ہنی ٹریپ کیا ہے؟

Updated: March 22, 2020, 2:11 PM IST | Prof Syed Iqbal

اگرآپ اقتدار کے نشے میں چور ہوس ناکی کا شکارہیں تو جلدیا بدیر آپ کا زوال یقینی ہے۔ ہوس پرستی نے تو رشی منیوں کی تپسیائیں بھی بھنگ کی ہیں اور اچھے خاصے پختہ کردار والوں کو بھی شیطان کا مرید بنایا ہے، کیونکہ حسن کا مایاجال اتنا دلفریب اور توبہ شکن ہوتا ہے کہ آدمی سب کچھ بھول کر اس کا اسیر ہوجاتا ہے

Women Spy - Pic : Mid-Day
خاتون جاسوس ۔ تصویر : مڈ ڈے

 آدھی رات کا وقت ہے اندور کی سڑکوں پر سناٹا ہے۔ کبھی کبھار کوئی ٹرک شور کرتا ہوا گزرجاتا ہے۔ ورنہ چاروں طرف خاموشی ہے۔ اسی  ٹرک کے کنارے بڑے دیر سے ایک کار کھڑی ہے۔ پتہ نہیں کارمیں بیٹھی دو خواتین کو کس کا انتظار ہے؟ اچانک  دھیمی رفتار سے آنے والی ایک بڑی سی کار ٹھیک پہلی کار کے عقب میں آکر رکتی ہے۔ چارمرد کار سے باہرآتے ہیں۔ پہلی کارمیں بیٹھی ہوئی خواتین مردوں کو دیکھ کر سراسمیگی کے عالم میں کار کا دروازہ کھول کر تیزی سے بھاگنے لگتی ہیں لیکن مردوں کی رفتار کا مقابلہ نہیں کرپاتیں۔ انہیں پکڑ لیاجاتا ہے اور ہتھکڑیاں پہنا کر بڑی کار میں بٹھادیاجاتا ہے۔ ان خواتین پر الزام ہے کہ انہوںنے کئی سیاستدانوں اور سرکاری افسروں کو بلیک میل کرکے ان سے کروڑوں روپے ہتھیائے ہیں۔ تین اوردوست ان کے اس ’کارخیر‘ میں ملوث ہیں۔ ان خواتین نے اپنی کمپنی قائم کررکھی ہے جہاں سے اپنے حُسن کی کمائی کو وہ چالاکی سے انویسٹ کرتی ہیں۔ ان کی شریک کار دیگر خواتین صرف کنٹریکٹ پر اُن کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ اس گروپ میں ایک لڑکی کا تعلق نہایت غریب گھرانے سے ہے۔ مگر پیسوں کے لئے اس نے یہ کام کرنا منظور کرلیا ہے۔  وزیراعلیٰ کمل ناتھ کی حکومت حیران ہے کہ ان پانچ عورتوں نے کتنے اہم افراد کواپنے حسن کے جال میں پھانسا، ان سے پیسے لوٹے اوراپنی کمپنی کے لئے کنٹریکٹ حاصل کئے۔ اپنے شکار کو پھانسنے کے لئے انہوںنے جو ویڈیو بنائے تھے ، پولیس کا عملہ انہیں دیکھتے ہوئے بھی شرماتا ہے۔ کیا یہ عورتیں مرد کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے گر جانتی تھیں؟ کیا مرد ہمیشہ حسن کے جال میں اسی طرح پھنستا رہے گا؟ کیا محبت اور جنگ میں واقعی سب کچھ جائز ہے؟
 جی ہاں! جنگ میں فتح حاصل کرنےکیلئے حکومتیں عورتوں کے استعمال کو جائز سمجھتی ہیں۔ ان کیلئے دشمن ملک کے اہم کارندوں سے دفاعی راز اگلوانے کیلئے عورت سے بہتر ہتھیار ہوہی نہیں سکتا۔ یہ ہر دورمیں ہوا ہے اور مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔ انگریزی میں اسے Honey Trap کہتے ہیں جس کا مطلب ہے، کسی مرد کواپنی خوبصورتی کے جال میں پھنساکر اس سے اپنی مرضی کے کام کروانا۔ ایسا شاذ ہی ہوتا ہے کہ کوئی اتنے مضبوط اعصاب کا مالک ہو جو حسن کے دام میں نہ پھنسے یا اپنے فرائض کے تئیں اتنا ذمہ دار ہو کہ اس سے کسی طرح  کی لغزش نہ ہو یا اتنا نیک ہو کہ ہر طرح کی ترغیبات سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔ ان بازی گر عورتوں کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ پہلے دوستی کرتی ہیں، باہمی اعتماد کی فضا قائم کرتی ہیں، پھر تعلقات بڑھا کرمناسب موقع پر ایسا وار کرتی ہیں کہ شکار آواز تک نہیں نکال پاتا۔ غرض جو دوستی خوش گپیوں سے شروع ہوئی تھی، وہ مختلف مراحل طے کرکے خوابگاہ تک پہنچ جاتی ہے۔ نتیجتاً کبھی بلیک میل کا سبب  بنتی ہے اورکبھی دشمن ملک کے دفاعی راز کو یہاں سے وہاں منتقل کرنے کے کام آتی ہے۔ حالانکہ حساس مناصب پر کام کرنے والے افسران کو پہلے ہی آگاہ کردیا جاتا ہے کہ نئی جگہ پر نئے لوگوں سے ملنے جلنے میں احتیاط برتئے گا مگر وہ اکثر دھوکا کھاجاتے ہیں اور یہ سوچ کر کہ نئے مقام پر اگر تھوڑی بہت عیاشی کرلی جائے تو کس کو کیا پتہ چلے گا، ایک کے بعد ایک حماقت کرنے لگتے ہیں۔ جب ہوٹلوں میں شامیں گزارنے، پارٹیوں میں شرکت کرنے اور دعوتیں  اڑانے کا انجام سامنے آتا ہے تو لگتا ہے کوئی سائے کی طرح ان کے پیچھے لگا ہوا تھا اور انہوںنے  اپنی کوتاہی اور غیر ذمہ داری سے اپنے کریئر کو ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔ 
 ۸۰ء کی دہائی میں RAW کے ایک افسر جو’ایل ٹی ٹی ای‘کے معاملات دیکھتے تھے، ایک امریکی ایئر ہوسٹس کی زلفِ گرہ گیر کے ایسے اسیر ہوئے کہ ان کے فرشتوں کو بھی پتہ نہ چلا کہ محترمہ ’سی آئی اے‘کی ایجنٹ ہیں اور انہیں استعمال کررہی ہیں۔ جب تک انہیں خبر ہوتی، وہ جیل کی کوٹھری تک پہنچ چکے تھے۔ ۲۰۰۶ء میں ایک امریکی خاتون ہمارے دوافسروں ( پال اور داس گیتا) سے ملیں،  ان سے پینگیں بڑھائیں ، پھر ان افسروں کے لیپ ٹاپ ایسے غائب ہوئے کہ آج تک نہیں ملے۔ جبکہ قانوناً حساس اطلاعات آفس سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ بہرحال دونوں حضرات جیل کی ہوا کھارہے ہیں۔ ایسے واقعات کی کمی نہیں ۔ ۲۰۰۹ء میں سکھ جندر سنگھ نامی افسر کو ایئر کرافٹ کے سودے کے لئے ماسکو بھیجا گیا مگرآپ سودے کو بھلاکر ایک روسی خاتون کے ساتھ رنگ رلیاں  مناتے ہوئے پائے گئے۔ راجستھان کے ایک فوجی افسر بنگلہ دیشی خاتون کے ساتھ ’فیس بک‘ پر دوستی کرتے نظرآئے ۔ تفتیش پر پتہ چلا کہ محترمہ ان سے ملنے کئی بار راجستھان کا بارڈر کراس کرکے ہندوستان آچکی ہیں۔ ایک ایسی ہی حسینہ ڈھاکہ کے تربیتی  کالج میں ایک ہندوستانی افسر کو پھنسا چکی تھیں۔ خوش قسمتی سے نوجوان افسر کو اس کے ضمیر کی آواز نے بچالیا۔ اس نے  فوراً اپنے باس کو خبر کی اور افسر کو ہندوستان واپس بلالیا گیا۔ اسرائیل کا  ایک نیوکلیئر سائنسداں  لندن کے ایک اخبار کے دفتر پہنچا اوراپنے ملک کے دفاعی پروگرام کو فروخت کرنے کی کوشش کی۔ اخبار والے اس کی بات سمجھ نہیں پائے.....لیکن اس وقت تک ’موساد‘ کو اپنے سائنسداں کی مذموم حرکت کی خبر لگ چکی تھی۔ لندن میں اپنے افسر کی گرفتاری موساد کے لئے پریشا نی کا باعث تھی، اس لئے ایک خاتون ایجنٹ کو لندن روانہ کیا گیا ، جس نے اس سائنسداں پر ڈورے ڈالے ، اسے  روم میں چھٹیاں گزارنے پر آمادہ کیا اور موصوف جوں ہی روم کی زمین پر اُترے کہ انہیں گرفتار کرلیاگیا۔
  جنگوں کے دوران ایسے واقعات اکثر دیکھنے میں آئے مثلاً دوسری جنگ عظیم کے بعد جب مشرقی جرمنی کی سیکرٹ سروس کو مغربی جرمنی کی اہم سرکاری معلومات کی ضرورت محسوس ہوتی تو انہوںنے اپنی حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے محسوس کیا کہ جنگ کے بعد مغربی جرمنی کی تنہا عورتیں کثیر تعداد میں کام کرنے لگی ہیں۔ مشرقی جرمنی کے افسروں نے ایک ’رومیونیٹ ورک‘ قائم کیا جس کے تحت خوبردار وجیہ نوجوان مغربی جرمنی کے اہم سرکاری اداروں کے باہر گھومتے پھرتے، ان اداروں میں کام کرنے والی  عورتوں سے دوستی گانٹھتے اور پھر ان سے سرکاری راز حاصل کرکے اپنے ملک پہنچا دیتے۔ مغربی جرمنی کی سیکرٹ روس کو جب اس نیٹ ورک کی خبر لگی توانہوںنے اپنے اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو خبردار کیا کہ عشق وعاشقی کا یہ کھیل ایک منصوبے کے تحت ہورہا ہے۔ اس لئے ایسے مردوں سے دور رہیں۔ Betty Packنامی خاتون کو اتحادیوں کے ایک کمانڈر نے دوسری جنگ عظیم کی ایک غیر معمولی اور گمنام ہیرو کا لقب دیا تھا کیونکہ اس خاتون نے بیک وقت فرانسیسی اور اطالوی افواج سے سیکرٹ کوڈ چرا کرامریکیوں تک پہنچائے تھے۔  ڈچ جاسوس ’ماتا ہاری ‘ کے نام سے تو ہر شخص واقف ہے جس نے پہلی جنگ عظیم  میں جرمنی کیلئے جاسوسی کی تھی۔ اسی کی  پرکشش شخصیت کا یہ عالم تھا کہ فرانس کا ہر اہم جنرل اس پر جان چھڑکتا تھا۔ جب اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تواس نے اپنے ایک (ملٹری اتاشی) دوست  کا ذکر کیا جس کی مہربانیوں سے وہ فرانس میں مقیم تھی۔ چونکہ اس کا جھوٹ پکڑا جاچکا تھا اسلئے اسے فلائنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا مگر ماتا ہری اتنی بہادر تھی کہ آخری لمحوں میں بھی اس نے اپنی  آنکھوں پر پٹی نہیں باندھی۔
  کہانیاں تو بہت ہیں مگر ایک دلچسپ کہانی اور پڑھ لیجئے۔ ساٹھ کی دہائی میں اسٹیفن وارڈ نامی ایک روسی سفیر لندن میں تعینات تھا جس کی پارٹیوں کا بڑا شہرہ تھا۔ کرسٹین کیلر نامی ایک نہایت خوبصورت  اور ذہین حسینہ سے موصوف عشق بھی فرمارہے تھے جبکہ یہی محترمہ ایک برطانوی رکن پارلیمنٹ جان پروفیو مو کی داشتہ کا کردار بھی نبھارہی تھیں۔ جب یہ اسکینڈل بے نقاب ہوا تو جان پروفیومو تو مستعفی ہوگئے اور روسی سفیر روس لوٹ گئے مگر کرسٹین کیلر عرصے تک سرخیوں میں زندہ رہیں۔ راقم کی گنہ گار آنکھوں نے وہ تصویر بھی دیکھی ہے جس میں محترمہ مملکت خداداد کے  صدر جنرل ایوب خان کے ساتھ تیراکی کرتے ہوئے لطف اندوز ہورہی تھیں۔
  حال ہی میں کچھ مشہور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پچاس منیجرز اپنے ’معشوقوں‘ کے شکارملے ۔ انہوںنے Gay Dating App کے توسط سے اپنے لئے معشوق تلاش کئے تھے۔ پھر ان ظالموں نے ان منیجرس کو اتنا بلیک میل کیا کہ تنگ  آکر انہیں پولیس کو خبر کرنی پڑی۔ قصہ مختصر، جنسی بے راہ روی کسی کو نہیں بخشتی۔ اگرآپ اقتدار کے نشے میں چور ہوس ناکی کا شکارہیں تو جلدیا بدیر آپ کا زوال یقینی ہے۔ ہوس پرستی نے تو رشی منیوں کی تپسیائیں بھی بھنگ کی  ہیں اور اچھے خاصے پختہ کردار والوں کو بھی شیطان کا مرید بنایا ہے، کیونکہ حسن کا مایاجال اتنا دلفریب اور توبہ شکن ہوتا ہے کہ آدمی سب کچھ بھول کر اس کا اسیر ہوجاتا ہے۔ ۲۰۰۹ء میں برطانوی سیکرٹ سروس نے حساس اداروں میں ایک سرکلر تقسیم کیا تھا جس میں مذکورتھا کہ چینی حسیناؤں کی عیاری سے خبردار رہیں ، آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور وہ آپ کو دیوانہ بنادیں گی۔ آج بھی ان حسیناؤں کا جادو اپنی ساری حشر سامانیوں کے ساتھ جاری ہے ۔ کیا یہ دشمن ملک کو شکست دینے کا حربہ ہے یا کوئی اپنی بربادی کا بدلہ لینے تلا ہوا ہے ؟ کہیں یہ ڈراما مالی منفعت کیلئے تو نہیں کھیلا جاتا؟ کیا ان معاملات میں محبت کا سچا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ہے؟ بات جو بھی ہو، یہ طے ہے، کہ صدیوں سے شہد کی یہ مکھیاں بڑے پیار سے شہد کے میٹھے گلونٹ اپنے شکار کے حلق میں انڈیل رہی ہیں اوران کے شکار شہد چکھتے ہی ایسے  مدہوش ہوجاتے ہیں کہ انہیں دنیا ومافیہا کی خبر نہیں رہتی۔ یاد رہتا ہے تو صرف ان مکھیوں کا تعاقب اوران کی اطاعت۔ اس دیوانگی میں کس کا کتنا نقصان ہوتا ہے اس سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK