کنیڈا اور فرانس نے ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں اپنے قونصل خانے قائم کر دیے ہیں۔ اس اقدام کو آرکٹک خطے میں بڑھتی جغرافیائی و سفارتی اہمیت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں عالمی طاقتوں کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 9:02 PM IST | Washington
کنیڈا اور فرانس نے ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں اپنے قونصل خانے قائم کر دیے ہیں۔ اس اقدام کو آرکٹک خطے میں بڑھتی جغرافیائی و سفارتی اہمیت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں عالمی طاقتوں کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
کنیڈا اور فرانس نے ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ میں باضابطہ طور پر اپنے قونصل خانے قائم کر دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے قونصل خانے دارالحکومت نوک میں کھولے گئے ہیں، جسے آرکٹک خطے میں سفارتی سرگرمیوں کی ایک نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آرکٹک خطہ قدرتی وسائل، بحری راستوں اور جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ کنیڈا اور فرانس کے قونصل خانوں کا قیام گرین لینڈ کے ساتھ براہِ راست سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کنیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے نوک میں قونصل خانے کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ یہ قدم گرین لینڈ کے عوام اور مقامی حکومت کے ساتھ طویل مدتی تعاون کے عزم کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق کنیڈا آرکٹک خطے میں استحکام، مقامی شراکت داری اور ذمہ دار سفارتی موجودگی پر یقین رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عمان: امریکہ سے مذاکرات کا ’’اچھا آغاز‘‘، احتیاط ضروری: ایرانی وزیر خارجہ
فرانس نے بھی اسی دن نوک میں اپنا قونصل خانہ کھولا۔ فرانسیسی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد گرین لینڈ، ڈنمارک اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ قریبی روابط قائم کرنا ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ وہ آرکٹک میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے تناظر میں علاقائی مکالمے کو اہم سمجھتا ہے۔ فرانس کے قونصل جنرل نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح مقامی حکام، بالخصوص اِنویٹ برادری، کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قونصل خانہ صرف سفارتی نمائندگی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ مقامی سماجی اور ماحولیاتی معاملات کو سمجھنے کا بھی ذریعہ بنے گا۔ گرین لینڈ، جو جغرافیائی طور پر آرکٹک میں واقع ہے، قدرتی وسائل، نایاب معدنیات اور ممکنہ بحری راستوں کے باعث عالمی سیاست میں اہم مقام رکھتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث برف پگھلنے سے خطے کی معاشی اور عسکری اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک اپنی سفارتی موجودگی کو وسعت دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ’’ٹرمپ آر ایکس‘‘ نامی سستی ادویات کی ویب سائٹ شروع کی
یہ پیش رفت اس پس منظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے جب امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق بیانات سامنے آ چکے ہیں۔ تاہم کنیڈا اور فرانس نے واضح کیا ہے کہ ان کے اقدامات ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کی مقامی حکومت کے احترام کے دائرے میں ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نوک میں قونصلخانوں کا قیام اس بات کی علامت ہے کہ آرکٹک اب محض جغرافیائی خطہ نہیں رہا بلکہ ایک فعال سفارتی میدان بن چکا ہے۔ گرین لینڈ کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور بین الاقوامی روابط عالمی طاقتوں کے لیے عملی دلچسپی کا باعث بن رہے ہیں۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں کی جانب سے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا گیا ہے، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام سفارتی سرگرمیاں مقامی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں کے تحت ہوں گی۔