مہاراشٹر سرکار کے محکمہ سیاحت نے ابھی تک۲۰۲۵ء کا ضلع وارڈیٹا جاری نہیں کیا ہے، لیکن مہاراشٹر کا کل ڈیٹا آچکا ہے جس سے کوکن میں ٹورزم میں تیز رفتار ترقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: November 03, 2026, 4:31 PM IST | Salim Alware | Mumbai
مہاراشٹر سرکار کے محکمہ سیاحت نے ابھی تک۲۰۲۵ء کا ضلع وارڈیٹا جاری نہیں کیا ہے، لیکن مہاراشٹر کا کل ڈیٹا آچکا ہے جس سے کوکن میں ٹورزم میں تیز رفتار ترقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
مہاراشٹر سرکار کے محکمہ سیاحت نے ابھی تک۲۰۲۵ء کا ضلع وارڈیٹا جاری نہیں کیا ہے، لیکن مہاراشٹر کا کل ڈیٹا آچکا ہے جس سے کوکن میں ٹورزم میں تیز رفتار ترقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مہاراشٹر سرکار کے محکمہ سیاحت کے ڈیٹا کے مطابق۲۰۲۵ء میں مہاراشٹر میں تقریباً۱۶؍ کروڑ سیاحوں نے ریاست کے مختلف معروف و غیر معروف سیاحتی مقامات کی سیر کی اور آئندہ برسوں میں اس میں سالانہ۱۰؍ تا ۱۵؍ کے اضافے کا امکان ہے۔
گو کہ ممبئی اور مضافات ممبئی یہ دونوں اضلاع بھی کوکن کا ہی اٹوٹ حصہ ہیں، لیکن موجودہ صورت حال میں ہم کوکن میں سیاحت کی بات کریں تو تھانہ، رائے گڑھ، رتناگیری، سندھودرگ اور پال گھر مہاراشٹر کے کل سیاحوں میں ۱۲؍ فیصد حصہ ان اضلاع کےکھاتے میں جڑتا ہے۔اس حساب سے اندازہ ہے کہ۲۰۲۵ء میں کوکن کے پانچوں اضلاع میں تقریباً ایک کروڑ ۶۰؍ لاکھ سے ایک کروڑ ۹۰؍ لاکھ سیاحوں نے سیر کی۔اس میں سب سے زیادہ حصہ رائے گڑھ (علی باغ، مروڈ جنجیرہ) تقریباً۶۵؍ سے۷۰؍ لاکھ، سندھو درگ تارکرلی اور مالوان تقریباً۴۰؍ سے۴۵؍ لاکھ ،رتناگیری (گنپتی پلے، داپولی) تقریباً۳۰؍ سے۳۵؍ لاکھ اور پال گھر (کیلوے، بورڈی) تقریباً ۲۰؍لاکھ ٹورسٹ نے ریلوے، سرکاری یا پرائیویