ہمارے ادباء و شعراء کے مطالعہ میں کون سی کتابیں رہیں؟

Updated: May 03, 2021, 5:04 PM IST | Mubashir Akbar

لاک ڈائون نے موقع فراہم کیا ہے کہ مطالعہ کو اور وسیع بنایا جائےکیوں کہ یہ ذہنی غذا ہے اور ایسے انتشار اور درد و غم کے دور میں اچھی کتابوں کا مطالعہ ہر درد کا مداوا ثابت ہوسکتا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

کورونا  وباء کی دوسری لہر نے  تیزی کے ساتھ اپنے پر پھیلائے ہیں جس کی وجہ سے عوام گھروںتک مقید  ہیں۔ اس کی وجہ سے نہ صرف سماجی رابطے منقطع ہو گئے ہیں بلکہ معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے لیکن کورونا کی وجہ سےہونے والے لاک ڈائون نےلوگوں کو بھرپو ر موقع فراہم کیا ہے کہ اپنے مطالعہ کو اور وسیع بنائیں  اس خالی وقت میں کچھ نہ کچھ پڑھتے رہنے کو ترجیح دیں کیوں کہ مطالعہ ذہنی غذا ہے اور ایسے انتشار اور درد و غم کے دور میں اچھی کتابوں کا مطالعہ ہر درد کا مداوا ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نےاپنے ادباء و شعراء سے جاننے کی کوشش کی کہ لاک ڈائون کے اس دور میں ان کے زیر مطالعہ کون کون سی کتابیں ہیں۔
 مشہور ادیب و ناول نگار نو رالحسنین  نے بتایا کہ ’’ کورونا کے اس دور میں جب ہر طرف افراتفری ہے ،اطلاعات اور غلط اطلاعات کا دور دورہ ہے کوئی بھی تخلیق کار  چاہے وہ شاعر ہو یا ادیب  اس سے اچھوتا نہیں رہ سکتا ۔ اس دور نے سبھی پر اثر ڈالا ہے ،کوئی زیادہ حساس ہو گیا ہے تو کوئی خاموش لیکن اثر ہر کسی پر ہوا ہے ۔ ایسے میں خدا سے لَو لگانے کے علاوہ جو راستہ ہمیں نظر آتا ہے وہ یہی ہے کہ مطالعہ کا سہارا لیا جائے اس سے ذہن افراتفری اور ٹوٹ پھوٹ  سے دوچار ہونے سے بچا رہے گا اور ایک صحت مند تفریح اسے میسر ہو گی۔‘‘ نور الحسنین  نے بتایا  کہ اس وقت ان کے زیر مطالعہ  میرٹھ یونیورسٹی کا ادبی مجلہ ’ہماری آواز ‘ ہے جس میں ۲۱؍ ویں صدی کی پہلی دو دہائیوں کے فکشن پر گفتگو کی گئی ہے۔ اس مجلہ میں ناولوں ، افسانوں اور یگر   تخلیقات کے تجزیے ، تفہیم ، تنقید اور معلوماتی مضامین ہیں۔ اس مجلے میں ۲۱؍ ویں صدی میں نئے لکھنے والے افسانہ نگاروں کا تذکرہ بھی ہے اور ان تخلیق کاروں پر بھی گفتگو ہے جنہوں نے گزشتہ صدی کے اواخر میں لکھنا شروع کیا تھا ۔ نور الحسنین کے مطابق انہوں نے حال ہی میں  بہار کی ناول نگار افسانہ خاتون کا  ناول’ شیلٹر ہوم ‘ ختم کیا ہے جو استحصال کا شکار ہونے والی خواتین کی داستان ہے۔ ان خواتین کا پس منظر الگ الگ ہے ، کوئی شہر سے ہے تو کوئی گائوں سے ہے ، کوئی ملازمت پیشہ ہے تو کوئی خاتون خانہ ہے لیکن استحصال سب کا ہوا ہے اور  اسی پس منظر میں یہ ناول ہے جو شروع سے آخر تک اپنے آپ کو پڑھوالینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نور الحسنین نے بتایا کہ اس مطالعہ کے علاوہ  وہ اپنے نئے ناول پر بھی مسلسل کام کررہے ہیں جس میں آزادی  کے بعد کے حالات اور مسلمانوں کا مکمل جائزہ ہے۔ اس کے لئے وہ ریفرنس کی مختلف کتابوں کا بھی مطالعہ کررہے ہیں جس سے انہیں اور بھی  نئی نئی چیزوں کے بارے میں ، مختلف حقائق اور ان کے پس منظر کے بارے میں معلومات مل رہی ہے۔ 
 معروف شاعر انیس احمد شوق سے گفتگو کرنے پر  انہوں نے بتایا کہ’’ مسلسل مطالعہ کی عادت کے سبب ہی  مجھے اس پریشانی کے دور میں راحت ملتی رہی ہے کیوں کہ اس کے ذریعے ہمیں دنیا کی مشکلات اور ذہنی الجھنوں سے فرار کا موقع مل جاتا ہے۔ گزشتہ ایک سال سے جاری لاک ڈائون کے دوران میں مطالعہ جاری رکھا  اور اس فراغت کے اوقات میں اس سے بہتر کوئی کام ہو بھی نہیں سکتا۔ ‘‘  انیس احمد شوق کے مطابق گزشتہ کچھ ماہ سے ان کے زیر مطالعہ عروض کی زیادہ تر کتابیں ہیں  جن میں ماہر عروض ذاکر عثمانی  کی کتاب بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صفدر مرحوم کی انشائیوں کی کتاب حال ہی میں انہوں نے حاصل کی ہے اور اس کا بھی مطالعہ وہ کررہے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف ادبی گروپس میں جو  تحریریں آتی ہیں ان کا مطالعہ بھی سود مند ثابت ہو رہا ہے کیوں کہ اس وقت ادبی سرگرمیاں بالکل مفقود ہو گئی ہیں اور جوکچھ بھی ہو رہا ہے وہ وہاٹس ایپ کے ادبی گروپس یا پھر فیس بک کے ذریعے ہی ہو رہا ہے۔ اس لئے ہم ان میڈیم سے بھی دور نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وہاٹس ایپ پر کچھ ایسے گروپس ہیں جو مسلسل ادب کی خدمت میں مصروف ہیں  اور وہاں پوسٹ ہونے والے افسانے یا مضامین معیاری ہوتے ہیں۔ 
  نوجوان  افسانہ نگار عبداللطیف جوہر  ان دنوں اردو میں افسانچے کی مقبولیت پر تحریر کی گئی کتاب پڑ ھ رہے ہیں۔ چونکہ وہ خود افسانچوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور کئی افسانچے لکھ چکے ہیں اس لئے یہ ان کے ذوق کے عین مطابق ہے۔  عبداللطیف جوہر نے بتایا کہ اس وقت  ڈاکٹر عظیم راہی کی اردو کی ۶۰؍ سالہ  افسانچہ نگاری کا جائزہ ’ اردو افسانچے کی مقبولیت اور پیش رفت ‘ پڑ ھ رہے ہیں۔ اس ایک کتاب کے ذریعے انہیں افسانچوں کے فن پر گرفت کرنے اور انہیں سمجھنے میں کافی  آسانی ہوئی ہے۔چونکہ وہ افسانچوں کے ہی موضوع پر ڈاکٹریٹ بھی کررہے ہیں اس لئے یہ کتاب ان  کیلئے نہایت کار آمد ثابت ہو رہی ہےعبد اللطیف جوہر کے مطابق   افسانوں پر مبنی گروپس میں پوسٹ کئے گئے افسانے بھی کافی بہتر ہوتے ہیں۔ اس سے کم از کم مطالعہ کی تشنگی کو تھوڑا آرام مل جاتا ہے۔ ہر چند کہ کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کا جو لطف ہے وہ موبائل پر پڑھنے میں نہیں آتا ہے لیکن ٹیکنالوجی سے دور بھی نہیں رہ سکتے ۔  انہوں نے بتایا کہ انہی گروپس میں سے ایک میں گزشتہ دنوں انس رشید خان کا افسانہ پوسٹ ہوا تھا جسے پڑھنے کے بعد وہ کافی متاثر ہوئے اور اب ایسے مزید بہتر افسانے یا افسانچے پڑھنے کے مشتاق ہیں۔
 نوجوان افسانہ نگار احمد نعیم  نے   بتایا کہ  انہوں نے  لاک ڈائون کے اس عرصے کو زیادہ سے زیادہ مطالعہ کے لئے ہی استعمال کیا ہے ۔ احمد نعیم کے مطابق  اس سال وباء  پر لکھا گیا اردو کائنات کا سب سے منفرد ناول ’ایک خنجر پانی میں‘  کا نہ صرف انہوں نے مطالعہ کیا بلکہ  چند دوستوں کو بھی اسے اصرار کرکے پڑھوایا۔ وہ بھی اس سے کافی محظوظ ہوئے۔ اسی  دوران ممبئی سے شائع  ہونا والا ناول ’مرزبوم ‘ جسے صدیق عالم  نے تحریر کیا ہے ، کا مطالعہ جاری ہے ۔دونوں ہی ناول  اپنے اسلوب میں منفرد ہیں جن کے لیے قاری کا  پختہ ذہن ہونا اور  تکنیک کو سمجھنے والا ہونا بہت ضروری ہے۔ افسانوی مجموعہ میں بلراج مینراء کا اکلوتا افسانوی مجموعہ ’مقتل ‘اور کمار پاسی کا ’پہلے آسمان کا زوال‘ ، تراجم میں ارجمند آراءکا  عربی سے اردو ترجمہ کیا گیا ناول ’شمال کی جانب ہجرت کا موسم‘ پڑھا جبکہ ارندھتی رائے کے ناول کا اردو ترجمہ بھی وہ پڑھ رہے ہیں۔ احمد نعیم بتاتے ہیں کہ لاک ڈائون کے دوران ناولوں کا مطالعہ ہی زیادہ رہا ہے کیونکہ ناول پڑھنا کئی زندگیوں کو جینے جیسا ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK