کیا کہا رگھو رام راجن نے

Updated: September 14, 2021, 4:45 PM IST

آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے گزشتہ دنوں ملک کی ترقی، ملک میں جمہوریت کی ترقی اور ان حوالوں سے عوام کی ترقی کیلئے، جو پچاسوں خامیوں کے باوجود جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، اقتدار کی عدم مرکزیت کو موضوع بنایا اور ریاستی حکومتوں، میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹی اور پنچایتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کی سفارش کی۔

Raghuram Rajan. Picture:INN
رگھو رام راجن۔ تصویر: آئی این این

 آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے گزشتہ دنوں ملک کی ترقی، ملک میں جمہوریت کی ترقی اور ان حوالوں سے عوام کی ترقی کیلئے، جو پچاسوں خامیوں کے باوجود جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، اقتدار کی عدم مرکزیت کو موضوع بنایا اور ریاستی حکومتوں، میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹی اور پنچایتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کی سفارش کی۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ اختیار وہاں ہونا چاہئے جہاں وہ دکھائی دے، جہاں اسے محسوس کیا جاسکے اور اس کے استعمال کے ذریعہ عوامی زندگی میں خوشگوار تبدیلیوں کو یقینی بنایا جاسکے۔ رگھو رام راجن سلجھے ہوئے ذہن کے مالک ہیں اس لئے ناگوار گزرنے والی براہ راست تنقید سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں مگر یہ ضرور بتاتے ہیں کہ کیا کِیا جانا چاہئے اور کن کن شعبوں میں اصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ وطن عزیز میں وفاق کی ضرورت کو آزادی کے بعد ملک کی تشکیل کے دور ہی میں محسوس کرلیا گیا تھا چنانچہ اقتدار کاڈھانچہ ہی کچھ اس طرح کا بنایا گیا کہ اگر اقتدار کا بڑا اور اہم مرکز دارالسطنت میں ہے تو گاؤں گاؤں تک اقتدار کی شاخیں پھیلیںمگر اس ضرورت کو محسوس کرنے والی کانگریس کے دور حکومت میں بھی اس نظام کو مستحکم نہیں کیا گیا جس کا نتیجہ تھا کہ مرکز اور ریاستوں کے تعلقات کانگریسی وزرائے اعظم کے دور میں بھی بہت اچھے نہیں ہوتے تھے۔ اندرا گاندھی کے دور میں تو اقتدار کی مرکزیت خاص طور پر موضوع بحث بلکہ ہدف تنقید بنی۔ اس کے باوجود بہت کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں ریاستی حکومتوں کو، بالخصوص وہ ریاستیں جہاں غیر بی جے پی حکومتیں ہیں، سب سے زیادہ شکوہ اسی بات کا رہا کہ اُن کے ساتھ مرکز کا سلو ک معاندانہ ہے، دوستانہ نہیں۔ 
 گزشتہ سال جب کورونا کی وباء پھیلی تو پوری کمان وزیر اعظم نے اپنے ہاتھوں میں لے لی۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے وقت اور اس سے پہلے جب نوٹ بندی ہوئی تھی، تب بھی عوام نے اقتدار کی مرکزیت کا بچشم خود مشاہدہ کیا۔ ایسے ہر معاملے میں ریاستی حکومتوں کو شکایت تھی کہ یا تو ان سے صلاح مشورہ نہیں کیا گیا یا ان کے مشوروں کو لائق اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ اس دوران یہ شکایتیں بھی عام ہوتی رہیں کہ مرکز غیر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کرتا ہے۔ ایسی ریاستوں کو کووڈ کے دور میں مرکز سے اعانت حاصل کرنے میں بڑی دقتیں پیش آئیں۔ ایک نظیر جموں کشمیر میں بھی قائم ہوئی جب ’دفعہ ۳۷۰؍ ‘اور’ ریاستی درجہ‘ کے سلسلے میں مقامی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔قارئین کو یاد ہوگا کہ اپوزیشن پارٹیوں کواس  بات کا بھی شکوہ تھا کہ مرکز نے  نیشنل ڈیولپمنٹ کاؤنسل، انٹراسٹیٹ کاؤنسل اور پلاننگ کمیشن کی جگہ نیتی آیوگ کے قیام پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ مرکز نے ہر اس پلیٹ فارم کو معطل (ڈی ایکٹیویٹ) کردیا جن کے ذریعہ ریاستیں مرکز کے سامنے اپنے جائز مطالبات، ضروریات، اشکالات، خیالات اور تشویش کااظہار کیا کرتی تھیں۔ 
مرکز کی حکمراں جماعت کا نعرہ ’’سب کا ساتھ....‘‘میں ’سب کا‘ کے مفہوم میں تمام عوامی طبقات ہی نہیں ہیں بلکہ ریاستیں بھی شامل ہیں اور مرکزی حکومت کا ترقیاتی ایجنڈا اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا جب تک ملک کی ہر ریاست مرکز کے ساتھ نہ ہولے۔ اس کے لئے منصفانہ اور دوستانہ طرز عمل کی ضرورت ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK