مال و دولت اُمت کیلئے فتنہ اورآزمائش ہے

Updated: February 14, 2020, 3:14 PM IST | Sayed Mohammed Mamoon Rashid

حضرت کعب بن عیاضؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ہر امت کے لئے (کوئی نہ کوئی) فتنہ اور آزمائش ہے (جس میں اس امت کے لوگوں کو مبتلا کرکے ان کو آزمایا جاتا ہے)۔ چنانچہ میری امت کے لئے جو چیز فتنہ اور آزمائش ہے وہ مال و دولت ہے۔

مال و دولت اُمت کیلئے فتنہ اورآزمائش ہے ۔ تصویر : آئی این این
مال و دولت اُمت کیلئے فتنہ اورآزمائش ہے ۔ تصویر : آئی این این

 حضرت کعب بن عیاضؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ہر امت کے لئے (کوئی نہ کوئی) فتنہ اور آزمائش ہے (جس میں اس امت کے لوگوں کو مبتلا کرکے ان کو آزمایا جاتا ہے)۔ چنانچہ میری امت کے لئے جو چیز فتنہ اور آزمائش ہے وہ مال و دولت ہے۔
 حدیث مبارکہ کی وضاحت سے قبل لفظ ’فتنہ‘ کی تعریف اور اس کی اقسام کو سمجھ لیں۔ فتن جمع فتنہ کی ہے ، ابتلاء /  امتحان ، انسان کا اچھی حالت سے بری حالت میں آنا، کسی کی طرف میلانا اور خودپسندی ، یہ سب معنی آتے ہیں۔ 
 اصطلاحِ شرع میں ’’ہر ایسی چیز جو انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ سے غافل کردے فتنہ کہلاتی ہے۔‘‘  مثال کے طور پر مال اور اولاد کو بھی خداوند تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ’فتنہ‘ کہا ہے کیونکہ مال اور اولاد انسان کو یادِ الٰہی سے غافل کردینے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
فتنہ کی اقسام
ذاتی فتنہ : قلب کا سخت ہونا کہ طاعت و مناجات میں حلاوت و لذت محسوس نہ ہو۔
 فتنۂ اہل: اولاد کی نافرمانی ، زوجین میں نفرت اور گھریلو نظام کا بگڑ جانا۔
 فتنۂ انسانیت: انسانیت ختم ہوجانا، خودغرضی، ایذارسانی کے درپےہونے لگنا۔
 وبائی فتنہ: قحط، طوفان، خسف و مسخ۔
 فتنۂ کذب:جھوٹ اور دھوکا دہی  عام ہوجائے، دلوں سے احساسِ امانت نکل جائے۔
فتنۂ تاویلات: متشابہات (قرآنی آیات) میں کج روی کے ساتھ غلط تاویلات کرنا۔
 فتنۂ سبّ و شتم : سلف صالحین کو گالی دینا۔
 فتنۂ استحلال: حرام اشیاء کو ان کا نام بدل کر جائز سمجھ کر استعمال کرنا۔
 اس حدیث مبارکہ کے پیش نظر عہد نبویؐ سے لے کر موجودہ زمانے تک کی تاریخ پر اگر سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ یہی مال و دولت سب کے لئے آزمائش بنا رہا ہے جس کے ذریعے بے شمار بندوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بغاوت و نافرمانی کی اور مسلسل کررہے ہیں۔ مال و دولت کے حصول کے لئے حلال اور حرام ، جائز و ناجائز ذرائع استعمال کرنے کو تیار ہیں ، بس مال آنا چاہئے! ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’تمہیں کثرتِ مال کی ہوس اور فخر نے (آخرت سے) غافل کر دیا۔‘‘ (التکاثر:۱)
مال کی مذمت سے متعلق 
چند اہم احادیث
 l حضور اکرمﷺ نے فرمایا : مال و جاہ کی محبت دل میں اس طرح نفاق اگاتی ہے جس طرح پانی سبزے کو اُگاتا ہے۔
 l ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا: زیادہ امیدیں لگانے والے ہلاک ہوگئے۔
 l ایک موقع پر آپﷺ سے پوچھا گیا کہ آپؐ کی امت میں سب سے زیادہ برا کون ہے؟ فرمایا: مالدار۔
 l ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، جبکہ تیرا مال تو صرف وہی ہے جو تونے کھا کر ختم کردیا، پہن کر بوسیدہ کردیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا۔
 l ایک تفصیلی حدیث میں آپؐ نے فرمایا: میرے بعد ایسی قوم آئے گی جو دنیا کی عمدہ تر اور رنگارنگ نعمتیں کھائے گی، ناز سے چلنے والے رنگارنگ گھوڑوں پر سواری کرے گی، خوبصورت اور رنگارنگ عورتوں سے نکاح کرے گی اور خوبصورت اور رنگارنگ کپڑے پہنے گی، ان کے پیٹ تھوڑی چیز سے سیر نہیں ہوں گے ، اللہ کو چھوڑ کر مال و دولت کو اپنا خدا بنائیں گے۔
 l ایک اور موقع پر آپؐ نے فرمایا: جس نے دنیا بقدرِ کفایت سے زیادہ لی تو اس نے اپنی ہلاکت لے لی، اور وہ محسوس نہیں کررہا۔ بعض اہلِ علم اس حدیث کی ایک تشریح اس انداز سے کرتے ہیں کہ ’فتنہ‘ سے مراد آخرت کا عذاب ہے کہ اس مال کی وجہ سے بہت سے لوگ فتنوں یعنی عذاب میں مبتلا ہوں گے، قیامت کے دن دو درہم والے سے ایک درہم والے کی نسبت زیادہ سوال ہوگا۔ اسی وجہ سے آپؐ یہ دعا مانگا کرتے تھے : ’’اے اللہ! محمدؐ کے گھرانے کی خوراک اندازے کے مطابق کردے، اور فرمایا: قیامت کے دن کوئی فقیر اور مالدار ایسا نہیں جو یہ تمنا نہ کرے کہ مجھے دنیا میں خوراک کے مطابق ہی رزق دیا جاتا۔‘‘
 انسان کے مقدر میں جتنا مال لکھ دیا گیا ہے اتنا ہی اس کو ملے گا۔ شیخ عبدالقادر  جیلانیؒ فرماتے ہیں: ’’اے انسان اس بات کو جان لے کہ جو چیز تیری قسمت میں لکھی جاچکی ہے وہ ہر حال میں تجھے ملے گی خواہ تو طلب و سوال کی راہ اختیار کر یا اس کو ترک کردے۔ اور جو چیز تیری قسمت میں نہیں لکھی وہ تجھ کو کسی حالت میں نہیں ملے گی ، خواہ تو اس کی طلب کی کتنی ہی حرص رکھے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے کتنی ہی سعی و کوشش اور محنت و مشقت برداشت کرے، لہٰذا تجھے جو کچھ مل جائے اس پر شاکر و صابر رہ، ہر جائز و حلال چیز کوحاصل کرنا ضروری سمجھ اور اپنی قسمت پر راضی ومطمئن رہ تاکہ رب ذوالجلال تجھ سے راضی و خوش ہو۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ مال و دولت کے سلسلے میں جو چیز مذموم ہے وہ مال و دولت کی محبت اور دنیاداری میں مبتلا ہونا اور اپنی چادر سے باہر پیر پھیلانا ہے۔ یہ خصلت انسان کو ’مال کا بندہ‘ بنا دیتی ہے کہ اس کی ہر سعی اور جدوجہد کا محور ، اس کی ہر تمنا و خواہش کا مرکز اور اس کے ہر فعل اور عمل کی بنیاد صرف مال اور زر ہوتا ہے۔ ہمیں مال کا نہیں’ اللہ کا بندہ‘ ہونا چاہئے۔ مال داری بذات خود کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کسی شخص کے پاس (حلال ذرائع سے کمایا ہوا) کتنا ہی مال کیوں نہ ہو اور وہ کتنا ہی بڑا دولت مند کیوں نہ ہو، اگر اس کا دل مال و دولت کی محبت میں گرفتار نہیں ہے تو اس کو بُرا کہنا درست نہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK