( اُردو نعروں، نظموں اوراشعارسے احتجاجی مظاہروں کوتوانائی مل رہی ہے (۲

Updated: January 28, 2020, 1:19 PM IST | Hamza Fazal Islahi

آپ کی نظر سے انگریزی اخبارات میں ’اردو از اے لینگویج آف غزل ‘( اردو غزل کی زبان ہے) یا ’اردو از اے لینگویج آف پوئٹری‘( اردو شاعری کی زبان ہے ) جیسی سرخیا ں گزری ہوں گی ۔

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے

شام اودھ سنتے ہی ذہن  کے اسکرین پر ایک ایسے شہر کی تصویر   ابھر تی ہے  جہاں اداسی کا نام و نشان نہیں ہے، خوشیا ں ہی خوشیاں ہیں،  صرف تفریح کے مواقع ہیں، رومانی فضا  ہے اور  ہر طرف محبت کی خوشبو بکھری ہوئی ہے ۔ شاعروں نے بھی   اس مخصوص شام کی تعریف کی ہے۔ لکھنؤ کی سیر کرنے والے  ادیبو ں نے بھی اپنے سفرناموں میں شام اودھ کی شان میں نثری قصیدے لکھے ہیں۔    اردو ادب کی تاریخ میں لکھنؤ اور دہلی کی کشمکش  سےسب واقف ہیں ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب دہلی میں سنجیدہ  ادب تخلیق کیا جارہا  جبکہ لکھنؤ کے ادیبوں کی تخلیق  پر شوخی  اور  ادا و ناز جیسے جذبات حاوی تھے۔  نقادوں نے لکھا ہے کہ لکھنؤ میں زوال آیا، نوابوں کا سرمایہ ختم ہونے لگا، یہاں کے لوگ خصوصاً نواب  اپنا غم غلط کرنے کیلئے  عیش و عشرت میں  پڑگئے۔ اپنی شاموں کو یاد گار بنانے لگے۔  رقص و سرور کی محفلیں سجانے لگے۔ اس  طریقے سے اپنی کمزوری چھپائی جاتی تھی۔ اپنے  عیب پر پردہ ڈالاجاتا تھا۔ آج  اسی اود ھ میں صبح وشام ’آزادی‘ ہی نہیں بلکہ ’ ہم لے کر رہیں گے آزادی‘ ’میرے کفن پر لکھ دو آزادی‘ جیسے فلک شگاف نعرے  سنا ئی دے رہےہیں۔  مظاہرین کے بینروں  پر ’تمہاری لا ٹھی سے تیز آواز  ہماری ‘ جیسے نعرے بھی ہیں۔   اس طرح    اودھ کی  رومانی  شامیں بھی ’انقلابی‘  ہوگئی ہیں۔ اس کی فضاؤں میں انقلابی نغمے گونج رہے ہیں۔اردو زبان و ادب کی سر زمین لکھنؤ کے تاریخی مقام گھنٹہ گھرکے مظاہرے میں شریک  ایک خاتون کاوش عزیز کہتی ہیں: ’’تم لگاؤ ہتھکڑی تم چلاؤ لاٹھیاں/  اب مناؤ خیر تم  نکل  پڑی   ہیں  بیٹیاں/ سیاستوں کی آڑ میں جو ظلم تم نے ڈھائے ہیں/ روایتوں کو توڑ کر نکل پڑی ہیں بیٹیاں/ نہ ڈر پولیس کا ہے انہیں نہ وردیوں کا خوف ہے/ تمہارا تخت توڑنے نکل پڑی ہیں بیٹیاں/ مکان چھین لو گے تم دکان چھین لوگے تم/ تمہارے ڈر کو روندنے نکل پڑی ہیں بیٹیاں/ لباس ہی میں  ڈھونڈتے رہوگے نام، دھرم تم/ یہاں ترنگا اوڑھ کے نکل پڑی ہیں بیٹیاں/یہ دہلی کی شاہین ہیں یہ لکھنؤ کی زینتیں/ سنبھالنے کو مورچہ نکل پڑی ہیں بیٹیاں/ لگاؤ جتنے’ لان چھن‘ لگانا ہے لگا ہی لو/یہ گالیاں’ نکار‘ کر نکل پڑی ہیں بیٹیاں/ چرا کے کمبلوں کو تم بچھونا چھین لیتے ہو/ کراکے روشنی کو گل، اجالا چھین لیتے ہو/ کبھی ہو مارتے انہیں کبھی ہو کوستے انہیں/ ان عادتوں پہ تھوک کر نکل پڑی ہیں  بیٹیاں۔‘‘  
 یہ  ایک پر وفیشنل فوٹو گرافر کی تخلیق ہے  جنہیں این ڈی ٹی وی  کے صحافی کمال خان نے اپنی گراؤنڈ رپورٹ  میں متعارف کروایا ہے۔ مختلف مناظر کو اپنے کیمرے میں قید کرنے والی کاوش عزیز نےبڑی سادگی سے گزشتہ چالیس پینتالیس دن سے ملک بھر میں جاری  تحریک میں خواتین کے کردار کو  نمایاں کیا ہے۔ آخری سطروں میں لکھنؤ پولیس  کے مظالم اور بیٹیوں کے حوصلے کا پُراثر  بیان ہے۔  نظم  کی لفظیات میں’ لان چھن ‘  (بہتان ،الزام تراشی) اور’نکار‘( انکار )  ۲؍ لفظ اردو کے نہیں ہیں لیکن ان  سے نظم کی مجموعی لفظیات متاثر نہیں ہوئی۔ ادبی نقطۂ نظر سے اس کی خوبیوں اور خامیوں  پر بحث کی جا سکتی ہے، حالانکہ کا وش عزیز خود کو شاعرہ اور ادیبہ نہیں بتارہی ہیں اس کے باوجود  ان کا بہت صاف اور واضح  ہے۔    
  اسی گھنٹہ گھرکے دھرنے میں شامل نوجوان طالبہ ام کلثو م کہتی ہیں: ’’ میں ہندوستان کی بیٹی ہوں/ماتھے پر بندی لگاتی ہوں/اذان پہ سر ڈھک لیتی ہوں/میں ہندوستان کی بیٹی ہوں/ہررنگ میں میں ملتی ہوں/ یوپی بہار میں ساڑی /پنجاب میں سوٹ پہنتی ہوں/ میں ہندوستان کی بیٹی ہوں/ ہر رنگ میں میں ملتی ہوں/ درگاہ میں ہاتھ پھیلاتی ہوں/ مندر میں ہاتھ جوڑتی ہوں/ بھنڈارے میں میں نے سبزی کھائی ہے/لنگر میں دال مکھنی پنیر کھائی اور کھلائی ہے/ سبیلوں سے شربت بھی میں پیتی ہوں/ گردوارے میں سیوا کرکے/ ثواب میں کماتی ہوں/میں ہندوستان کی بیٹی ہوں/ہررنگ میں میں ملتی ہوں/رمضان میں میں نے رکھے روزے/اور پیار میں کروا چوتھ ورت بھی رکھ لیتی ہوں/میں ہندوستان کی بیٹی ہوں/ ہررنگ میں میں ملتی ہوں/ سنسکرت اسکول میں پڑھی / اردو کی شاعری سنتی ہوں/ کبیر کے دوہے، پریم چند کی کہانیاں/ اور فیض کے شعر پڑھتی ہوں/ میں ہندوستان کی بیٹی ہوں/ ہررنگ میں میں ملتی ہوں/ گائتری منتر یاد ہے مجھے/ میلاد میں نعت پڑھتی ہوں/ اور گروبانی سن کر سکون ملتا ہے/ نماز میں سجدہ / گردوارے میں متھا ٹیکتی ہوں/ میں ہندوستان کی بیٹی ہوں/ ہررنگ میں میں ملتی ہوں/ دیوالی میں جلائے دیئے/ عید میں سوئیں کھائی / لوڑی میں کیا بھانگڑا/ کرسمس میں ہر سال / چرچ میں کینڈل جلائی / اور ہولی میں گلال لگاتی ہوں/ رمضان میں افطار کرواتی ہوں/ میں ہندوستان کی بیٹی ہوں/ ہررنگ میں میں ملتی ہوں/ میں بڑوں کے پیر چھوتی/ جھک کر سلام کرتی ہوں/ میں جامعہ کی چندا یادو بھی ہوں/ جےاین یو کی شہلارشید بھی ہوں/ میں لدیدہ بھی ہوں/ صدف جعفر بھی ہوں/ سورا بھاسکر بھی ہوں/ اور ہماری ایکتا کو بھارت ماں نے/ پلو میں باندھا ہے/ حجاب سا سر پہ بٹھایا ہے/ تم کتنا ساڑی کھینچو گے/ میں آدم حوا کی اولاد ہوں/ دروپدی سا تیج رکھتی ہوں/ میں ہندوستان کی بیٹی ہوں/ ہررنگ میں میں ملتی ہوں۔‘‘
    اس نظم میں  ہندوستان کے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا ذکر ہے ۔  اس میںماضی  ہے ، حال ہے،  تیج اور تہوار ہیں اور فرقہ وارانہ یکجہتی کا ماحول ہے۔  اس میں عزائم کی بلند ی کا اظہار بھی ہے مثلاً  یعنی تم  ساڑی کھینچتے کھینچتے  تھک جا ؤ گے مگر ڈٹی  رہیں گی۔   اسی رنگ میں نوجوان شاعر حسین حیدری نے ’  ہندوستانی مسلمان‘ تخلیق کی ہے۔ ام کلثوم کی مذکورہ نظم اور حسین حیدری کی ’ہندوستانی مسلمان‘    کے کچھ پہلو مشترک ہیں ۔  دونوں  نے مشترکہ تہذیب کو موضوع بنا یا اور  ایک سیکولر ہندوستان کی تصویر پیش کی ہے۔حسین حیدری کہتےہیں : ’’مجھ میں گیتا سار (خلاصہ) بھی ہے/ اک اردو کا اخبار بھی ہے/ مرا اک رمضان بھی ہے/ میں نے کیا تو گنگا اسنان بھی ہے..‘‘  معروف صحافی رویش کمار کے الفاظ میں کہوں تویہ نظم  یوٹیوب کے تہ خانے میں دبی ہوئی تھی ، احتجاجی  مظاہروں میں  ابھر گئی۔ ایک بار پھر مقبول  ہوگئی۔ احتجاجی مظاہروں میں پڑھی جانی لگی، حالانکہ حسین حیدری اسے ۲۰۱۷ء سےسنا رہے ہیں۔ اس نظم میں مسلمانوں کے طبقات، پیشوں اور ان کی سماجی و معاشی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
  اسی شاعر کی ایک  علامتی نظم ’ چھپکلی ‘ بھی ۲۰۱۷ء ہی میں منظر عام پر آئی تھی ۔  یہ نظم بھی ان  دنوں دھوم مچارہی ہے۔ ملاحظہ کیجئے:’’ خاکی رنگ دیواروں پر/ لٹکتی گاندھی جی کی / بڑی سی فوٹو کے / پیچھے سے  دوپہری میں /  ایک لمبی بھوری سی / چھپکلی  نکلتی ہے/ رینگ کر خاموشی سی / ارد گرد فوٹو کا / گشت یہ لگاتی ہے/  اور جیسے ہی کوئی /کیٹ پتنگااڑ کر / پاس سے گزرتا ہے/ دھر دبوچ لیتی ہے/  پنکھ نوچ دیتی ہے/ مانس چبا جاتی ہے/ زندہ نگل جاتی ہے/ پھر بڑے سلیقے سے/ جیسے کچھ ہوا نہ ہو/ کوئی بھی مر ا نہ ہو/  رینگتی ہوئی واپس /گاندھی جی کی فوٹو کے / پیچھے لوٹ جاتی ہے۔‘‘ 
 اسی علامتی رنگ میںیہ شعر : ’’ذرا موسم تو بدلا ہے مگر پیڑوں کی شاخوں پر نئے پتوں کے آنے میں ابھی کچھ دن لگیں گے= بہت سے زرد چہروں پر غبار غم ہے کم بے شک پر ان کو مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے‘‘بھی موضوع بحث ہےجسے مشہور شاعر اور نغمہ نگار  جاوید اختر  نے جشن ریختہ میں سنایا تھا ۔   
  اسی طرح ترقی پسند ہندی شاعر اور شمالی ہند کے مشاعروں کے مقبول ترین شاعر عدم گونڈوی کا  یہ کلا م بھی مظاہروں میں   پڑھا  جارہا ہے :’’ ہندو یامسلم کے احساسات کو مت چھیڑیے/ اپنی کرسی کیلئے جذبات کو مت چھیڑیے/ ہم میں کوئی ہون، کوئی شک، کوئی منگول ہے/ دفن ہے جو بات، اب اس بات کومت چھیڑیے/  غلطیاں بابر کی تھیں جمن کا گھر پھر کیوں جلے/ ایسے نازک وقت میں حالات کو مت چھیڑیے/ چھیڑیے اک جنگ، مل جل کر غریبی کے خلاف/ دوست، میرے مذہبی نغمات کومت چھیڑیے۔‘‘
  اسی طرح راحت اندوری  کے اشعار: ’’جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے=کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے/سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں=کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے​ ۔ ‘‘ کو مظاہروں نے ایک بار   زندہ کردیا  ہے ۔  ’عوامی شاعر‘ عامر عزیز کے کلام    ’سب یاد رکھا جائے گا‘ اور ’ جامعہ کی یہ لڑکیا ں ‘  بھی مظاہروں کا حصہ ہیں۔ ایسی ہی بہتیری نظمیں اور اشعار مظاہروں کو  آب و تاب  بخش ر ہے ہیں۔  یہاں سب کا احاطہ ممکن نہیں بلکہ  ان چند مثالوں کے ذریعہ کہنا یہ ہے کہ ملک بھر میں جاری یہ تحریک اُردو کی مقبولیت کی نئے سرے سے توثیق کررہی ہے۔ کہیں کہیں  کلام فنی اعتبار سے کمزور بھی ہےمگر سب  کا منشاء  ناانصافی کیخلا  ف آواز  اٹھا نا ہے ۔ اردو شاعری اور الفاظ جیسےموثر ذریعہ  سےظالم کو للکارنا اور مظلوم کو حوصلہ دینا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK