رئیس ہائی اسکول کے تاریخی تقریری مقابلوں میں شریک ہونےوالےوہ لوگ جو برسوں سے صرف طلبہ کی تقریریں سننے آ رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 04, 2026, 4:34 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
رئیس ہائی اسکول کے تاریخی تقریری مقابلوں میں شریک ہونےوالےوہ لوگ جو برسوں سے صرف طلبہ کی تقریریں سننے آ رہے ہیں۔
رئیس ہائی اسکول کے تاریخی تقریری مقابلے گزشتہ۶۶؍ برسوں سے مسلسل منعقد ہو رہے ہیں۔ اس طویل سفر میں ایک ایسا طبقہ بھی شامل ہے جو نہ اسٹیج پر آتا ہے، نہ مائیک تھامتا ہے بلکہ برسوں سے خاموشی کے ساتھ صرف طلبہ کی تقریریں سننے آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگ کسی دعوت نامے کا انتظار نہیں کرتےبلکہ اخبار یا دیگر ذرائع سے ہونے والا اعلان ہی ان کیلئے بلاوا بن جاتا ہے۔ کچھ سامعین سال بھر اس دن کا انتظار کرتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو گزشتہ۴۰۔ ۳۵؍ برسوں سے اس تاریخی مقابلے کے مستقل گواہ ہیں۔
بلیک بورڈ سے سوشل میڈیا تک
تھانہ روڈ پر رہائش پذیر عبدالحق عبدالرزاق مومن گزشتہ ۴۰؍برسوں سے زائد عرصے سے ان مقابلوں میں بطور سامع شریک ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’میں نے کبھی دعوت نامے کا انتظار نہیں کیا۔ پہلے اخبار میں اعلان ہوتا تھا، اب سوشل میڈیا پر بھی آ جاتا ہے۔ تاریخ معلوم ہوتے ہی میں وقت مقررہ پر رئیس ہائی اسکول پہنچ جاتا ہوں اور انعامات کی تقسیم تک وہیں موجود رہتا ہوں۔ ‘‘عبدالحق مومن ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’پہلے شہر میں نصب بلیک بورڈ پر اعلان لکھا جاتا تھا اور وہ بلیک بورڈ آج کے سوشل میڈیا ہی کی طرح مؤثر ثابت ہوتا تھا۔ لوگ اسے پڑھ کر جوق در جوق بچوں کی تقاریر سننے آتے تھے۔ پہلے سامعین کی کمی نہیں تھی لیکن آج منظر بدل گیا ہے۔ ‘‘
ان کے مطابق ماضی میں شہر کے اہم، ذمہ دار اور باوقار افراد بھی محفل کی رونق ہوتے تھے، مگر اب ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے باوجود دعوت نامے کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ اگر منتظمین شہر کی ادبی، دینی، سماجی، سیاسی، تعلیمی، طبی اور دیگر شعبوں کی اہم شخصیات تک ذمے داری کے ساتھ دعوت نامے پہنچائیں تو اہم شخصیات بھی بطور سامع شریک ہوسکتی ہیں۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ پہلے یہ مقابلے جمعہ کے دن ہوتے تھے، اسلئے پاور لوم بند ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہو پاتے تھے۔
جسم عمر رسیدہ لیکن شوق توانا
زیتون پورہ کے رہنے والے۸۰؍ سالہ حافظ محمد حسین گزشتہ۳۸؍ برسوں سے اس تاریخی مقابلے میں شریک ہو رہے ہیں۔ ان کیلئے یہ محض ایک پروگرام نہیں بلکہ دل کی وابستگی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مجھے اس مقابلے سے اتنی محبت ہے کہ میں پروگرام شروع ہونے سے پہلے پہنچ جاتا ہوں، بچوں کی آخری تقریر تک سنتا ہوں اور انعامات کی پوری تقریب دیکھ کر ہی واپس جاتا ہوں۔ ‘‘حافظ محمد حسین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، مگر سامعین کی تعداد میں کمی آئی ہے جسے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ لمحۂ فکریہ ہے، انتظامیہ کو اس جانب خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ‘‘
اخبار میں شائع ہونےوالا اعلان ہی بلاوا
نظام پورہ کے رہنے والے سعید احمد غلام رسول مومن نے بتایا کہ وہ گزشتہ تقریباً۳۰؍ برسوں سے اخبار میں شائع ہونے والے اعلان ہی کو دعوت نامہ سمجھ کر ان مقابلوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اکثر اعلانات پروگرام کے دن ہی شائع ہوتے ہیں، جس کے سبب کئی لوگ شرکت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اگر اعلان ایک دن پہلے شائع ہوجایا کرے تو لوگ اپنی مصروفیات کو ترتیب دےسکیں گے۔ ‘‘
سعید احمد مومن نے ماضی کا تقابل کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے شہر اور بیرون شہر ہی نہیں بلکہ قومی سطح کی معروف شخصیات کو مدعو کیا جاتا تھا، جنہیں سننے اور دیکھنے کیلئے بھی بڑی تعداد میں لوگ آتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’معروف افراد کی شرکت سے پروگرام کے حسن اور سامعین دونوں میں اضافہ ہوتا تھا، مگر یہ روایت اب منقطع ہو چکی ہے۔ ‘‘انہوں نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ پہلے سوسائٹی کے کچھ اہم عہدیداران اسٹیج پر ہوتے ہیں اور بقیہ تمام اراکین سامعین میں موجود ہوتے تھےلیکن اب اراکین کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اب صرف وہی لوگ نظر آتے ہیں جنہیں اسٹیج پر جگہ ملتی ہے۔ اسکول انتظامیہ اور سوسائٹی کی مشترکہ کوششوں ہی سے سامعین کی تعداد بڑھتی تھی، اسی لئے پڑگھا، بوریولی، تلولی، وڈولی، جوہار، پال گھر، وسئی، ویرار، کلیان اور تھانہ جیسے علاقوں سے بھی لوگ آیا کرتے تھے۔ ان کے مطابق ’’آج بھی اگر اساتذہ اور سوسائٹی کے اراکین سنجیدگی سے کوشش کریں، مناسب تشہیر کریں اور زیادہ نہیں، صرف سوسائٹی کے اسکولوں کے اساتذہ ہی کی شرکت کو لازم قرار دے دیں تو سامعین کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’یہ کوئی معمولی پروگرام نہیں بلکہ یہ ایک تاریخ ہے، جسے اس کے شایانِ شان قائم و دائم رہنا چاہئے۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ رئیس ہائی اسکول کے تقریری مقابلے آج بھی منعقد ہو رہے ہیں، بچے بول رہے ہیں، اسٹیج سج رہا ہے مگر وہ خاموش سامعین جو دہائیوں سے اس روایت کی روح تھے، رفتہ رفتہ کم ہوتے جا رہے ہیں۔