Inquilab Logo Happiest Places to Work

فارغین مدارس کے مسائل کیا ہیں اور ان کا ممکنہ حلکیا ہوسکتا ہے؟

Updated: December 11, 2020, 3:04 PM IST | Naqi Ahmed Nadvi

تعلیمی دور سے گزرنے کے بعد جب مدارس کے فارغین عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ذاتی ضروریات، اہل خانہ کی کفالت اور معاشرے کی کسوٹی پر پورا اترنے تک ان کے سامنے کئی مسائل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اکثر طلباء پریشان ہوجاتے ہیں۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کا کیا طریقہ ہوسکتا ہے یہ اس مضمون میں ملاحظہ فرمائیں

Madarsa Students
مدرسہ طالب علم

ایک غبارہ فروش کسی چوراہے پر غبارہ بیچ رہا تھا۔ دور دور سے لوگ اور بچے آتے اور غبارہ خریدتے۔ جب غباروں کی سیل کم ہونے لگتی تو وہ کچھ غبارے اڑا دیتا تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ کوئی غبارہ فروش وہاں پر ہے، ظاہر ہے ہیلیم گیس سے بھرے رنگ برنگے غبارے اوپر اڑتے اور بچے غبارہ خریدنے کے لیے کھنچے چلے آتے۔ ایک روز اس نے محسوس کیا کہ کوئی اس کا کپڑا کھینچ رہا ہے۔ نیچے دیکھا تو ایک  چھوٹا سا سیاہ رنگت کا معصوم بچہ  اس کی توجہ چاہ رہا تھا۔ وہ جھکا اور بچے سے دریافت کیا۔ بچہ بولا: انکل! کیا کالے رنگ کا غبارہ بھی اوپر اڑتا ہے۔ غبارہ فروش سوچ میں پڑ گیا پھر بولا: بیٹا! رنگ سے کچھ نہیں ہوتا، بلکہ غبارہ کے اندر جو ہوتا ہے وہی غبارہ کو اڑاتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ سات آٹھ سال مدرسے میں پڑھنے کے بعد طلباء نے جو کچھ حاصل کیا ہے اسی کی بنیاد پر ان کے مستقبل کی تعمیر ہوتی ہے۔صورت شکل سے کچھ نہیں ہوتا، اسمارٹ بننے اور دکھنے سے کچھ نہیں ملتا بلکہ جو کچھ اندر ہوتا ہے اسی کی بنیاد پر ایک طالب علم آسمان کی بلندیوں پر اڑتا ہے۔ یوں تو آپ چاہے مدرسے سے فارغ ہوں یا کسی ٹیکنیکل ادارے اور یونیورسٹی سے، فراغت کے بعد سبھی اسٹوڈنٹس اور طلباء کی یکساں حالت ہوتی ہے۔ مستقبل کی فکر، کریئر کا آغاز یا پھر آگے کی پڑھائی ۔یہ عام مسئلہ ہے جس کاسامنا اہل مدارس اور اہل یونیورسٹی سبھی کو کرنا پڑتا ہے۔ مگر عام طور پر فارغینِ مدارس کے اندر جو احساسات پائے جاتے ہیں وہ مختلف ہوتے ہیں۔ بہت ساری وجوہات کی بنا پر کبھی وہ احساس برتری تو کبھی احساس کمتری میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں اور یہ دونوں نقصان دہ ہیں۔ بیشتر مدارس کے طلباء خوش فہمیوں کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں دنیا کی کڑوی سچائی کا علم نہیں ہوتا اور وہ کتابی دنیا سے باہر نہیں نکل پاتے۔ میںبھی ایسے ہی فارغین مدارس میں شامل تھا جو نہ صرف احساس برتری کا شکار تھا، بلکہ فراغت کے بعدکتابی دنیا سے نکل ہی نہیں پایا۔  مدرسے کی فراغت کے بعد عام طور پر فارغینِ مدارس یہی سوچتے ہیں: میں ایک آسمانی مخلوق ہوں۔ مدرسے کی پڑھائی کا موقع میرے لیے ایک نعمت غیر مرقبہ تھا۔ حدیث اور قرآن، فقہ اور عربی زبان پڑھنے کا موقع خوش قسمت لوگوں کو ہی ملتا ہے۔ جب میں چھٹیوں میں گھر جاتا ہوں تو لوگ اور سماج میری کتنی عزت کرتے ہیں۔ بھائی، بہن اور والدین میری دینی تعلیم پر کتنا خوش ہوتے ہیں۔ اسٹیج پر کچھ کہنے کے لئے مجھ سے اصرار کیا جاتا ہے۔ ہر جمعہ کو خطبہ دینے کی درخواست کی جاتی ہے۔ قرآن کی تفسیر مجھے آتی ہے اور کسی بھی حدیث پر گھنٹوں تقریر کرسکتا ہوں۔ فقہ کی باریکیاں مجھے معلوم ہیں اور عربی اور اردو ادب کے نہ جانے کتنے اشعار مجھے ازبر ہیں جو میری تحریر و تقریر میں چار چاند لگادیتے ہیں۔ نحو اور صرف کے پیچیدہ قواعد مجھے خوب آتے ہیں اور فصاحت و بلاغت کی کتابیں بھی میں نے چاٹ ڈالی ہیں۔ منطق میں میرا کوئی جوڑ نہیں اور عربی ادب میں میرا کوئی توڑ نہیں۔ یہی نہیں میرے کتنے مضامین بھی چھپ چکے ہیں اور بڑے بڑے لوگوں نے میرا مضمون پڑھ کر شاباشی بھی دی ہے…۱ب وہ وقت آگیا ہے کہ میں اپنی سات آٹھ سال کی محنت کا صحیح استعمال کروں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں اور قوتوں کا استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کروں جس کا خواب میں نے تعلیم کے دوران دیکھا تھا،میرے مدرسے کے عظیم اساتذہ اور مربیوں نے اسی کی تو تعلیم دی تھی اور سب لوگ بھی مجھ سے یہی امید کرتے ہیں۔
اور گھر والوں کی امیدیں بھی کچھ کم نہیں ہوتیں، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس بچے نے آٹھ دس سال مدرسے میں خرچ کئے ہیں، اس کا حاصل کیا ہے؟ والدین کی اپنی ضروریات اور توقعات ہوتی ہیں، لہٰذا بیشتر یہ امید لگا کر بیٹھے رہتے ہیں کہ جیسے ہی میرا بیٹا مدرسہ سے فارغ ہوکر آئے گا گھر کا بوجھ اٹھانا شروع کردے گا۔
تیسری طرف سماج کی توقعات بھی کچھ کم نہیں ہوتیں، سماج مولوی طبقے سے کچھ الگ ہی امیدیں لگا کر بیٹھا رہتا ہے۔ ان کے تصور میں ایک مولوی تقویٰ وطہارت اور زہد و قناعت کا پورا مجسمہ ہونا چاہئے۔ چنانچہ وہ مسجد اور مدرسے کے باہر کسی عالمِ دین کو کوئی کام کرتے برداشت  نہیں کرتے۔ ان کے تصور میں مولوی وہی ہے جو کرتا پائجامہ پہنے، ٹوپی اس کی نہ اترے اور موزے کا بھی وہ خوب پابند ہو۔ دیکھنے میں پُرنور ہو مگر خستہ حالی اور بدحالی سے چور ہو۔ اس کے بال بچے بھی قناعت کا پھٹا لباس پہنے ہوں اور دنیا کی بنیادی ضروریات سے محروم ہوں۔ ہر دکھ درد میں وہ ضرور کام آئے اور سماج کی ساری برائیوں سے وہ ضرور لڑے مگر اپنے اور اپنی فیملی کے لئے کچھ نہ سوچے، کچھ نہ کرے،  نہیں تو وہ وارثِ نبی کیسے ہوسکتا ہے؟
فراغت کے بعد ایک مولوی جب ایسی صورت حال میں خود کوپاتا ہے تو ششدر رہ جاتا ہے۔وہ ایسی دو ناؤ پر ہوتا ہے کہ اگر ایک قدم ہٹائے تو پھسل کر گر جائے۔ چنانچہ ایک طرف اس کی ذاتی ضروریات اور اہل خانہ کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں تو دوسری طرف اپنا انقلابی مشن اور سماج اور معاشرہ کی توقعات۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ زادِ راہ جو اس نے آٹھ دس سال تک اس سفر کیلئے تیار کی تھی، ناکافی، غیر عملی اور آؤٹ ڈیٹیڈ معلوم ہوتی ہے۔
مدرسے کے دس سالہ تعلیمی کورس کو مکمل کرنے کے بعد جب ایک فارغ التحصیل عالم خود کو ان حالات  میں گھرا ہوا پاتا ہے تو پریشان جاتا ہے، اُس کا اِس طرح پریشان ہونا فطری اور  لازمی ہے۔مگر کہانی اب شروع ہوتی ہے، ایسے موڑ پر کہا ںجانا ہے او رکیسے جانا ہے اس کا فیصلہ بقیہ پوری زندگی پر اثر ڈالتا ہے۔
ہندوستان میں ایسے بڑے مدارس بہت کم ہیں جہاں عالمیت اور فضیلت تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ چھوٹے مدارس ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ اگر آپ کسی چھوٹے مدرسے کے طالب علم ہیں تو آپ کو بڑے مدرسے میں داخلہ کے لئے معلومات حاصل کرنی چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ کسی مشہور دینی درسگاہ سے تعلیم مکمل کرسکیں۔ کچھ ایسے بھی مدارس ہیں جہاں پر عالمیت تک کی تعلیم تو ہوتی ہے مگر پڑھائی کا معیار اتنا کمزور ہے کہ وہاں کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی آپ کی علمی صلاحیت اس قابل نہیں ہوگی کہ آپ ترقی و کامرانی کی راہ پر چل سکیں۔ ایسے مدرسوں سے چپکے رہنا آپ کے مستقبل کے لئے سود مند نہیں ہے۔ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد انہیں مدرسوں میں پڑھتی ہے جن کے سرٹیفکیٹ کو سرکاری ادارے تسلیم نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ بہت سارے طلباء سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں اور بہت ساری سرکاری ملازمتوں اور اسکیموں سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔
اس کا حل یہ ہے کہ اگر آپ کسی چھوٹے مدرسے میں زیر تعلیم ہیں تو آپ عصری تعلیم کانظم رکھنے والے  مدرسوں میں داخلہ لے لیں تاکہ آپ کے پاس ایسے سرٹیفکیٹ ہوں جو مستقبل میں اعلیٰ تعلیم اور سرکاری اسکیموں اور ملازمتوں میں کام آسکیں۔ایک دوسرا حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدرسے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ آن لائن یا فاصلاتی نظامِ تعلیم کے ذریعے اپنا سلسلۂ تعلیم جاری رکھیں، اس سے آپ کو کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔ 
یہ بات یاد رکھیں کہ فراغت کے بعد ہی دراصل آپ کی اصلی تعلیم کا آغاز ہوتا ہے۔ اب تک آٹھ دس سال جو کچھ آپ نے پڑھایا سیکھا تھا، دراصل آگے کی پڑھائی کی وہ بنیاد تھی، آپ کو فراغت کے وقت ایک کنجی دی گئی ہے، جس سے آپ دوسرے علوم کا دروازہ کھول سکتے ہیں، بہت سارے فارغینِ مدارس یہ سمجھ بیٹھتے ہیںکہ پڑھائی مکمل ہوگئی۔ پڑھائی مکمل نہیں ہوئی، بلکہ اب اس کا آغاز ہوا ہے، اب یہا ںسے جو تعلیم آپ حاصل کریں گے، اسی پر آپ کے روشن اور کامیاب مستقبل کا انحصار اور دارومدار ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK