رواداری کا دامن ہمیں کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑنا چاہئے

Updated: February 09, 2020, 3:11 PM IST | Mubarak Kapdi

مستقبل کیلئے پیش قدمی کرتے وقت ہمیں ماضی کی طرف پلٹ کر یقیناً دیکھنا ہےتاکہ وہاں دانستہ یا نادانستہ جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ان کا جائزہ لیں اور وہ کسی بھی شکل میں دہرائی نہ جائیں۔

رواداری کا دامن ہمیں کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑنا چاہئے
شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کیخلاف احتجاج جاری ہے

مستقبل کیلئے پیش قدمی کرتے وقت ہمیں ماضی کی طرف پلٹ کر یقیناًدیکھنا ہےتاکہ وہاں دانستہ یا نادانستہ جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ان کا جائزہ لیں اور وہ کسی بھی شکل میں دہرائی نہ جائیں۔آزادیٔ ملک سے قبل بھی عدم برداشت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فقدان کی بناء پر فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوا کرتی تھیں البتہ مسلمانوں نے جب جوشیلے، جذباتی اور غیر دور اندیش افراد کی قیادت تسلیم کرنا شروع کی تب سے یہ قوم محصور بن گئی مثلاًتقسیم ہند تو بس’ لمحوں کی خطا اور صدیوں کی سزا‘ ثابت ہوئی۔اس قوم کا المیہ دیکھ لیجئے کہ وہ انکار کرے تو اپنے رسولؐ کے نواسے پر بیعت نہ کرے البتہ ماننے پر آجائے تو مفسر قرآن، مدبر قوم اور بے مثل مفکر مولانا آزاد کے مقابلے دین سے قطعی نابلد شخص کو اپنا قائد تسلیم کر لے۔
 اس تاریخی اور ہمالیائی غلطی کاہم آج بھی ذکر اسلئے کرتے ہیں کہ کچھ ایسی ہی ملتی جلتی غلطیاں آج بھی ہمارے ہاں سرزد ہوتی رہتی ہیں ۔اس میں دو رائے نہیں کہ اس ملک میں دو قومی نظریے کے بانی ونائک دامودر ساورکر تھے مگر اسے کیا کیجئے کہ پونے کے شنیوارواڑہ میں سنگھ پریوار کے تیار کردہ نظریہ کو مسلمانوں کی نام نہاد قیادت آگے لے کر بڑھ گئی۔
 نوجوانو! مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے ماضی کا جائزہ لیتے وقت ہم یہ پاتے ہیں کہ کچھ لوگ تقسیم ہند کیلئے علامہ اقبال کے ’شاہین‘ کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں جو محض ایک بہتان ہے ۔شاعر مشرق نے شاہین نامی ایک خیالی پرندے کا خاکہ پیش کر کے انسانوں میں خود شناسی، خود داری، بلند پروازی،قلندری اور بے نیازی کی صفات کو پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اقبال نے نوجوانوں میں جد و جہد، سخت کوشی اور عمل و حرکت کی صفات پیدا کرنے کیلئے بڑی فکر مندی اور ذہنی مشقت سے شاہین کا تصور اس قوم کو بلکہ پوری دنیاکو دیا البتہ ہوا اس کے برعکس! ہمارے طلبہ اور ہمارے نوجوان شاہین کے ذریعے اقبال کے پیغام پر عمل پیرا بھی ہو جاتے البتہ جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے بڑوں کا کردار شاہین کے برعکس ہے، تو وہ مایوس ہوجاتے ہیں :
 (الف) اقبال نے شاہین کے لب سے یہ بلوایا کہ:کیا میں نے اس خاک داں سے کنارا،   جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
 البتہ ہمارے اکثر گھروں کے نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے گھروں میں سبھوں کی زندگی کا محور وہ ’آب و دانہ‘ ہی ہے۔جیسے بھی ہو، جہاں سے بھی ہو، کوئی اصول ہو یا نہ ہو ہر کوئی بس دن رات اسی آب و دانے کی جد و جہد میں اندھا دھند دوڑ رہا ہے اور بھاگ رہا ہے۔
 (ب) پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں، کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
 ہمارے نوجوان دیکھ رہے ہیں اور آزادی کے بعد سے تومسلسل دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے بڑوں نے نہ جانے کہاں کہاں اور کتنے ملکوں میں ’آشیانے‘ بنائے ہیں اور جھپٹ کر،پلٹ کر کتنوں کا حق مارا ہے ۔
  شاہین کے تعلق سے اقبال نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا‘ اور ’تو شاہین ہے، پرواز ہے کام تیرا‘۔ مگر اقبال کے نوجوانوں میں اس پیغام کو عام کرنے کیلئے  ہم نے کوئی محنت نہیں کی اور نہ ہی اپنی ذات سے اس کی کوئی نظیر پیش کی۔اقبال کے شاہین کا پیغام ’شاہین کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور‘ کو ہم بالکل نہیں سمجھے۔ جن افراد کی زندگی میںدین کا دور دور تک کوئی اثر دکھائی نہ دے، انہیں ہم قائد بنا لیں تو بگاڑ ہونا لازم۔ نوجوانو! ’شاہین کا جہاں اور....‘ کا نعرہ لگا کر الگ مملکت کا مطالبہ کرنے والےکو دینی تربیت کے ذریعے یہ سمجھانا ضروری تھا کہ کوئی ہندو ہے تو اسے میرا دشمن کہنا غلط ہے۔ کہنا یہ چاہئے کہ وہ ہندو ہے یعنی میرا مدعو ہے یعنی مجھے اسے دعوت دینی ہے، اسے میرے دین کی اصل تعلیمات سے واقف کرانا ہے۔چیل، گدھ اور جنگلی جانوروں کے درمیان بھی شاہین کو جینا ہے۔’میرا جنگل الگ،تیرا جنگل الگ‘ یہ تو جنگل کے جانور بھی نہیں کہتے۔یہ کہنے والے نے ممبئی کے ملبار ہل علاقے میں ۱۷۰۰؍ کروڑ روپوں کا ایک آشیانہ یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ وہ ایک علاحدہ مملکت قائم کرنے کے بعد اپنی ریٹائرمنٹ کی زندگی اس آشیانے میں آکر گزاریں گے ۔انہیں شاید یہ علم نہیں تھا کہ جغرافیائی لکیریں کتنی طاقتور ہوتی ہیں اور (ہم اس سے متفق ہوں یا نہ ہوں البتہ) سنگھ پریوار ملک کی سرحدوں کی پوجا کرتا ہے اس کی سرحدوں کو توڑنے والوں کو وہ کبھی نہیں بخشتا۔  یہی سبب ہے کہ ایک الگ مملکت بنانے کے بعد ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے کیلئے انہیں اس ملک میں داخل ہونے کا موقع ہی نہیں ملا۔ موجودہ سنگھی حکومت تو اس قدر شدت پسند ہے کہ تقسیم کا سبق سیکھنے کیلئے وہ کہیں اس آشیانے کو گئو شالے میں تبدیل نہ کر دے!
 آج اس ضمن میں ہم نوجوانوں سے یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ اسوۂ رسولؐ کا مطالعہ کرتے وقت یہ بات سامنے آتی ہے کہ کیا انہوں نے یا ان کے صحابہ کرام نے اختلافات کی بنا پر نت نئے ممالک کا مطالبہ کیا تھا؟لہٰذا کسی بھی قائد کا یہ مطالبہ کتنا حماقت سے پر تھا کہ ہم دوسرے عقائد کے لوگوں کے ساتھ رہ کر اپنی شناخت برقرار ہی نہیں رکھ سکتے؟ ایسی کوئی تقسیم اگر حتمی ہوتی تو پھر تو پھر علاحدہ مملکت  اپنے وجود کے صرف دو دہائیوں کے بعد ایک ایسی شورش کا شکار کیوں ہوگئی کہ دو قومی نظریہ کی لاش ہی کو خلیج بنگال میں بہا دیا گیا! نوجوانو! انسان کچی مٹی کا بنا ہوا ہے، اسلئے انسانی نفسیات کو سمجھئے کہ اگر بالفرض اس دھرتی پر ایسی کوئی ریاست وجود میں آجائے کہ اس میں صرف مسلمان رہیں گے تو پھر مسلکی اختلافات کی بنیاد پر بھی انتشار ہوسکتا ہے۔ اللہ نہ کرے، اس کے بعد ایک ایک اختلاف پر ایک ایک ملک بنانے کا مطالبہ ہونے لگے گا۔قصہ مختصر یہ کہ انسان کو جب تک دین کی اصل تعلیمات کے ذریعے اپنے اعمال، دنیا اور آخرت کی درستگی کا خیال آنے کے بجائے معمولی اختلافات سے انتشار پیدا کرنے کا خیال آتا رہے گا تب تک کہیں کوئی آئیڈیل اسٹیٹ وجود میں آ ہی نہیں سکتی۔اس لئے کسی آئیڈیل ریاست کی آس میں غیر مسلموں کے ساتھ نباہ نہ کر پانے تصور ہی غلط تھا اور آج بھی غلط ہے۔اسلئے اگر ڈھول تاشے بجاتے ہوئے کوئی جلوس مسجد کے سامنے سے گزرے تب بھی ہمارا خشوع قائم رہنا چا ہئے‘ رنگوں کے تہوار میں دانستہ ہمارے سفید کرتے پاجامے کو داغدار بنانے کی شر انگیزی کی جائے تب بھی ہمیں ضبط کرنا ہے اور لاوڈ اسپیکر پر بآواز بلند آواز پر پابندی کا پرفتن مطالبہ کیا جائے تب بھی مسجدوں میں ہماری صفیں بھری رہیں
 کچھ لوگ شاید یہ کہیں کہ یہ رواداری کا رویہ ہمیں کہاں لے جائے گا؟ اس کا جواب دہلی کےشاہین باغ کی خواتین نے احسن طریقے سے دے دیا جب ۵؍ فروری ۲۰۲۰ء   وہاں گنجا کپور نامی ایک عورت سب کو چکما دینے کیلئے برقعہ پہن کر شاہین باغ کے مجمع میں گھسی البتہ ۵۰؍ دنوں سے کڑکڑاتی ٹھنڈی کی ستائی ہوئی، اپنے گھر بار سے دور ان خواتین نے اس عورت کو حفاظت کے ساتھ محض پولیس کے حوالے کیا (حالانکہ انہیں علم تھا کہ پولیس کوئی کارروائی نہیں کرے گی)۔اس طرح ان خواتین نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ کسی بھی صورت میں لنچنگ میں یقین نہیں رکھتیں۔ وہ جے این یومیں ہاتھ میں سلاخیں لے کر گھسنے والی ان نقاب پوش لڑکیوں جیسی بھی نہیں ہیں۔ ان میں کوئی پرگیا نہیں  ہے اور کوئی پراچی بھی نہیں ۔ان میں  لنچنگ میں اپنی جان کھوئے کسی معصوم کی ماںبھی ہوگی البتہ انہیں قرآن کی تعلیمات بھی بھر پور یاد ہیں کہ دشمن کو بھی حفاظت کی جگہ پہنچا دو۔ان شاہین خواتین نے اپنے بھرپور صبر و تحمل سے یہ بھی بتا دیا کہ گر چہ آج کی بر سر اقتدار حکومت تو نادر شا ہ اور اورنگ زیب کے ’مظالم ‘ کا اانتقام لینے کی بھی بات کرتی ہے تب بھی ان سمجھدار اور بااخلاق خواتین نے اس عورت سے کوئی بدلہ نہیں لیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK