دولت کا مطلب خوشحالی نہیں ہے

Updated: April 02, 2021, 4:39 PM IST | Shamim Tariq

بیشتر لوگ دولت و اقتدار کے آتے ہی اپنی حیثیت اور انصاف کے تقاضوں کو بھول جاتے ہیں کہ اقتدار و دولت ہمیشہ ساتھ دینے والی نہیں ہے۔ یہ جس طرح آتی ہے اسی طرح جاتی بھی ہے۔ دولت کی وجہ سے کسی سے رشتہ قائم کرنا اور کسی سے رشتہ توڑ دینا افسوسناک ہے مگر اس وقت ہمارے معاشرے میں یہی ہورہا ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

اس ہفتے دو خبریں خصوصیت سے ہماری توجہ کی مستحق ہیں۔ پہلی خبر یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ دولت ہمیشہ کے لئے کسی کی ہوئی اور نہ کبھی ہوگی۔ دوسری خبر یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو دولتمند ہے وہ خوش اور مطمئن بھی ہو۔ دولت کی بے وفائی کی یاد دہانی کرانے والی خبر یہ ہے کہ برازیل کے تجارتی حلقے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ’’ آئک بتستا‘‘  کبھی مٹی کو بھی ہاتھ لگاتے تو وہ سونا ہوجاتی تھی پھر ایک وقت وہ آیا کہ وہ سونا میں ہاتھ لگاتے تو وہ مٹی ہوجاتا اور بالآخر صرف ۱۶؍ مہینے میں سب کچھ لٹ جانے سے وہ فقیر ہوگئے۔ کہانی کی ابتداء ۱۹۸۱ء سے ہوئی جب آئک بتستا نے قرض لے کر ایک کمپنی شروع کی جس کا نام ’’آٹرم آرم‘‘ رکھا۔ یہ کمپنی کھدائی میں حاصل ہونے والے سونے کی تجارت کرتی تھی۔ جس وقت یہ کمپنی شروع ہوئی، بتستا کی عمر ۲۵؍ سال تھی۔ صرف ۲؍ سال میں کمپنی کو ۶۰؍ لاکھ ڈالر کا منافع ہوا۔ لوگ کہتے ہیں کہ بتستا نے اپنی تجارت میں اپنے والد کا نام اور رسوخ استعمال کیا۔ وہ برازیل میں متعلقہ محکموں کے وزیر تھے۔ واقعہ جو بھی ہو مگر اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ بتستا کی کمپنی نے منافع کمانے میں ریکارڈ قائم کردیا۔ بتستا کی کاروباری ترقی کو دیکھتے ہوئے غیر ملکی کمپنیوں نے قرض دینے یا سرمایہ کاری کرنے کی پیشکش کی۔ ۱۹۸۳ء میں کینیڈا کی کمپنی ٹی وی ایکس گولڈ (TVX Gold) سے ان کا ایک معاہدہ ہوگیا۔ اس کے ۲؍ سال بعد محض ۲۹؍ سال کی عمر میں وہ اس کمپنی کے سی ای او بھی بن گئے۔ دوسری کمپنیوں سے بھی انہوں نے معاہدے کئے اور ان سبھی کمپنیوں کے آئی پی او (IPO) بھی لے آئے۔ یہ وہ دور تھا جب ان کے لئے ’ہر دن عید اور ہر رات شب برات‘ تھی۔ ان کی تجارت مسلسل ترقی کررہی تھی۔ ۲۰۱۲ء میں ان کا برا دور شروع ہوا جب تھرمل انرجی کی ان کی ایک کمپنی ایم پی ایکقرض کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبتی چلی گئی۔ اس بار تو انہوں نے اپنی دوسری کمپنیوں کے کچھ حصے فروخت کرکے ایم پی ایکس کا خسارہ پورا کردیا مگر ا س کے بعد جو ہوا، وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکے۔
 آئل یعنی تیل کی خراب کوالیٹی اور قرض کے بڑھتے بوجھ کے سبب ان کی دولت میں ایک ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ کمپنی کی ساکھ پر اثر پڑے تو پھر کچھ نہیں بچتا۔ ان کی کمپنی کے شیئرز کی قیمت بھی گرنے لگی اور اس طرح محض ۱۶؍ مہینوں میں ان کی ۹۹ء۶؍ فیصد دولت ختم ہوگئی۔ دولت چھن جانے کے بعد سب سے پہلے وہ لوگ ساتھ چھوڑتے ہیں جو دولت کی ریل پیل کی وجہ سے ساتھ آتے ہیں۔ اپنے اردگرد کا کوئی بھی مشاہدہ کرسکتا ہے کہ دولت اور اقتدار چھنتے ہی کیسے کیسے لوگ ایسے ویسے ہوگئے ہیں حتیٰ کہ سایہ کی طرح ساتھ رہنے والے لوگ بھی اس سے دور ہوگئے۔ بتستا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ان پر کئی فوجداری مقدمے بھی دائر کردیئے گئے۔ اس کے بعد ’’لاواجاٹو آپریشن‘‘ کی اتنی شدید ضرب پڑی کہ وہ اٹھ ہی نہ سکے۔ یہ ’’آپریشن‘‘ بدعنوان صنعتکاروں اور تجارتی گھرانوں کے خلاف کیا گیا تھا۔ ۲۰۱۷ء میں بتستا کو برازیل کے ایک گورنر کو ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے ۶۵؍ لاکھ ڈالر کی رشوت دینے کا معاملہ سامنے آیا اور ان کو مجرم بھی ٹھہرایا گیا۔
 یہ پوری کہانی صرف ۴۰؍ سال (۸۱ء سے ۲۰۲۱ء تک) کے درمیان کی ہے۔ دوسرے ایسے واقعات بھی ہیں جو ہماری نظروں کے سامنے رونما ہوتے رہے ہیں مگر ہم ہیں کہ سبق لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ بیشتر لوگ دولت و اقتدار کے آتے ہی اپنی حیثیت اور انصاف کے تقاضوں کو بھول جاتے ہیں کہ اقتدار و دولت ہمیشہ ساتھ دینے والی نہیں ہے۔ یہ جس طرح آتی ہے اسی طرح جاتی بھی ہے۔ دولت کی وجہ سے کسی سے رشتہ قائم کرنا اور کسی سے رشتہ توڑ دینا افسوسناک ہے مگر اس وقت ہمارے معاشرے میں یہی ہورہا ہے۔
 یہ تو ہوئی بات دولت کے ساتھ چھوڑ جانے کی۔ دولت کے ہوتے ہوئے بھی انسان خوش اور مطمئن ہو یہ ضروری نہیں۔ پنجاب یونیورسٹی نے ابھی حال ہی میں ہندوستان کے ۳۴ ؍ شہروں میں ایک سروے کرایا تھا جس میں پوچھے گئے سوالات یہ تھے کہ (۱) جس سے سوالات پوچھے جارہے ہیں اس کے کام کاج کی کیا حالت ہے؟ (۲) اس کے اپنوں اور پرایوں سے رشتے کیسے ہیں؟ (۳) اس کی جسمانی اور ذہنی حالت یا صحت کیسی ہے؟ (۴) دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا اس میں جذبہ کتنا ہے؟ اور (۵) وہ مذہب و روحانیت سے کتنا تعلق رکھتا ہے؟ ان سوالات کے جو جوابات حاصل ہوئے سو تو حاصل ہوئے اور سوال کرنے والوں کو جو نتائج اخذ کرنے تھے وہ نتاج انہوں نے اخذ بھی کئے مگر وہ سب بعد کی بات ہے، سوالات کی نوعیت ہی سے ظاہر ہوگیا کہ اطمینان اور خوشی کے حصول کا باعث صرف دولت نہیں ہے بلکہ کچھ دوسرے عوامل بھی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں ترقی و خوشحالی کا رشتہ جس طرح GDP سے جوڑا جاتا ہے وہ کافی نہیں ہے۔
 سروے رپورٹ میں جو نتائج اخذ کئے گئے ہیں وہ بھی اطمینان بخش نہیں ہیں مثلاً ایک نتیجہ یہ اخذ کیا گیا ہے کہ شادی شدہ مردوں کے مقابلے غیر شادی شدہ مرد زیادہ خوش ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ ذمہ داریاں اٹھانے سے گھبرانے لگے ہیں۔ اطمینان و خوشی کا اگر یہی معیار ہے تو اس سے محرومی ہی بھلی۔ ذمہ داریاں زندگی کا حصہ ہیں۔ ہماری توجہ ذمہ داریوں سے بھاگنے کی نہیں، ان کو پورا کرنے کی ہے۔ ذمہ داریوں کے سلسلے میں بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن کو وسائل میسر نہیں ہیں وہ بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں اور جن کو وسائل میسر ہیں ان میں ایسے بھی ہیں جو ذمہ داریاں پوری کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کچھ لوگ دولت کو معیار سمجھتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ دولت ہمیشہ کسی کے پاس نہیں رہتی اور کچھ لوگ خوش رہنے کے لئے ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں۔ ہم ان دونوں قسم کے لوگوں سے برأت کا اظہار کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK