کورونا کے بعد کی دُنیا میں ادب کیسا ہوگا؟

Updated: May 17, 2020, 4:45 AM IST | Dr Qamar Siddiqui

اس وقت انسانی زندگی جن حالات سے گزر رہی ہے وہ غیر معمولی ہیں۔ ایسے حالات کبھی نہیں رہے۔ بیک وقت پوری دُنیا میں تو کبھی نہیں رہے۔ ظاہر ہے کہ جب انسانی زندگی نمایاں تبدیلیوں سے ہمکنار ہونے جارہی ہے تو اس کے اثرات ادب پر کیوں مرتب نہیں ہوں گے۔ لہٰذا اُمید کی جاتی ہے کہ کورونا کے بعد کی دُنیا مختلف ہوگی تو اس کا ادب بھی جدا ہوگا۔

Book - Pic : INN
کتاب ۔ تصویر : آئی این این

ابھی ۲۰۲۰ء کا آغاز ہوا ہی تھا کہ دنیا ایک نئے اور انوکھے طرح کے بحران کا شکار ہوگئی۔ کورونا وائرس نے مختصر سے عرصے میں پوری دنیا کو جکڑ لیا۔ ہم بہت دنوں سے سُن رہے تھے کہ دنیا ایک عالمی گائوں بن چکی ہے ۔ عالمی گائوں بننے کا خواب رسل و رسائل اور آمد و رفت کی آسانی کے سبب اپنی تعبیر میں بہت حسین تھا۔ پوری دنیا انسان کی  ہتھیلی میں سمٹ آئی تھی۔ کسے پتہ تھا کہ یہی آسانی یہی حسیں خواب پوری دنیا کے لئے نئی طرح کی پریشانی لے کر آئے گا۔ دنیا بھر میں کورونا کا اتنی تیزی سے پھیلنا اس بات کی دلیل ہے کہ ترقی کے عمودی سفر میں آج انسان اُس مقام پر کھڑا ہے جہاں ذرا سی لغزش پوری انسانی آبادی کو تباہ و برباد کر سکتی ہے۔ آج لاکھوں افراد کورونا وائرس کے شکار ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ شہر کے شہر لاک ڈائون۔ آمد و رفت پر پابندی،  فضائی سفر معطل ، کاروبار بند اور کروڑوں افراد صرف گھروں تک محدود ہیں۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ اِس بحران کے بعد کیا انسانی زندگی پھر وہیں سے شروع ہوپائے گی جہاں رُکی تھی؟
 یہ تو بالکل واضح ہے کہ کورونا بحران کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ وائرس پر قابو پانے کے بعد وسیع پیمانے پر معاشی اور معاشرتی تنظیمِ نو کے علاوہ ممکن ہے کچھ ممالک کے سیاسی ڈھانچے میں بھی تبدیلی آئے۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے  کہ ۱۳۴۷ء  میں جب طاعون کی وبا کے سبب ۵۰؍ ملین افراد ہلاک ہوئے تھے، یورپ میں کلیسائی نظام کمزور ہوا تھا اور وہاں نشاۃ الثانیہ کی تشکیل میں تیزی آئی تھی۔ یہ وبا یورپ میں جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کا سبب بھی بنی تھی۔ ممکن ہے اسی طرح کورونا وائرس بھی انسانی معاشروں میں نئے طرزِ عمل اور اعتقادات کی وجہ بن جائے۔ کچھ ماہرین نے اس ضمن میں اہم نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ دنیا کو ایسا اتفاقِ رائے حاصل کرنا ضروری ہے جو اس طرح کے کثیر الجہت مسائل کو دور کرسکے۔ لہٰذا حکمرانی کا ایسا تصور رواج پانے کا امکان ہے جو کثیر الجہت ہو۔ ایسے ممالک جو قوم پرستی، انتشار اور یک رُخے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں انہیں اپنی پالیسی تبدیلی کرنا پڑسکتی ہے۔ کورونا کے بعد دنیا شاید گلوبل حکمرانی کی طرف پیش قدمی کرے۔
 دنیا نے اس سے قبل بھی وبائوں کی مار جھیلی ہے اور دو عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کی گواہ رہی ہے۔ لیکن یہ صورتِ حال بالکل الگ ہے۔ اب تک جو بھی وبائیں آئی ہیں ان کے اثرات یا تو مخصوص علاقے یا بہت سے بہت کچھ ایک بر اعظموں تک ہی محدود رہے ہیں۔ حتیٰ کہ دونوں عالمی جنگوں سے بھی پوری دنیا اس طرح متاثر نہیں ہوئی تھی جس طرح آج کورونا کے سبب ہو رہی ہے۔آج کوئی ملک، کوئی شہر، کوئی گائوں، کوئی محلہ اور کوئی گھر ایسا نہیں ہے جو کورونا کے قہر سے متاثر نہ ہوا ہو۔ پچھلی صدی کی سب سے بڑی وبا ۱۹۱۸ء تا  ۱۹۱۹ء  اسپینی فلو تھی جس میں ایک کروڑ ستر ّ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی کے ساتھ پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے سبب جو بڑی سماجی تبدیلی نمودار ہوئیں وہ ملازمین کی کمی کے سبب عورتوں کے ملازمت میں آنے کے مواقع تھے۔ دیکھتے دیکھتے ۱۹۲۰ء امریکہ میں ملازمتوں میں خواتین کی حصہ داری ۲۱؍فیصد ہوگئی۔ معروف اسکالر بلیک برن کے مطابق ’’۱۹۱۸ء کا فلو دنیا کے کئی ملکوں میں خواتین کے حقوق پر اثر انداز ہوا۔‘‘
 وبا کی وجہ سے سماجی تبدیلیوں کی یہ مثالیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ کورونا کے بعد دنیا ویسی نہیں ہوگی جیسی اِس سے قبل تھی۔ سماجی تبدیلیوں کے یہ اثرات ادب پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں ادیب اور قاری دونوں کی سوچ پر اثر انداز ہوتی ہیںاور اس کی وجہ سے ادب میں نئے رجحانات در آتے ہیں۔ مثال کے طور پر ارنسٹ ہیمنگوئے کے تخلیقی سفر کا جائزہ لیں تو اس نے دونوں عالمی جنگیں دیکھی تھیں بلکہ اس میں حصہ بھی لیا تھا۔ اس کا ناول A Farewell to Arms  یعنی اسلحہ کو الوداع (’’وداعِ جنگ‘‘)  ۱۹۲۹ء میں شائع ہوا تھا۔ اس ناول کو جنگ کے موضوع پر لکھا گیا ایک بہترین ناول تسلیم کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس ناول پر اٹلی میں پابندی بھی لگائی گئی لیکن اس ناول نے جنگ اور تشدد کے رویے پر کاری ضرب لگائی۔  ہیمنگوئے کا پہلا ناول The Sun also Risesبھی جنگ کے موضوع پر ہی ہے اور اس میں بھی اس نے جنگ کو دکھوں کی آماجگاہ بتایا ہے۔ اسپینی فلو اور پہلی عالمی جنگ کے نتیجے میں بے شمار اموات نے انسانی زندگی کے احترام کے رجحان کو فروغ دیا اور بلا شبہ اس رجحان کے فروغ میں ادب اور ادیبوں نے بہت محنت کی ہے۔ ہیمنگوئے کا شہرۂ آفاق ’’بوڑھا اور سمندر ‘‘ بھی انسانی جد وجہد کے احترام سے عبارت ہے۔ 
 البرٹ کامو کو ناول ’’اجنبی‘‘ کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی لیکن اس کا ناول ’’طاعون‘‘ بھی کم اہم نہیں ہے۔ کامو نے لایعنیت کا نظریہ پیش کیا۔ یہ پہلا ادیب تھا جس نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ ایٹمی حملے کی مذمت کی تھی۔ اس حملے کے تعلق سے اس نے کہا تھا کہ ’’ انسانیت کے خلاف ایک خوفناک نظریہ کھول دیا گیا ہے۔‘‘ اس کا دوسرا ناول ’’طاعون‘‘ دوسری علمی جنگ کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ اس ناول پر جنگ کی بے معنویت کے سائے کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
 اسی طرح پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جب برطانوی سامراج کی قوت میں اضافہ ہوا اور عثمانیہ سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا تب مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا ورلڈ آرڈر متعارف کروایا گیا۔ جلیان والا باغ سانحہ رونما ہوچکا تھا۔ تحریک خلافت شروع ہورہی تھی۔ اُردو میں ایک بالکل نئے طرز کا ادب سامنے آیا۔ یہ ادب ایک طرح سے مزاحمتی ادب تھا۔ یہ اپنے پیش رو ادب سے بالکل مختلف تھا اور کسی نہ کسی زاویئے  سے ترقی پسند تحریک کا پیش خیمہ بھی۔ ترقی پسند تحریک کا باضابطہ آغاز تو ۱۹۳۶ء میں لکھنؤ کی انجمن ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس تحریک کے ممتاز ادباء و شعراء اپنے مزاحمتی ادب کے سبب پہلے سے ہی مقبول ہوچکے تھے۔ اس کا سبب اُس زمانے کی معاشرتی تبدیلیاں تھیں۔
 اِن تبدیلیوں کے علاوہ وسیع پیمانے پر پیدا ہونے والی سماجی اتھل پتھل زبان و ادب کے داخلی رویوںپربھی اپنے واضح اثرات ثبت کرتی ہے۔ کورونا کے بعد دنیا کیسی ہوگی ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ کورونا کے بعد کی دنیا ویسی نہیں ہوگی جیسی کہ پہلے تھی۔ پہلی اوردوسری عالمی جنگ کے بعد جس طرح فکشن کو مقبولیت حاصل ہوئی ،ممکن ہے کہ کورونا کے بعد فکشن کی اس مقبولیت میں مزید اضافہ ہو۔ اس کی وجہ گھر گھر محلہ محلہ شہر شہر اور ملکوں ملکوں جنم لینے والی نئی اور انوکھی کہانیاں ہوںگی۔ وہ کہانیاں جو ہم نے کبھی سنی نہیں تھیں، جنہیں ہم نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ فکشن کی مقبولیت کی ایک وجہ اس کا بیانیہ بھی ہوگا۔ اس وبا کی وجہ سے سماجی دوری کے نام پر انسان سے انسان کے درمیان جو فاصلہ آگیا ہے اس خلاء کو انسان شاید بیانیہ کی مدد سے پُر کرنا چاہے گا۔ جہاں تک شاعری کا تعلق ہے تو اردو میں نظم کی کئی اصناف ویسے بھی معدوم ہوچکی ہیں۔ البتہ سب سے مقبول صنف غزل کے لئے مشکل یہ ہے کہ اس کی بیشتر تشبیات اور استعارے اب ازکارِ رفتہ ہوگئے ہیں۔
 جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ کورونا کے بعد انسانی آبادی ایک دوسرے کے تئیں بہت زیادہ پُرجوش اور پُرتپاک نہیں ہوگی۔ ایک دوسرے سے دوری، غیر فطری سماجی فاصلہ اور زندگی کے مختلف شعبوں میں خلاء جیسا خلاء ایک عرصہ تک اُس کا مقدر ہوگا لہٰذا غالب امکان اسی بات کا ہے کہ اس دوری اور اس خلاء کو شاید بیانیہ پُر کر ے گا۔ اگر غزل نئے استعارے ، نئی علامات اور نئی شبہیات نہیں تلاش کرسکی تو شاید کورونا کے بعد بیانیہ کی قوت کے سبب اردو میں نثری نظم کے امکانات وسیع ہوجائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK