• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کیا ہے اور کیوں قابل اعتراض ہے الیکٹورل بانڈ؟

Updated: November 05, 2023, 1:26 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

اعتراض کس نے کیا؟ ریزرو بینک آف انڈیا اور الیکشن کمیشن آف انڈیا جیسے اداروں نے، اس کے باوجود کچھ نہیں ہو، اسی لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔تصویر:آئی این این

سپریم کورٹ نے الیکٹورل بانڈس کے معاملے میں  سماعت مکمل کرلی ہے اور اُمید کی جاتی ہے کہ وہ جلد ہی فیصلہ بھی سنا دے گا۔ اُمید اس لئے ظاہر کی گئی ہے کہ چھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ۲۰۱۷ء کے بجٹ میں  اس اسکیم کو متعارف کرایا گیا تھا۔
 بہت سے قارئین اس کے پس منظر سے واقف نہیں  ہوں  گے اور یہ نہ جانتے ہونگے کہ بانڈس کیا ہیں ۔ مَیں  اپنی سی کوشش کرونگا تاکہ قارئین کو اس کی جزئیات سے واقف کراسکوں ۔ بہت اختصار کے ساتھ کہنا ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ ان کے ذریعہ سیاسی جماعتوں  کو یہ اجازت مل گئی کہ وہ کتنی ہی بڑی رقم کیوں  نہ ہو، پارٹی فنڈ میں  بطور عطیہ قبول کرسکتی ہیں ۔ اس اسکیم کے تحت غیر ملکی حکومتوں ، مجرمانہ سرگرمیوں  میں  ملوث گروہوں  اور کارپوریٹ گھرانوں  کو موقع مل گیا کہ وہ سیاسی جماعتوں  پر اثرانداز ہوسکیں کیونکہ سیاسی جماعتیں  یہ بتائے بغیر رقومات قبول کرسکتی ہیں  کہ اُنہیں  کس نے کیا دیا ہے۔ اس طرح سیاسی جماعتوں  کیلئے بغیر شناخت ظاہر کئے عطیات دینا آسان ہوگیا۔ جن بانڈس کے ذریعہ یہ ممکن ہوا اُن کی زیادہ سے زیادہ مالیت ایک کروڑ روپے ہے۔ انہیں  ملک میں  اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی ۲۹؍ شاخوں  سے خریدا جاسکتا ہے۔ عطیہ دہندہ اپنے اکاؤنٹ سے رقم دے کر بانڈ خرید سکتا ہے جسے وہ اُس پارٹی کو یا اس سے وابستہ کسی فرد کو دے دیتا ہے جسے دینا چاہتا ہے۔ پارٹی یا فرد بانڈ ملنے پر اُسے بینک سے بھنا سکتا ہے۔ بانڈکی مدت پندرہ دن کی ہوتی ہے یعنی پندرہ دن میں  اُنہیں  بھنا ہی لینا ہے۔ 
 غور طلب ہے کہ اس اسکیم کو حیرت انگیز طریقے سے جاری کیا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ۲۰۱۷ء کے بجٹ سے چار دن پہلے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے اس اسکیم کا تذکرہ اُس وقت کے وزیر مالیات ارون جیٹلی کی تقریر میں  سنا اور محسوس کیا کہ اگر اس اسکیم کو نافذ کرنا ہے تو اس کیلئے ریزرو بینک آف انڈیا کی اجازت درکار ہوگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بانڈ  جاری کرنے کیلئے آر بی آئی ایکٹ میں  ترمیم لازمی تھی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اس کی خبر نہیں  تھی۔ اُس افسر نے ایک ترمیم کا خاکہ بنایا جس کا مقصد یہ تھا کہ آر بی آئی ایکٹ میں  اس کیلئے گنجائش پیدا کی جاسکے۔ اُس اعلیٰ افسر نے مجوزہ ترمیم کو آگے بڑھا دیا تاکہ وزیر مالیات (ارون جیٹلی) تک پہنچ جائے۔ دوسرے ہی دن یعنی ۲۸؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو آر بی آئی کو ایک ای میل کروانہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اس پر آر بی آئی کا کیا رائے ہے۔ آر بی آئی نے اس میل کا جواب پیر، ۳۰؍ جنوری (۲۰۱۷ء) کو دے دیا اور مجوزہ ترمیم سے یہ کہتے ہوئے اختلاف کیا کہ اس سے آر بی آئی کے اختیارات پر ضرب لگتی ہے جو ’’بیئرر انسٹرومنٹس‘‘ جاری کرنے والا واحد ادارہ ہے۔ بیئرر انسٹرومنٹ کا معنی ہے ایسی دستاویز  جس کے پیش کئے جانے پر اُتنی رقم ملے جتنی کہ دستاویز میں  درج کی گئی ہے۔ چیک، کرنسی نوٹ وغیرہ بھی بیئرر انسٹرومنٹ ہیں ۔آر بی آئی کا کہنا تھا کہ اگر ایسے بانڈس کی اجازت دی گئی تو اس بات کا شبہ ہے کہ مستقبل میں  ان کی حیثیت کرنسی نوٹ جیسی ہوجائے گی اور نقدی میں  ہندوستانی عوام کا اعتماد متزلزل ہوجائیگا۔ اس نکتے پر آر بی آئی کا مطمح نظر بالکل واضح تھا۔ وہ یہ کہ بانڈس جاری کرنے کی اجازت دینے سے سینٹرل بینک (آر بی آئی) کے ایک بنیادی اُصول کی خلاف ورزی ہوگی نیز اس سے غلط مثال قائم ہوگی۔
