Inquilab Logo

جی ٹوینٹی پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرکے ملک کو کیا ملا ؟

Updated: September 17, 2023, 2:54 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

ایک اندازے کے مطابق حکومت نے تقریباً ۴؍ ہزار کروڑ روپے ۲؍ دن کی چوٹی کانفرنس پر خرچ کرڈالے،ایسے میں اس سوال کا اٹھنا لازمی ہے کہ آسمان چھوتی مہنگائی اور ریکارڈ توڑ بے روزگاری جھیل رہا ملک کیا اتنے بڑے خرچ کا متحمل ہو سکتا ہے؟

Regarding the G20, the Modi government is patting itself on the back, but even today it is not able to tell how it benefited the country. Photo: INN
جی ۲۰؍ کے حوالے سے مودی حکومت خود ہی اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے لیکن اس سے ملک کا کیا فائدہ ہوا، آج بھی وہ بتا نہیں پارہی ہے۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کی جی ۔۲۰؍ کی صدارت دہلی میں ہونے والے سربراہان کے اجلاس کے ساتھ مکمل ہو گئی ۔ اب پوری دنیا کی نظریں برازیل پر مرکوز ہو گئی ہیں کیوں کہ اس گروپ کی صدارت اب اسے سونپی گئی ہے۔ ہندوستان نے نہایت شاندار طریقے سے جی ۲۰؍ کا دوروزہ اجلاس منعقد کیا۔مہمانوں کے خیر مقدم سے لے کرپروگراموں کے انعقاد، ان کے کھانے پینے اورٹھہرنے کے انتظامات تک حکومت نے سبھی کیلئے اپنی تجوریوں کا منہ کھول دیاتھا اور ’ریڈ کارپیٹ ‘ بچھادیا تھا جس پر چل کر دنیا کی ۲۰؍ بڑی معیشتوں کے سربراہان نے محسوس کیا کہ ہندوستان اب تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ ملک جو کل تک صرف امداد حاصل کرتا تھا ، غریبوں کی بڑی بڑی بستیوں ،معمولی سے انفراسٹرکچر ، خراب سڑکوں اور اس سے زیادہ خراب معاشی حالت کیلئے مشہور تھا ، اب اپنے جمہوری طور پر منتخب حکمراں کی شان و شوکت، شاندار ہوٹلوں ، بہترین انفراسٹرکچر اورچمچماتی سڑکوں کیلئے مشہور ہونے کے ساتھ ساتھ پانچویں سب سے بڑی معیشت بن گیا ہے۔لیکن کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟
 حکومت نے عالمی مہمانوں کو جو کچھ دکھایا اور جو سمجھایا اس پر پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔اس وقت ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی عروج پر ہے۔ ملک کے معاشی حالات ایسے ہیں کہ دنیا بھر کی ریٹنگ ایجنسیاں ہر ۳؍ ماہ میں ملک کی معاشی ریٹنگ میں کوئی نہ کوئی تبدیلی کردیتی ہیں ، اس کے باوجود جی ٹوینٹی جیسے انعقاد کے لئے کئی سو کروڑ روپے خرچ کرنا ہماری سمجھ سے پرے ہے۔ کہا جارہا ہے کہ حکومت نے ہندوستان کی بطور ملک شبیہ چمکانے کے لئے یہ خرچ کیا لیکن ہمیں ملک کی شبیہ سے زیادہ صرف ایک لیڈر کی شبیہ کو چمکانے کی یہ کوشش محسوس ہوئی۔
 ٹی ایم سی لیڈر ساکیت گوکھلے نےاس تعلق سے جو چشم کشا انکشاف کیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت نے اس انعقاد کیلئے ۹۹۰؍ کروڑ کی خطیر رقم مختص کی تھی لیکن ساکیت گوکھلے کے دعوے کے مطابق خرچ اس سے کہیں زیادہ کیا گیا ۔انہوں نے جو اعدا د و شمار پیش کئے ان کے مطابق حکومت نے ۴۱؍سو کروڑ روپے خرچ کرڈالے جو مختص کردہ رقم سے کئی گنا زیادہ ہے۔جب یہ دعویٰ سامنے آیا تو مودی حکومت میں کھلبلی تو مچی لیکن اس نے حسب معمول اسے مسترد کردیا۔ خود جی ٹوینٹی کے شیر پا امیتابھ کانت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اپنا دعویٰ پیش کیا کہ حکومت نے مختص کردہ رقم سے بہت کم خرچ کیا اور وہ بہت جلد تمام اعداد و شمار پیش کریں گے ۔ ہمیں پورا پورا اندازہ ہے کہ سرکار اعداد و شمار کی جادوگری کے ذریعے یہ ثابت کردے گی کہ اس نے بہت بڑی رقم خرچ نہیں کی بلکہ دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہی رقم خرچ کی ہے۔لیکن ہمارا سوال ایک بار پھر وہی ہے کہ کیا بے روزگاری اور مہنگائی سے جوجھ رہے ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر کوئی ایونٹ منعقد کرنے اور اس کے لئےاتنا زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے ؟ 
جی ٹوینٹی کے انعقاد کے ذریعے حکومت نے پورے ملک کو پیغام دینے کی کوشش کی کہ اس کے پاس ایسا عالمی لیڈر ہے جس کی صدر امریکہ سے بھی گاڑھی چھنتی ہےمگر اسی جو بائیڈن نے دہلی سے ویتنام پہنچتے ہی پریس کانفرنس نہ کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے پر شدید تنقید کردی۔ اگر حکومت کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس طرح کےپروگرام منعقد کرکے وہ اپنے آپ کو بہتر دکھاسکے گی تو یہ اس کی غلط فہمی ہے کیوں کہ اس طرح کے پروگرام’ فوٹو سیشن‘ سے زیادہ نہیں ہوتے۔
ملک کی اصل شبیہ اس وقت بنتی ہے جب عالمی ادارے ملک کے بارے میں مثبت رپورٹ دیں۔ لیکن کیا مودی حکومت یہ بات ماننے کو تیار ہو گی؟ کیوں کہ گزشتہ کچھ برسوں میں امریکہ ، یورپ ، انگلینڈ یہاں تک کہ عرب ممالک کی تنظیموں نے بھی ملک کے سماجی حالات کو ہدف بنایا۔ کئی عالمی معاشی تنظیموں نے ملک کی معیشت، اڈانی گروپ کے پُراسرار طریقے سے ترقی کرنے اور معاشی ترقی کی راہ میں ایک مخصوص طبقے کو پیچھے چھوڑ دینے پرکئی واضح انتباہات دئیے ہیں ۔اگر ملک کی سماجی اور معاشی حالت بہتر نہیں ہو گی تو اس کے اثرات ملک کی شبیہ پر بلاشبہ پڑیں گے اور اس وقت یہی ہو رہا ہے لیکن حکومت اس پر دھیان دینے کے بجائے مصنوعی طریقے اپنارہی ہے۔ جی ٹوینٹی پر کروڑ وں خرچ کرکےاس نے اپنی شبیہ تو چمکائی ہے لیکن یہ فائدہ وقتی ہے۔ سرکار کو اگر واقعی طویل مدتی فائدہ چاہئے تو اسے نمائشی اقدامات ترک کرکے ملک کے حالات کو بہتر بنانے، روزگار پیدا کرنے پر دھیان دینے اور مہنگائی کو قابو میں لانے کے اقدامات کرنے ہوں گے ۔اس سے شہریوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا تو وہ خود بخود حکومت کی کامیابی کا اشتہار بن جائیں گے ۔ پھر سرکارکو ایسے نمائشی اقدامات اور اس پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK