یوپی: بہت کچھ بدلے گا مگر عوامی فیصلہ نہیں

Updated: January 19, 2022, 4:18 PM IST | Mumbai

اُترپردیش میں ’’حکومت مخالف ووٹ‘‘ سر چڑھ کر بول رہا ہے جسے انگریزی میں اینٹی اِن کمبنسی اور ہندی میں ’’ستا ّ ورودھی لہر‘‘ کہا جاتا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 اُترپردیش میں ’’حکومت مخالف ووٹ‘‘ سر چڑھ کر بول رہا ہے جسے انگریزی میں اینٹی اِن کمبنسی اور ہندی میں ’’ستا ّ ورودھی لہر‘‘ کہا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی نے خود کو وکاس پر ُش باور کرانے کی بہتیری کوشش کی مگراُن کا معاملہ ایسے پردیش سے ہے جہاں کے رائے دہندگان کی سیاسی سوجھ بوجھ کو کسی بھی زاویئے سے کم آنکا نہیں جاسکتا۔ گزشتہ پانچ سال کے حالات اور واقعات اس پردیش کے عوام کی نوک زبان پر ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، ترقیاتی دعوؤں کی حقیقت، انتخابی حلقوں میں کام نہ ہونے کی شکایت، نوجوانوں کی آرزوؤں اور اُمنگوں پر پورا نہ اُتر پانے کی ہزیمت، کورونا کی دوسری لہر کے دوران حالات کا مقابلہ کرنے میں حکومت کی شرمناک ناکامی اور ایسی تمام کوتاہیوں پر گنا ّ بنام جناح، رام مندر یا ۲۰؍ بمقابلہ ۸۰؍ کی بیان بازی کے ذریعہ پردہ ڈالنے کے جو حربے آزمائے جارہے ہیں وہ اُن پر پوری طرح واضح ہیں۔ وہ کسی بھی طرح کی غلط فہمی میں نہیں ہیں۔ عوام کے جذبات و احساسات کو یوگی کی پارٹی نے بہت پہلے محسوس کرلیا جس کا نتیجہ تھا کہ تین زرعی قوانین واپس لے لئے گئے جن پر پارٹی اور حکومت ایک سال سے اَڑے ہوئے تھے۔ مگر، اس فیصلے میں بھی اتنی دیر کردی گئی کہ وزیر اعظم کے اچانک اعلان کو یوپی کے باشعور عوام نے سیدھے الیکشن سے جوڑ کر دیکھا، اس لئے وہ فیصلہ، جو ایک سال تک نہیں ہوسکا تھا، عوام میں ایک ہفتہ بھی نہیں ٹھہر پایا اور سب نے اسے انتخابی مجبوری قرار دیا اور یہ تک بھلا دیا کہ فیصلہ اُس حکومت اور اُس کے ایسے سربراہ نے واپس لیا ہے جو فیصلہ واپس نہ لینے کے عادی ہیں۔  عوام کے جذبات و احساسات کو پارٹی کے چند اراکین اسمبلی اور وزراء نے بھی محسوس کیا چنانچہ دیر سے ہی سہی، اُنہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا جس سے یوگی حکومت اور پارٹی کے لیڈروں کی نیند اُڑ گئی۔ دو چار نہیں، گیارہ اراکین اسمبلی اور تین وزراء نے پارٹی کو ٹھکرادیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ گزشتہ چھ سات سال کے دوران جب بھی الیکشن آیا اور جہاں بھی آیا، دیگر پارٹیوں سے نکل کر بی جے پی میں شامل ہونے کا رجحان ہی سب سے طاقتور رجحان کے طور پر دیکھنے کو ملا تھا مگر اِس بار ہوا کا رُخ ایسا بدلا کہ دیگر پارٹیوں سے نکل کر بی جے پی میں آنے والوں سے زیادہ بی جے پی سے نکل کر دیگر پارٹیوں بالخصوص سماج وادی پارٹی میں جانے والے خبروں پر غالب آگئے۔ معلوم ہوا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے مغربی بنگال میں بھی یہی کیفیت تھی مگر وہاں جو کچھ بھی ہوا وہ الیکشن میں ممتا بنرجی کی غیر معمولی کامیابی کے بعد ہوا، اکھلیش کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اُن کے پاس آنے والی بھیڑ الیکشن سے پہلے ہی اُن کے دربار میں حاضر ہوگئی۔ اب؟ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یوگی حکومت اپنی عوام فراموشی کی کتنی ضربیں سہتی ہے اور سماج وادی پارٹی ایک مضبوط نعم البدل کی حیثیت سے عوام کی کتنی حمایت کی مستحق قرار پاتی ہے۔ سزا و جزا کا یہ عوامی فیصلہ ۱۰؍ مارچ کو منظر عام پر ہوگا۔ اس سے پہلے بہت کچھ ہوگا، موضوعات کو بدلنے کی کوشش ہوسکتی ہے، سیاسی منظرنامے کو بھی بدلنے کا جتن ہوسکتا ہے اور ممکن ہے ریاست کے حالات کو بھی بدلنے کی جرأت کی جائے، مگر جتنا سخت عوامی ردعمل ظاہر ہورہا ہے اُس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اِس مرتبہ عوام نے ٹھان لی ہے، وہ کسی بھی بہکاوے میں نہیں آئینگے۔اُن کی گفتگو سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ پولنگ کے دن کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں تب تک موقع ہے کہ سیاسی ڈراموں سے محظوظ ہوا جائے۔ یہ بہترین انٹرٹیمنٹ ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK