تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے نیویارک میئر ممدانی کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور اسے حالیہ برسوں میں کسی بڑے امریکی شہر کی جانب سے نافذ کردہ مضبوط ترین تحفظات میں سے ایک قرار دیا۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 7:08 PM IST | New York
تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے نیویارک میئر ممدانی کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور اسے حالیہ برسوں میں کسی بڑے امریکی شہر کی جانب سے نافذ کردہ مضبوط ترین تحفظات میں سے ایک قرار دیا۔
نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے جمعہ کے دن ایک تاریخی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی شہر کی سرکاری املاک تک رسائی کو سخت شرائط کے ساتھ محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ملک میں تارکینِ وطن کے تحفظ، شہری آزادیوں اور شہر کے اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔
کثیر المذاہب ناشتے کی تقریب کے دوران مختلف مذاہب کے لیڈران کی موجودگی میں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ یہ حکم نامہ صرف امیگریشن پالیسی کے بارے میں نہیں بلکہ خود شہر کے تشخص کے بارے میں ہے۔ انہوں نے اسے پرائیویسی، قانونی طریقہ کار اور عوامی تحفظ کے تئیں نیویارک کے عزم کا اعادہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”میں ایسے انتظامی حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں جو ہمارے شہر کے ساتھی تارکینِ وطن نیویارکرز ہی نہیں بلکہ تمام شہریوں کو امیگریشن نافذ کرنے والے اداروں کے ناروا سلوک سے تحفظ فراہم کرے گا۔“
ممدانی نے اپنے فیصلے کی بنیاد ذاتی اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی رکھی، جس میں انہوں نے اپنے اسلامی عقیدے اور ہجرت کے تاریخی تجربے کا حوالہ دیا۔ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیویارک شہر کو پناہ کے متلاشیوں کو عزت اور تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ انہوں نے قرآن مجید کی ایک آیت کا حوالہ بھی دیا جس میں ظلم و ستم کے باعث ہجرت کرنے والوں کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔
حکمنامہ کے بعد آئی سی ای پر کیا اثر پڑے گا؟
اس حکمنامہ کے بعد، آئی سی ای ایجنٹس کو درست عدالتی وارنٹ کے بغیر نیویارک شہر کی زیر ملکیت کسی بھی جائیداد میں داخل ہونے سے روک دیا جائے گا۔ یہ پابندیاں زیادہ تر عوامی مقامات پر لاگو ہوگی، جن میں سرکاری اسکول، اسپتال، بے گھر افراد کی پناہ گاہیں، لائبریریاں، کمیونٹی سینٹرز اور یہاں تک کہ شہر کے زیرِ انتظام پارکنگ کی جگہیں بھی شامل ہیں۔ جسمانی رسائی کو محدود کرنے کے علاوہ، یہ انتظامی حکم نامہ ذاتی ڈیٹا کے حوالے سے بھی مضبوط حفاظتی اقدامات متعارف کرواتا ہے، جس کے تحت رہائشیوں کی معلومات کو وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ غیر قانونی طور پر شیئر کرنے کی واضح ممانعت ہوگی۔ شہری اداروں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ اپنے قواعد و ضوابط کا جائزہ لیں اور انہیں اپ ڈیٹ کریں تاکہ آئی سی ای کے ساتھ لین دین سے متعلق موجودہ مقامی قوانین کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
ممدانی نے زور دیا کہ اس حکمنامہ کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ غیر دستاویزی رہائشی صحت کی دیکھ بھال، رہائشی امداد یا بچوں کی دیکھ بھال جیسی ضروری خدمات حاصل کرنے سے خوفزدہ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ”کسی بھی نیویارک کے شہری کو اس بات سے نہیں ڈرنا چاہیے کہ وہ کون ہے یا کہاں سے آیا ہے جب وہ شہر کی خدمات کے لیے درخواست دے رہا ہو۔“ اس حکم نامہ کے تحت نئی ’انٹر ایجنسی رسپانس کمیٹی‘ بھی قائم کی جائے گی جو امیگریشن کے بڑے آپریشنز یا بحران کے دوران شہر کے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرے گی۔ اس ادارے کا مقصد محکموں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا اور بلدیاتی سطح پر ایک متحد ردِعمل پیش کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ورلڈ حجاب ڈے پر پوسٹ، نیویارک کے ظہران ممدانی کو شدید تنقید کا سامنا
تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور اسے حالیہ برسوں میں کسی بڑے امریکی شہر کی جانب سے نافذ کردہ مضبوط ترین تحفظات میں سے ایک قرار دیا۔ دوسری طرف، کچھ وفاقی حکام اور قدامت پسند قانون سازوں سمیت ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ ممدانی کا موقف ہے کہ یہ حکم جائز تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا، بلکہ صرف اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ شہر کی املاک پر کوئی بھی وفاقی کارروائی مناسب قانونی طریقہ کار کے مطابق ہو۔