اب ہم ہنسا کے پجاری بن چکے ہیں

Updated: July 15, 2020, 12:34 PM IST | Parvez Hafiz

آٹھ پولیس والوں کے قتل کے لئے تو وکاس کو ٹھکانے لگادیا گیا لیکن کیا اترپردیش حکومت اس پولیس اہلکار کی شناخت کرکے اسے سزا دلوائے گی جس کی غداری کے باعث اس کے آٹھ ساتھیوں کو جان دینی پڑی؟

Vikas Dubey : Pic : PTI
وکاس دبے ۔ تصویر : پی ٹی آئی

  پولیس کے ہاتھوں وکاس دوبے کا مارا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ جو لوگ بندوق کے دم پر   جیتے ہیں وہ بندوق کے ذریعہ ہی مرتے ہیں۔ آخر کار دنیا میں مکافات عمل بھی تو کوئی چیزہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وکاس جیسا انسان ابھی چند روز قبل تک اسی مہذب معاشرے کا حصہ تھا جس میں ہم اور آپ رہتے ہیں۔ کانپور کے مختلف تھانوں میں اس پر ۶۰؍  سے زائد مقدمے درج ہیں جن میں نصف درجن قتل اور آٹھ اقدام قتل کے ہیں۔ ۲۰۰۱ء میں شیولی تھانے میں گھس کر اس نے بی جے پی کے ایک ریاستی وزیر سنتوش شکلا کوگولی مار دی تھی۔ اتنے سنگین جرائم کے ارتکاب کے بعد دوبے کا ساری زندگی جیل میں سڑنا طے تھا لیکن ہوا اس کا الٹا۔ وہ نہ صرف آزاد فضا میں سانس لیتا رہا بلکہ اپنے پرتشدد کارناموں کیلئےاسے سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہوگئی اور قتل و غارت گری کے انعام کے طور پر سیاسی آقاؤں نے گرام پنچایت سے ضلع پنچایت تک پہنچادیا۔ اسکے بھائی، بھاوج اور دیگر رشتہ داروں کو بھی سیاسی عہدے مل گئے۔
 بی جے پی کے ایک وزیر کو قتل کرنے کے ۱۹؍ سال بعد تک دوبے شان سے اپنے عالی شان محل میں رہا، کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے؟ جن پولیس والوں کو اسے گھسیٹتے  ہوئے حوالات میں لے جانا تھا وہ اس کے در پر جاکر سلامی دینے لگے، کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے؟چوبے پور کے جس تھانیدار کو اس کے گھر کے قریب مخبر تعینات کرنا تھا، وہ خود اس کا مخبر بن گیا، کیایہ حیرت کی بات نہیں ہے؟ اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ پولیس افسر دیویندر مشرا کی ایس پی کو شکایت کے باوجود تھانیدار کے خلاف ایکشن نہیں لیا گیا۔وکاس کو دو اور تین جولائی کی درمیانی رات میں ہونے والے شب خون کی پیشگی اطلاع پھر کسی مخبر نے دے دی۔ آٹھ پولیس والوں کے قتل کیلئے  تو وکاس کو ٹھکانے لگادیا گیا لیکن کیا اترپردیش حکومت اس پولیس اہلکار کی شناخت کرکے اسے سزا دلوائے گی جس کی غداری کے باعث اس کے آٹھ ساتھیوں کو جان دینی پڑی؟  دراصل سیاسی آقا کی پشت پناہی کے سبب ہی وکاس جیسے چھوٹے موٹے غنڈے سفاک مافیا ڈان اور دہشت ناک گینگسٹر بن جاتے ہیں اور خود کو اس علاقے کا بے تاج بادشاہ سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن انہیں یہ علم نہیں ہوتا ہے کہ سیاست کی بساط پر ان کی حیثیت محض ایک معمولی سے پیادے کی ہوتی ہے جسے شطرنج کا کھلاڑی ملکہ یا بادشاہ کو محفوظ رکھنے کی خاطر جب چاہے قربان کرسکتا ہے۔ وکاس کو اسی لئے راستے سے ہٹا دیا گیا کیونکہ اسکے زندہ رہنے سے بہت سے سفید پوشوں کی زندگی یا عزت خطرے میں پڑسکتی تھی۔  میڈیا اور حقوق انسانی کی تنظیمیں جنہیں یہ خوش گمانی ہے کہ وہ پولیس بیانیہ کے تضادات اورنقائص اُجاگر کرکے یوگی سرکار کیلئے مشکلیں پیداکر سکتی ہیں انہیں آج کے زمینی حقائق کی واقفیت نہیں ہے۔ویسے یوپی پولیس صر ف ایک سوال کا جواب دے دے:  اگر وکاس کو فرار ہی ہونا تھا تو اس نے اجین کے مہاکال مندر میں  ’’میں وکاس دوبے ہوں کانپور والا‘‘چلاچلا کر سرینڈر کیوں کیا تھا؟  
  ہم سب جانتے ہیں کہ ’’ٹھوکی راج ‘‘ کی پولیس پر فرضی انکاؤنٹروں میں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار نے کے الزام لگتے رہنے کے باوجود اس کا کچھ نہیں بگڑا تو ایک بدنام زمانہ مجرم کو جس نے آٹھ آٹھ پولیس والوں کو قتل کیا تھا، اگر منصوبہ بناکر ٹھوک دیا گیا تو کوئی آسمان نہیں ٹوٹے گا۔پہلے عام ہندوستانی شہریوں کے دلوں میں صلہ رحمی، انسانی ہمدردی، انصاف اور عدم تشدد کے جذبات رہا کرتے تھے۔ رواداراور انسان دوست ہندوستانی معاشرہ کو آر ایس ایس اور بی جے  پی نے کس قدر بدل دیا ہے کہ آج انسانوں کے قتل پر جشن منایا جاتا ہے۔ خواہ وہ قتل وکاس جیسے مجرم کا ہو یا دادری کے بے گناہ اخلاق اور جھارکنڈ کے بے قصور علیم الدین انصاری کا۔ اب اہنسا جیسے گاندھی وادی وچار آؤٹ ڈیٹیڈ ہوچکے ہیں۔اب ’’گولی مارو سالو کو‘‘ کو جیسے پر کشش نعروں کا زمانہ ہے۔
  سنتے آئے تھے کہ ہندوستان میں جرم اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن یوپی میں تو ایسا لگتا ہے کہ دونوں شادی کے اٹوٹ بندھن میں بندھ گئے ہیں۔ نریندر مودی، امیت شاہ اور یوگی جی نے گزشتہ چند برسوں میں پورے سسٹم کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب قانون کی حکمرانی نہیں طاقت اور اقتدار کی بالا دستی کا راج ہے۔
   اس وقت وطن عزیز میں اور خصوصاً اتر پردیش میں اقتدار کی بے پناہ طاقت کے بے لگام ظلم و زیادتیوں کے مظاہرے بار بار ہورہے ہیں۔ماورائے عدالت قتل مہذب جمہوری معاشروں کا شیوہ نہیں ہے۔ایسے ایک واقعے پر امریکہ میں قیامت برپا ہوگئی۔ تین ہفتوں تک ملک بھر میں ٹرمپ حکومت کے خلاف احتجاج ہوتے رہے جو کئی مقامات پر پر تشدد بھی ہوگئے۔ لوگ نسل پرستی اور پولیس جبر کے خلاف اس قدر برہم تھے کہ انہوں نے قوم کے معماروں کے مجسمے منہدم کردیئے۔ لیکن پولیس نے نہ تومظاہرین پر فائرنگ کی اور نہ ہی ٹرمپ کے بھکتوں نے انہیں غداری کے سرٹیفکیٹ سے نوازا اور نہ ہی میڈیا نے انہیں دہشت گرد قرار دیا۔ ایک حقیقی لبرل ڈیموکریسی میں شہریوں کے حقوق جن میں حکومت کے خلاف احتجاج کا حق بھی شامل ہے، کا کیسے  احترام کیا جاتا ہے یہ امریکہ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اب ذرا یاد کیجئے دسمبر میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جب اقلیتوں نے اپنی شہریت بچانے  کیلئےمظاہرے کئے تو کس طرح  یوگی سرکار کی پولیس نے ان پر بندوقوں کے دہانے کھول دیئے۔ دو درجن نہتے بے قصور شہری کی جانیں چلی گئیں۔ لیکن امریکہ کی طرح نہ توعوام نے اور نہ ہی میڈیا نے ریاستی استبداد کے خلاف آواز بلند کی اور نہ ہی عدلیہ نے از خود(سو موٹو) نوٹس لیتے ہوئے ظالموں کے ہاتھ روکے۔ ان کے آئینی حقوق کو روندتے ہوئے، یوگی سرکار نے پرامن مظاہرین پر لاکھوں روپے کے جرمانے بھی مسلط کردیئے۔ جب چوبیس بے گناہ انسانی زندگیوں کے اتلاف پر کسی نے یوگی سرکار کی مذمت نہیں کی تو دوبے جیسے ہسٹری شیٹر کے انکاؤنٹر پر کون زبان کھولے گا۔  یاد رکھئے اتر پردیش سرکار کے بیس سے زیادہ وزیروں کیخلاف مقدمے چل رہے ہیں اور کئی رکن اسمبلی نے تو پچھلے چند برسوں میں بھی ریپ جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اور یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ ملک کی تاریخ کے وہ پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جنہوں نے اقتدار پانے کے بعد خود اپنے خلاف۲۲؍برسوں سے چل رہے مقدمے کو واپس لے لیا۔
پس نوشت: وکاس دوبے کے اس’’کارنامہ ‘‘ پر کیا کسی نے غور کیا! اس نے سرحدوں پر نہ سہی ٹیلی وژن اسٹوڈیو میں چل رہی ہندوستان ۔ چین جنگ تو بند کراہی دی اور اخبارات کے صفحۂ  اول سے بھی لداخ کو غائب کرادیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK