کہ اُردو کے حقوق کی پامالی اور ناانصافی کے خلاف کم از کم، آواز ضرور اُٹھائیں۔ اپنی اپنی ریاستی حکومتوں کو حقیقی فروغ ِاُردوکے منصوبے بنانے اور عمل میں لانے کی جانب مائل کریں۔ لیکن ان سب سے پہلے ہم خود اردو کی محبت کا عملی ثبوت دیں۔ غالباً یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ اُردو کی محبت کا عملی ثبوت دینے کیلئے ہم میں سے ایک ایک شخص کیا کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK