ہم اور ہماری معیشت

Updated: June 30, 2020, 8:05 AM IST | Editorial

مہندرا اینڈ مہندرا کے منیجنگ ڈائریکٹر پون گوئنکا نے بہت اچھی بات کہی کہ ’’چین نے راتوں رات ترقی نہیں کی۔ ترقی کے طے شدہ ہدف کو پانے کیلئے اسے کئی دہائیوں کی مسلسل محنت درکار ہوئی۔ اُس نے اپنے لئے ایک ہدف مقرر کیا۔

Indian Economy - Pic : INN
بھارتی معیشت ۔ تصویر : آئی این این

مہندرا اینڈ مہندرا کے منیجنگ ڈائریکٹر پون گوئنکا نے بہت اچھی بات کہی کہ ’’چین نے راتوں رات ترقی نہیں کی۔ ترقی کے طے شدہ ہدف کو پانے کیلئے اسے کئی دہائیوں کی مسلسل محنت درکار ہوئی۔ اُس نے اپنے لئے ایک ہدف مقرر کیا۔ ہندوستان نے ایسا کوئی ہدف مقرر نہیں کیا۔ اس کے بغیر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی ممکن نہیں۔ ضرورت ہے کہ انڈسٹری اور حکومت دونوں مکمل باہمی اشتراک کے ساتھ ملک کی ترقی کو یقینی بنائیں۔‘‘ 
 اس نکتے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اکثر اپنا موازنہ چین سے کرتے ہیں۔ چین کا جی ڈی پی، چین کی برآمدات، چین کی اشیاء سازی میںمہارت، چین میں آنے والی کم لاگت، وغیرہ۔ مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ اہل چین کا ہدف پر نگاہ برقرار رکھنا، ہدف کو پانے کی کوشش میں شبانہ روز محنت کرنا، زیادہ سے زیادہ مسابقتی ہونے کیلئے کوشاں رہنا، عالمی مارکیٹ میں رسائی کی نت نئی تراکیب اور تدابیر کا اختیار کرنا، یہ سب چین کی کامیابی کا راز ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کے ساتھ کہ چین نے کتنی ترقی کی، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ ترقی کیسے ممکن بنائی گئی۔ اس کیلئے دس دنوں میں پورا کا پورا اسپتال تعمیر کرلینے کی حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔ مقابلہ اُسی وقت ممکن ہوتا ہے جب مد مقابل کو ہر زاویئے سے سمجھ لیا جائے۔گوئنکا نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’بہت سی کمپنیاں چین سے رخصت ہورہی ہیں مگر اُن میں سے بہت کم ہندوستان آرہی ہیں۔‘‘ ا س کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہم مختلف کمپنیوں کے ارباب اقتدار کا ہاتھ پکڑ کر اُنہیں اپنے یہاں لاسکتے ہیں نہ ہی اُن سے ہندوستان آنے کی اپیل کرسکتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے انفراسٹرکچر کو ٹھیک کرلیا، امن و سکون کی فضا قائم کی، تجارت و معیشت سے وابستہ لوگوں کی دشواریوں کو مخلصانہ طریقے سے دور کیا اور اس طرح وطن عزیز کی شبیہ کو سنوارنے کی کوشش کی تو کوئی وجہ نہیں کہ جو لوگ چین کو چھوڑ رہے ہیں وہ کہیں اور نہ جاتے ہوئے ہندوستان کا رُخ کریں۔
 سوال یہ ہے کہ چین ناپسندیدہ کیوں ہوگیا؟ ا سکا جواب ہے: مزدوروں کی اُجرت بڑھنے، امریکہ سے تجارتی جنگ کے جاری ہونے اور کورونا کی وباء کے پھیلنے کی وجہ سے۔ چین کے بجائے بیرونی کمپنیاں اب ویتنام کو ترجیح دے رہی ہیں چنانچہ اب یہ جاننا ضروری ہوگیا ہے کہ ویتنام کے پسندیدہ ہونے کے  اسباب کیا ہیں۔ اور صرف ویتنام نہیں بلکہ تھائی لینڈ، بنگلہ دیش اور فلپائن بھی ریس میں ہیں جبکہ ریس میں صرف ہندوستان کو ہونا چاہئے تھا۔
 واضح رہے کہ جو ۵۶؍ کمپنیاں چین سے منتقل ہوئی ہیں اُن میں صرف ۳؍ ہندوستان آئی ہیں جبکہ ۲۶؍کمپنیوں نے ویتنام کا، ۱۱؍ نے تائیوان کا اور ۸؍ نے تھائی لینڈ کا رُخ کیا ہے۔ ان اعدادوشمار سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارا ملک بیرونی کمپنیوں کیلئے پسندیدہ نہیں ہے بلکہ ہمارا نمبر دیگر کئی ملکوں کے بعد آتا ہے، ایسے ملکوں کے بعد جو معاشی حجم کے اعتبار سے بھی ہم سے کمتر ہیں اور آبادی بالخصوص نوجوان آبادی کے اعتبار سے بھی۔ 
 ہم جانتے ہیں کہ یہ سارے حقائق حکومت کی نگاہ میں ہوں گے اور اس کے تجزیہ کار مختلف ملکوں کی معاشی صورتحال اور اُن کی پیش قدمیوں کا تجزیہ کرتے ہوں گے اس کے باوجود اگر ہم ناکام ہورہے ہیں اور خود کو بیرونی کمپنیوں کیلئے پُرکشش نہیں بناپائے ہیں تو اس کے اسباب پر نہ صرف غور کرنا بلکہ ملک کو ہر ممکن طریقے سے تجارتی و کاروباری اعتبار سے بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔ ا س کی وجہ سے عالمی سطح پر ہی ہمارا قد اور مرتبہ بلند نہیں ہوگا بلکہ اندرون ملک بھی ہمارے شہری بہتر فضا میں سانس لینے کے قابل ہوں گے، اُنہیں روزگار میسر آئیگا اوراچھے دنوں کا نعرہ محض نعرہ نہیں رہ جائیگا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK