آزاد ہندوستان کے نوابوں اورراجاؤں کی نسل کا کیا انجام ہوا

Updated: February 09, 2020, 2:52 PM IST | Prof Syed Iqbal

یورپ کی تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو وہاں بھی ایک عرصے تک بادشاہت اور جاگیرداری کا نظام قائم رہا لیکن ان کے ہاں شہزادوں کی تعلیم وتربیت کا ایسا اہتمام ہوتا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ان کی فوجی تربیت پر بھی دھیان دیا جاتا تھا۔ شہزادوں کی یہ نسل بادشاہت کے خاتمے پربھی عزت وتوقیر سے زندہ رہی اور عوام نے بھی اپنے سابق آقاؤں کو زندہ درگور ہونے سے بچا لیا یہاں عیش وعشرت میں شہزادوں اور نواب زادوں کی زندگیاں تباہ کی گئیں

 آزاد ہندوستان کے نوابوں اورراجاؤں کی نسل کا کیا انجام ہوا
پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن ۔ تصویر : آئی این این

آزادی کے بعد سب سے بڑا مسئلہ ان راجے مہاراجوں اور نوابوں کا تھا جو ملک کی آزادی کے بعد بھی اس غلط فہمی کا شکارتھے کہ ان کی سلطنت جوں کی توں باقی رہے گی۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ایک نئی حکومت وجود میں آچکی ہے جو اپنی حدوں میں کسی دوسری حکومت کا وجود برادشت نہیں کرے گی۔ اور ہوا بھی یہی ۔ وزیر داخلہ سردار پٹیل نے اپنے سیکریٹری کے ذریعہ تمام ریاستوں کو حکمنامہ بھجوادیا جس کی رو سے ان کی ریاست کو اب نئے ملک میں ضم ہونا تھا۔ بعض ریاستوں کو شکایت رہی کہ اتنے بڑے اقدام سے قبل ان کی مرضی نہیں پوچھی گئی اوران پر یکطرفہ فیصلہ لاد دیاگیا مگر عالمی قوانین کی روسے سردار پٹیل کا اقدام بالکل صحیح تھا۔ جب ایک بڑا ملک آزاد ہوتا ہے تو اس کی زمینی ریاستیں اپنے آپ اس میں ضم ہوجاتی ہیں۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہندوستان تو آزاد ریاست کہلائے اوراس کی حدوں میں رہتے ہوئے حیدرآباد اور جونا گڑھ اپنی کرنسی ، اپنا پاسپورٹ، اپنا دستور ، اپنی فوج اوراپنا قومی ترانہ جداگانہ رکھیں۔
  حیدرآباد کو اپنی فوج اور دولت پر ناز تھا، جونا گڑھ اپنی منفرد شناخت کے ساتھ رہنا چاہتی تھی، اس لئے کچھ عرصے تک ان ریاستوں کی طرف سے مرکز کے فیصلے کے نفاذ میں روڑے اٹکائے گئے مگر جب ان ریاستوں  نے مرکز کے تیور دیکھے اور دن بہ دن دباؤ بڑھنا شروع ہوا تو انہیں بھی دیگر ریاستوں کی طرح ہندوستان میں ضم ہوجانے میں عافیت نظرآئی۔ داد دیجئے نہرو حکومت کو کہ اس پُر آشوب دور میں بھی ان ریاستوں کو بے یار و مددگار چھوڑنے کے بجائے ان کے سالانہ اخراجات کیلئے ایک مخصوص رقم طے کردی اوران کے محلات اورجائیدادوں پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ صرف ان سے حکومت کرنے کے اختیارات چھین لئے گئے۔ اب وہ ریاستی زمینوں کے مالک نہیں تھے اورنہ ان لاکھوں غریبوں کے جسم و جان کے مالک تھے جن سے برسوں غلاموں کی طرح برتاؤ کیا گیا تھا البتہ ان حکمرانوں کو اچانک اپنے اقتدار کے کھوجانے کا بڑا دکھ تھا۔ اس عیش وعشرت کی زندگی کے چھن جانے کا بھی دکھ تھا جس کے وہ برسوں سے عادی تھے لیکن سب سے زیادہ دکھ اس بے حساب آمدنی کے کھوجانے کا تھا جس کا حساب خود وہ بھی نہیں جانتے تھے۔( جب مسز اندرا گاندھی کا دور حکومت آیا تو انہوںنے بینکوں کو قومیانے کے ساتھ راجے مہاراجوں کی سالانہ پنشن بھی بند کردی)۔چونکہ ان نوابوں کی اکثریت ناز ونعم میں پلی بڑھی اوراپنے محفوظ محلات میں رہنے کی عادی تھی اسلئے حالات کے بدلتے یہ ان کی شان وشوکت کو بھی گہن لگنے لگا۔ کچھ نے اپنے محلوں کو ہوٹل کے کاروبار کے لئے استعمال کیا اور کچھ نے اپنی عالیشان عمارتوں کو ’ہالی ڈے ریسورٹ ‘ کی صورت دے دی۔ حیدرآباد کا مشہور زمانہ ’فلک نما پیلس ‘آج تاج ہوٹل کی ملکیت ہے اور گوالیار اور راجستھان کے محلات لاکھوں روپوں کے کرایے پر شادیوں کے لئے دیئے جاتے ہیں۔
 آج صرف انہی نوابی گھرانوں کی عزت ہنوز باقی ہے جہاں وارثین نے سوچ سمجھ کر کاروباری فیصلے کئے اوراپنی جائیداروں کو اچھے کرایوں پر اٹھاکراپنے لئے باقاعدہ آمدنی کی سبیل پیدا کرلی۔ وہ گھرانے بھی آج کامیاب ہیں جہاں نوجوان نسل نے لہوولعب سے دور رہ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کی اوراپنی اہلیت کے سہارے باعزت زندگی کا سامان پیدا کئے۔ پھربھی تین سو سے زائد ریاستوں میں ایسے خانوادوں کی اکثریت ہے جو اپنی جہالت، کا ہلی اور بے شعوری کے سبب پنپ نہیں سکے۔ کچھ قرضوں میں ڈوب گئے، کچھ نے اپنی بچی کھچی جائیداد فروخت کرکے دن کاٹے۔ اکثر اپنی ریاستیں چھوڑ کر دور دراز علاقوں میں بس گئے۔ چھوٹی موٹی ملازمتیں کرلیں اور گمنامی کا درد سہ کر رخصت ہوگئے۔ آزاد ہندوستان میں ان نوابوں اور راجاؤں کی نسل کا بالآخر کیا حشر ہوا؟ اس کی تاریخ لکھنا باقی ہے لیکن گمان یہی ہے کہ ان زوال آمادہ گھرانوں کی تاریخ نہایت عبرت ناک ہوگی۔
  دنیا کے بے شمار ملکوں کی تاریخ میں عروج وزوال کی یہ داستانیں عام ہیں اور ہر داستان کا انجام ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ یورپ کی تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو وہاں بھی ایک عرصہ تک بادشاہت اور جاگیرداری کا نظام قائم رہا لیکن ان کے ہاں شہزادوں کی تعلیم وتربیت کا ایسا اہتمام ہوتا تھا کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ان کی فوجی تربیت پر بھی دھیان دیا جاتا تھا۔ شہزادوں کی یہ نسل بادشاہت کے خاتمے پربھی عزت وتوقیر سے زندہ رہی اور عوام نے بھی اپنے سابق آقاؤں کو زندہ درگور ہونے سے بچالیا۔ ان کے علاوہ باقاعدہ قوانین بناکر اتنی آمدنی مخصوص کردی کہ وہ سکون سے جی سکیں۔ برطانیہ کی ملکہ ٔ ایلزبیتھ ۹۰؍ سال کی ہوچکیں مگر برطانوی دستور کے مطابق وہ آج بھی برطانیہ عظمیٰ کی حکمراں کہلاتی ہیں۔ ان کا اپنا محل ہے ، ذاتی اسٹاف ہے اور اخراجات کیلئے عوامی حکومت کی جانب سے اچھا خاصا وظیفہ ہے۔ عجب نہیں جو سرمایہ داری کے زوال کے بعد کارل مارکس اپنی قبر میں اس نئی صورت حال پر بے حد ناراض ہوتا ہو کیوں کہ اس نے عوام کی حکومت کو صرف عوام کے ہاتھوں میں دیکھنا چاہا تھا۔ اس کے دستور میں خونیں انقلاب تو تھا مگر سابق نوابوں کی برائے نام حکمرانی نہیں تھی۔ دراصل یورپ میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد بھی سابق حکمرانوں نے حکومت کی باگ ڈور پر بڑی عیاری سے اپنی گرفت بنائے رکھی۔ عوام کو جمہوری حکومت قائم کرنے کی اجازت تو دے دی مگر کسی سودے میں اپنے لئے ایک آرام دہ مستقبل کی ضمانت بھی حاصل کرلی۔ جمہوری قیادت نے بھی اس سودے کو اس لئے ہنسی خوشی قبول کرلیا کہ انہیں بھی ایسی شخصیات کی ضرورت تھی جو اُن کے لئے ’مائی باپ‘ کا درجہ رکھتے ہوں اور جن کی افسانوی زندگی پرانی نسل کو مسحور کئے رکھے۔ لیڈی ڈائنا کویادکیجئے جن کی آزاد روی کا ہر نوجوان دلدادہ تھا اورجن کی موت پر سارا برطانیہ سوگوار ہوگیا تھا اورآج بھی نیدر لینڈ س کا شاہی جوڑا قومی تہوار پر اپنی بگھی میں سڑکوں پر نکلتا ہے تو سارا شہراُن پر پھول برساتا ہے۔ اس محبت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ولیم الیگزنڈر نے ۲۱؍ سال تک اپنی قومی ایئرلائنز کے ہوائی جہاز اُڑائے تھے اوران کی بیگم میکسیما اقوام متحدہ میں برسوں کام کرتی رہی تھیں۔ سویڈن کی شاہزادی نے جب امریکی ماہر اقتصادیات کرسٹوفر سے شادی کی تو میاں نے اپنے نام کے ساتھ شاہی القابات جوڑنے سے انکارکردیا ۔ ہاں وہ کبھی کبھار شہزادی کے ساتھ شاہی تقریبات میں شریک ہوجاتے ہیں۔ اسپین کی شہزادی کرسٹیانا آج بھی ایک بینک میں کام کرتی ہیں اور آغا خان ٹرسٹ کی ذمہ دار ٹرسٹی ہیں۔ ناروے کی شہزادی مارتھانے ایک ادیب سے شادی کرکے اپنے شاہی القابات لوٹا دیئے ہیں۔ برطانیہ کی ملکہ کے چھوٹے بیٹے پرنس ایڈروڈ چند سال قبل تک ایک ٹیلی ویژن کمپنی چلاتے تھے اوران کی بیگم ایک پبلک ریلشنز فرم کی مالک تھیں۔
  حال ہی میں برطانوی شہزادے ہیری اوران کی بیگم میگھن نے کھل کر بیان دیا ہے کہ وہ شاہی اعزازات اوراس سے جڑی ہوئی سہولتوں کو دل سے پسند نہیں کرتے۔ انہیں اپنی آزادی عزیز ہے اور وہ محنت کی کمائی پر جینا چاہتے ہیں اوراس مقصد کیلئے انہوںنے شاہی محل میں رہنے کے بجائے کینڈا میں اپنے قیام کیلئے ایک رہائش بھی منتخب کرلی ہے۔ چونکہ میگھن مارکل شادی سے قبل ہالی ووڈ کی فلم انڈسٹری سے وابستہ تھیں، اس لئے انہوںنے بھی اپنے لئے کام ڈھونڈلئے ہیں۔ مارکیٹنگ کی دنیا میں عام چیزوں کو ’برانڈ ‘ بناکر فروخت کرنے والی ایک کمپنی نے ان دونوں سے رابطہ قائم کرکے انہیں ’برانڈ ‘ بنانے کا منصوبہ پیش کردیا ہے۔ ڈزنی لینڈ ایسی شہرۂ آفاق کمپنی بھی ان کے اشتراک سے کچھ ’نیا‘کرنے کو بیقرار ہے۔ غرض نئے زمانے کی سرمایہ داری ایک نئے لباس میں یوں جلوہ گر ہوگی، یہ بیچارے کارل مارکس کے تصور میں بھی نہیں آیا ہوگا۔ پرنس ہیری نے شاہانہ ٹھاٹ باٹ کو اچانک ترک کردینے کا کیوں سوچا؟ اس کے متعلق کوئی کچھ نہیں جانتا۔ ویسے پرنس ہیری نے جب یہ فیصلہ اپنی دادی کو سنایا تو صرف وہ ہی نہیں بلکہ سارا خاندان ان سے ناراض ہوگیا۔ خاندان کے افراد نے باہم مشورہ کرکے ایک Crisisمیٹنگ بلائی تاکہ نوجوان شاہزادے کو ایسی حماقت کرنے سے باز رکھا جاسکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس مجلس سے میگھن مارکل غیرحاضر تھیں۔ سب کو یہی لگاکہ ضرور اس عورت نے اپنے شوہر کے کان بھرے ہوں گے۔ اچھا ہوتا جو اس سیاہ فام امریکی اداکارہ کی برطانوی شہزادے سے ملاقات نہ ہوتی اور ہمارا شہزادہ آرام دہ زندگی چھوڑ کر یوں ہم سے جدا نہ ہوتا.... مگر پرنس ہیری اس تاریخی میٹنگ میں اپنی بات پر اڑے رہے اور سب پر واضح کر دیا کہ وہ اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گے۔ شاہی گھرانے کے افراد نے دبے لفظوں میں انہیں دھمکی بھی دی کہ ان حالات میں شاہی خاندان سے الگ ہونے پر انہیں صرف بیس تیس ملین پاؤنڈ ہی ملیں گے جو ایک نئی زندگی شروع کرنے کیلئے یقیناً ناکافی ہوں گے۔ اس پر بھی پرنس ہیری کچھ نہیں بولے۔ انہیں خود پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ شاہی گھرانے سے الگ ہوکر بھی اتنا کما لیں گے کہ انہیں کسی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایک اندازے کے مطابق پرنس ہیری اور ان کی بیگم شاہی خاندان سے الگ ہوکر بھی پہلے سال میں کم از کم پانچ سوملین پاؤنڈ کمالیں گے  جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب سیلیبریٹی بن کر نہیں بلکہ عوامی خدمتگار بن کر جینا چاہتے ہیں۔ کاش ہمارے نواب زادوں کو بھی جینے کا سلیقہ آگیا ہوتا یا کچھ اچھے مشیر انہیں بھی مل گئے ہوتے تو گمنامی اور دربدر کا عذاب سہنے سے وہ محفوظ رہتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK