ویبینارادب کے فروغ میں معاون ثابت ہو رہے ہیں

Updated: July 13, 2020, 9:47 AM IST | Mubasshir Akbar

کورونا کے پھیلائو اور لاک ڈائون کےنفاذ نے ادبی سرگرمیوں کو بھی محدود کردیا ہے لیکن ادب کے فروغ کیلئے کوشاں افراد نے ان حالات میں بھی راستہ نکال لیا ہے

Webinar - Pic : INN
ویبینار ۔ تصویر : آئی این این

 کورونا کے پھیلائو اور اس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈائون نے پوری دنیا کو ہیجان میں مبتلا کردیا ہے۔ عالم یہ ہے کہ انسانی سرگرمیاں بہت محدود ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے نہ معیشت پنپ رہی ہے اور نہ سیاست ، نہ صنعت پنپ رہی ہے اور نہ ادب لیکن اس صورتحال میں بھی ادب کےفروغ کے لئے کوشاں افراد اور اداروں نے راستہ نکال لیا۔ انہوں نے صرف اپنی سرگرمیاںسخت لاک ڈائون کے درمیان جاری رکھیں بلکہ جلسے اور سمینار کرنے کے بجائے ’ ویبینار(مختلف ایپس کے استعمال سے کی جانے والی ویڈیو کالنگ) ‘ جیسا میڈیم استعمال کرنا شروع کردیا۔ ہر چند کہ یہ سمینار یا ادبی محفلوں کا بدل ثابت نہیں ہو سکتا لیکن اس پر ادبی سرگرمیاں ضرور جاری رہ سکتی ہیں۔ اسی سلسلے میں ہم نے کچھ شعراء اور اساتذہ سے گفتگو کی جنہوں نے یہ ادبی ویبینار منعقد کئے اور اس میں شرکت کی ۔
 ممتاز شاعر اور ذہن ساز ادبی مجلہ ’اردو چینل ‘ کے مدیر قمر صدیقی نے جنہوں نے  ادبی ویبینار میں شرکت بھی کی اور اب خود ایک ویبینار ترتیب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں،   بتایا کہ’’ مجھے  بریلی کالج، بریلی نے ’موجودہ عالمی وبا کے پس منظر میں ادب اور سماج‘ کے موضوع پر ایک بامعنی ویبنار میں مدعو کیا تھا ۔اسی طرح سی  ۔عبد الحکیم کالج، تمل ناڈ نے’وبائی امراض اور اسلامی تعلیمات‘ کے عنوان سے ایک اچھا ویبینار منعقد کیا اس میں بھی شرکت کا موقع ملا اور مہاراشٹر کالج، ممبئی نے ایک آل انڈیا آن لائن مشاعرہ منعقد کیا تھا  اس میں بھی میں موجود رہا ۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ  ان پروگراموں میں شرکت کے بعد احساس ہوا کہ آن لائن علمی ادبی جلسوں کا مستقبل خاصا روشن ہے۔ قمر صدیقی کے مطابق کورونا نے ہر چند کہ دنیا کو ایکدم سے بدل دیا  ہے۔ ایسے ماحول میں زبان و ادب کے فروغ کے لئے سرگرم رسائل و اخبارات نے جہاں اپنے ڈیجیٹل ایڈیشن پی ڈی ایف کی صورت میں پیش کرکے اس خلا ءکو پُر کرنے کی کوشش کی وہیں علمی و ادبی اجتماعات کی کمی کو ویبینار کے ذریعے کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ علمی و ادبی سرگرمیوں کے  لئے ویبینار کا استعمال نہیں ہو رہا تھا ۔یہ سب کچھ پہلے بھی موجود تھا لیکن وبا کے دنوں میں اس نے عوام اور علم و ادب کے درمیان پل کا کام کیا ہے ۔ قمر صدیقی نے مشورہ دیا کہ  ویبینار بھی اب ہماری زندگی کا حصہ ہوگا اور ہمیں ویبینار اور لائیو اسٹریمنگ کو علم و ادب کی ترسیل میں ایک میڈیم کے اضافے کے طور پر دیکھنا چا ہئے۔ ہم لوگ جس طریقے سے اس کا اہتمام کر رہے ہیں اس میں مزید اصلاح کی گنجائش ہے  اور دھیرے دھیرے یہ میڈیم مزید نکھرے گا اور مزید قبولیت حاصل کرے گا۔
 ویبینار کی افادیت کا قائل ممبئی کا مہاراشٹر کالج بھی ہے جس  کے ذمہ داران نے  لاک ڈائون کے اس دور میںہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کو ترجیح دینے کے بجائے اس میڈیم کا فائدہ اٹھانے کی سعی کی جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب نظر آرہے ہیں۔ مہاراشٹر کالج کی بزم اردو اور ادبی سرگرمیوں کے ڈائریکٹر پروفیسر اظفر خان نے بتایا کہ’’ ویبینار لاک ڈائون کے دور میں ہم اہل اردو کے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔ اس کے ذریعے ہم نے بھی ادبی نشستوں کا انعقاد شروع کردیا ہے۔ ویسے  ادبی ویبینار منعقد کرنے کا خیال ہمارے پرنسپل سراج الدین چوگلے کو آیا تھا ۔ انہوں نے ہی ہماری توجہ اس جانب دلائی اور  اس کا انعقاد کرنے میں ہر طرح کی رہنمائی بھی فرمائی ۔‘‘ مہاراشٹر کالج کی بزم اردو کے تحت گزشتہ دنوں ایک شعری نشست منعقد ہو چکی ہے جس میں ملک کے ممتاز شعراء نے شرکت کی۔ اس بزم  کے مہمان خصوصی ڈاکٹر لکشمی کانت  تھے   جبکہ نظامت ارشاد انجم نے کی۔ اس نشست میں جاوید ندیم ، عبید اعظم اعظمی ، عالم ندوی ، ظہیر قدسی ،حسنین عاقب ، فاروق رحمان ،قمر اجلال اورنگ آبادی ،نوشاد اشہر اعظمی، ذاکر خان ذاکر ، ماریہ غور اور دیگر نے اپنے اپنے کلام سے نوازا۔پروفیسر اظفر نے بتایا کہ اگلے چند دنوں میں نثری نشست کا بھی انعقاد کیا جائے گاجو افسانوں اور فکشن پرہو گی۔ اس میں چند سینئر ادباء  سرپرستی کیلئے موجود ہوں گے جبکہ نئے لکھنے والوں کو زیادہ موقع دیا جائے گا۔ ساتھ ہی طنز و مزاح اور دیگر اصناف پر بھی کچھ منصوبہ بنائے جارہے ہیں۔ 
   ویبینار کا استعمال میرٹھ کی چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی  کے شعبہ اردو نے بھی بھرپور طریقے سے کیا ہے۔ گزشتہ دنوں شعبہ اردو نے عالمی سطح کاویبینار منعقد کیا تھا جس میں ۱۱؍ ممالک جرمنی ، قطر ، کینیڈا ،یو اے ای اور دیگر ممالک کے ادباء و شعراء نے شرکت کی ۔ اس بارے میں  شعبہ اردو میں لیکچرار ارشاد سیانوی نے بتایا کہ ’’ ویبینار کے ذریعے سے ہم نے ۵؍ زبانوں اردو ، ہندی ، انگریزی ، سنسکرت اور فارسی کی ادبی محفلیں منعقد کی تھیں۔ ان میں ۵۵۰؍ افراد نے رجسٹریشن کرایا تھا جبکہ طلبہ کی بڑی تعداد بھی اس ویبینار میں شریک ہوئی ۔  ارشاد سیانوی کے مطابق شعبہ اردو کے صدر پروفیسر اسلم جمشید پوری کی قیادت میں اس طرح کے پروگرام پہلے بھی منعقد کئے گئے ہیں لیکن اس مرتبہ لاک ڈائون کی وجہ سے ویبینار کو اپنایا گیا جو نہایت کامیاب رہا ۔ اس ویبینار میں پروفیسر شہپر رسول ، پروفیسر ارتضیٰ کریم ، عارف (جرمنی)، پروفیسر خواجہ اکرام الدین ، مشتاق احمد نوری ، اسرار گاندھی ، طاہر انجم صدیقی اور دیگر ادباء و شعراء نے شرکت کی ۔ اس سہ روزہ ویبینار میں شعری و نثری دونوں تخلیقات کو جگہ دی گئی ۔ ارشاد سیانوی نے بتایا کہ شعبہ اردو کا اگلا منصوبہ ریسرچ اسکالرس کے لئے ۴؍ روزہ ویبینار منعقد کرنے کا ہے جس پر کام جاری ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK