ایسےوقت میں جب مودی حکومت کو سفارتی حکمت عملی کے ذریعہ ملک کے مفاد میں کام کرنا چاہئے تھا، ہم یہ کام بحسن و خوبی پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے۔ ٹرمپ نے ۱۸؍ فیصد ٹیرف باقی رکھا اور ہم امریکی مصنوعات پر ڈیوٹی نہیں لگوا سکے۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 8:28 AM IST | Mumbai
ایسےوقت میں جب مودی حکومت کو سفارتی حکمت عملی کے ذریعہ ملک کے مفاد میں کام کرنا چاہئے تھا، ہم یہ کام بحسن و خوبی پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے۔ ٹرمپ نے ۱۸؍ فیصد ٹیرف باقی رکھا اور ہم امریکی مصنوعات پر ڈیوٹی نہیں لگوا سکے۔
خود مختاری کی خلاف ورزی کی تشریح اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ کسی ملک کی حدود کی سالمیت میں مداخلت بے جا (انفرنجمنٹ) ہے یا حکومت کے کام کاج میں مداخلت ہے۔ ’’آرم ٹو ِسٹنگ‘‘ کا لفظی معنی ہے ہاتھ مروڑنا مگر کسی سے کوئی ایسا کام کروانے کیلئے دباؤ ڈالنا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جس کیلئے وہ تیار نہ ہو۔ سرینڈر عام فہم لفظ ہے جس کا معنی ہے خود سپردگی، ترک ِ مزاحمت یا اپنے عمل سے ظاہر کرنا کہ ’’سرتسلیم خم ہے‘‘۔ یہ چند الفاظ، تراکیب یا محاورے اس لئے نقل کئے گئے ہیں تاکہ آگے کی بات سمجھنے میں آسانی ہو۔
امریکہ اور بھارت کے درمیان جو کچھ بھی ہوا وہ شفافیت کا نمونہ ہے اور اس کو سمجھنے کیلئے چند باتوں کا جان لینا کافی ہے۔ ۶؍ اگست ۲۰۲۵ء کے اپنے ایگزیکیٹیو آرڈر نمبر ۱۴۳۲۹؍ میں صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ’’مَیں نے اسے ضروری اور مناسب سمجھا کہ ہندوستان سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر ۲۵؍ فیصد ٹیرف عائد کیا جائے جو روسی فیڈریشن سے بلاواسطہ یا بالواسطہ تیل خریدتا ہے۔‘‘ اس کے بعد ۶؍ فروری ۲۶ء کے اپنے حکمنامے میں اُنہوں نے کہا: ’’ہندوستان نے روس سے بلاواسطہ یا بالواسطہ تیل خریدنا بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور یہ بھی مان لیا ہے کہ وہ امریکی اِنرجی پروڈکٹس امریکہ سے خریدے گا۔ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسیع کرنے کیلئے دس سالہ فریم ورک پر بھی اس نے آمادگی ظاہر کی ہے۔‘‘ امریکہ دیکھ رہا تھا کہ ہندوستان وہی کررہا ہے جو وہ چاہتا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ’’اسی لئے مَیں نے طے کیا ہے کہ ہندوستان پر جو اضافی ٹیرف لگایا گیا تھا اسے ختم کردیا جائے۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے اضافی ڈیوٹی ہندوستان کے اچھے طرز عمل کے پیش نظر ہٹائی ہے جسے سفارتی زبان میں کمپلائنس کہتے ہیں۔ اُردو میں اس کا مفہوم تعمیل ہوگا۔ لیکن، ٹرمپ نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ امریکہ ’’نگاہ رکھے گا کہ ہندوستان کہیں روسی فیڈریشن سے تیل خریدنے کا سلسلہ بلا واسطہ یا بالواسطہ بحال تو نہیں کررہا ہے‘‘ اور اگر ایسا ہوا تو ’’مَیں ۲۵؍ فیصد کا اضافی ٹیرف دوبارہ عائد کروں گا۔‘‘
اتنے پر بات ختم نہیں ہوئی۔ مزاحمت ختم کرنے والے ملک سے مزید توقعات وابستہ کی گئیں۔ ہندوستان نے جو بیان جاری کیا، اس میں ہے: ’’ہندوستان آئندہ ۵؍ سال میں ۵۰۰؍ ارب ڈالر‘‘ کی امریکی مصنوعات خریدے گا۔ اس کا معنی ہے ہر سال ۱۰۰؍ارب ڈالر کی مصنوعات۔۲۰۲۴ء میں ہم نے ۴۰؍ ارب ڈالر کی مصنوعات خریدی تھیں۔ اب اگر ہم ہر سال ۱۰۰؍ ارب ڈالر کی بات کررہے ہیں تو اس کا معنی یہ ہے کہ دوگنا سے بھی زیادہ کی خریداری کیلئے ہم تیار ہیں۔مگر سو ال یہ ہے کہ اس کٹوتی کے جواب میں ہندوستان کو کیا ملا؟ اس نے ڈیوٹی گھٹا کر ۱۸؍ فیصد کردی۔ تو کیا یہ کوئی بڑی نوازش ہے؟ نہیں کیونکہ اس تنازع سے پہلے ڈیوٹی تھی ہی نہیں۔ یہ ہمارا انعام ہے اگر اسے انعام کہا جائے۔ کیا یہ خود مختاری کی خلاف ورزی ہے؟ سرینڈر ہے؟ بدقسمتی سے ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ جو ایگریمنٹ ہوا وہ شفافیت کا نمونہ ہے۔ اس کے لئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ وہ دستاویز پڑھ لی جائے جس پر ہم نے دستخط کئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے کیا حاصل کیا؟ ہمیں کیا ملا؟ میرے اکنامسٹ دوست اشوک بردھن کے پیغام میں اس کا جواب ہے جو اُنہوں نے معاہدہ پر دستخط سے پہلے جاری کیا تھا اور جس میں قبل از وقت یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی کہ آئندہ دنوں میں کیا ہوگا۔ اشوک بردھن نے کہا کہ ہندوستان نے دو اسباب کی بناء پر اتنا نرم رویہ اپنایا۔ پہلا سبب: ’’قوم پرستی کا طومار اور اس کی وجہ سے حکمراں جماعت کو ملنے والی عوامی حمایت کا مبالغہ۔ قوم پرستی کا کارڈ موقع موقع سے استعمال کیا جاتا ہے جس کا مقصد اندرونِ ملک فائدہ اُٹھایا جاتا ہے، الیکشن کے دور میں فضا بندی کی جاتی ہے، پاکستان کو ہدف بنانے پر خوش ہونے والے حامیوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یہ کارڈ موقع موقع سے اس لئے کھیلا جاتا ہے کہ ہر وقت ایسا ممکن نہیں، کبھی بڑی طاقتوں سے سمجھوتہ بھی کرنا پڑتا ہے، زرعی محاذ پر جو سہولتیں ہم نے دی ہیں اُنہیں آپ کیا کہیں گے جبکہ حکمراں جماعت ہمیشہ کسانوں کی دُہائی دیتی ہے۔‘‘
ہمارا قوم پرستانہ جذبہ، ہماری بہادری، ہمارا ۵۶؍ انچ کا سینہ اپنے ہی لوگوں کو دبانے اور دھمکانے کے لئے دکھایا جاتا ہے مگر جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو ساری بہادری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ ٹرمپ نے جان لیا ہے کہ ہم کیا ہیں یہ بات ہمیں مان لینی چاہئے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرمپ نے ہمیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے۔ مئی ۲۰۱۹ء میں ہندوستان نے ایران سے تیل خریدنا بند کردیا تھا۔ ٹرمپ کے سابق سلامتی مشیر جان بولٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ٹرمپ نے مودی کی تشویش کو مسترد کردیا اور اپنی ٹیم سے کہا کہ فکر مت کرو، وہ (مودی) مان جائیں گے اور فیصلہ قبول کرلیں گے۔ ٹرمپ کی اس دھاندلی اور اُس کے آگے ہمارے کچھ نہ کہہ پانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ تیل کی خرید پر ہمیں جو سہولتیں مل رہی تھیں مثلاً سستے داموں پر تیل کی فراہمی، مفت ٹرانسپورٹ اور انشورنس اور ۶۰؍ دن کا کریڈٹ یہ سب ہاتھ سے جاتا رہا۔ ہندوستان ٹرمپ پر یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ ہماری بہت سی ریفائنریز اس طرز پر بنی ہیں کہ جن میں ایران جیسے ملکوں سے آنے والا تیل بآسانی ریفائن ہوجاتا ہے، ہم اُن ریفائنریز کو بدل نہیں سکتے، وہ بھی اچانک ایسا کرنا تو ممکن ہی نہیں ہے ، علاوہ ازیں ایران سے تیل نہ خریدا گیا تو ہمارے یہاں قیمتیں بڑھیں اور افراط زر میں اضافہ ہوگا۔ ٹرمپ نے ایک نہیں سنی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیں اُن کی مرضی کے آگے جھکنا پڑا۔ ویسے ہی حالات اب ہیں کہ ہم نے روس سے تیل نہ خریدنے کی بات مان لی۔ یہ بھی مان لیا کہ ہم وینزویلا اور امریکہ سے تیل درآمد کریں گے۔
اب ہمیں نقطۂ آغاز کی طرف لوٹنا چاہئے جہاں سے ہم نے شروع کیا تھا کیونکہ یہ اہم ہے۔ ہر ہندوستانی کو یہ جاننا چاہئے کہ ہمارے نام پر کیا ہوا ہے، کیا کیا گیا ہے۔ ہمارے معاملات میں مداخلت ہوئی ہے ۔ حکومت کو جس آن بان اور شان کے ساتھ اپنی شرطوں کو منوانا چاہئے تھا، وہ نہیں منوائی گئیں۔ شاید اسی کو سر تعلیم خم کرنا کہتے ہیں۔ یہ تب ہوتا ہے جب ہم سامنے والوں کی مان لیتے ہیں اور اپنی منوانے سے قاصر رہتے ہیں۔ n