 آر بی آئی کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر بانڈس جاری کرنے کا مقصد معاشی لین دین میں  شفافیت پیدا کرنا ہے تو اس مقصد کا حاصل کرنا بھی مشکل ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں  کہ جو بانڈ خرید رہا ہے وہی اصل خریدار یا عطیہ ہندہ ہو۔ مثال کے طور پر اس کے ذریعہ یہ ممکن ہوگا کہ کوئی شخص بانڈ خریدے اور کسی دوسرے کو جتنی رقم کا بانڈ  ہے اُتنی ہی یا اُس سے زیادہ رقم کے عوض بیچ دے۔ اب یہ بانڈ جس  شخص کی تحویل میں  ہے وہ پارٹی کو عطیہ دے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی (بانڈ کی) حیثیت نقدی کی ہوگئی۔ اس نکتے پر بھی آر بی آئی کا مطمح نظر بالکل صاف اور واضح تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بانڈ کی حیثیت بیئرر انسٹرومنٹ کی ہے جسے خریدا اور بیچا جاسکتا ہے چنانچہ یہ ایک شخص سے دوسرے شخص کی تحویل میں  جاسکتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی ظاہر نہ ہوگا کہ سیاسی جماعت کو عطیہ دینے والا کون ہے۔ 
 آر بی آئی کا تیسرا اور آخری نکتہ یہ تھا کہ الیکٹورل بانڈ کے ذریعہ (گمنام طریقے سے) عطیہ دینے کے بجائے سیاسی جماعتوں  کو بینک ٹرانسفر، ڈیمانڈ ڈرافٹ یا چیک کے ذریعہ بھی رقم دی جاسکتی ہے۔ بقول آر بی آئی جب ڈرافٹ، ٹرانسفر اور چیک کی سہولت موجود ہے تو الیکٹورل بانڈ کی کیا ضرورت ہے وہ بھی ایسی حالت میں  جبکہ اس کیلئے آر بی آئی ایکٹ کو بدلنا پڑے۔ 
 بیوروکریسی کے جس شخص (اعلیٰ افسر) کے ذریعہ تجویز بھیجی گئی اور وزارت مالیات تک پہنچائی گئی وہ ہنس مکھ ادھیا تھے جو گجرات کے آئی اے ایس افسر ہیں  اور جنہوں  نے یوگا میں  پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اُنہوں  نے آر بی آئی کے اعتراضات کو دو بنیادوں  پر مسترد کردیا۔ اُن کی بیان کردہ پہلی بنیاد کا مفہوم یہ تھا کہ ایسا لگتا ہے  آر بی آئی نے الیکٹورل بانڈ کے مقصد کو سمجھا ہی نہیں ، عطیہ دہندہ جس رقم کے عوض بانڈ خریدے گا وہ غیر محسوب نہیں  بلکہ اپنی محسوب آمدنی میں  سے پیسہ دے گا اور اس کا نام بھی پردۂ خفا میں  رہے گا۔ ظاہر ہے کہ یہ آر بی آئی کے بالکل واضح اعتراض کا جواب نہیں  تھا۔
  دوسری بنیاد اُنہوں  نے یہ بتائی کہ آر بی آئی کا جواب اتنی تاخیر سے آیا کہ اب تو مالیاتی بل طبع بھی ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی آر بی آئی کی غلطی نہیں  ہے جس نے محض چند گھنٹوں  میں  جواب دے دیا تھا۔ یہا ں اصل سوال تو یہ تھا کہ آر بی آئی کی اجازت اتنی تاخیر سے کیوں  طلب کی گئی؟ یہ کہتے ہوئے ادھیا نے اعلان کردیا کہ تجویز کو حتمی شکل دے دی جائیگی (آر بی آئی کے اعتراضات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے)۔ اسی دن ادھیا کے ایک رفیق کار تپن رے نے اُن سے اختلاف کیا اس کے باوجود بدھ، یکم فروری کو ارون جیٹلی نے اس کا اعلان کردیا جو بجٹ کی منظوری کے ساتھ قانون بن گیا۔
 ہفنگٹن پوسٹ کے صحافی نتن سیٹھی کی جانب سے یہ دریافت کئے جانے پر کہ حکومت نے آر بی آئی کے اعتراضات کو مسترد کیوں  کردیا، وزارت مالیات نے کہا کہ اس نے اچھے جذبہ کے ساتھ فیصلہ کیا ہے جو وسیع تر عوامی مفاد میں  ہے۔
 آر بی آئی کے بعد جس دوسرے ادارے نے اس پر اعتراض کیا وہ الیکشن کمیشن تھا۔ اس نے الیکٹورل بانڈ کے سنگین نتائج کی نشاندہی کی تھی مگر کچھ نہیں  ہوا۔ تب سے اب تک کے چھ سال میں  سیاسی جماعتوں  کو عطیات گمنام لوگوں  سے مل رہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK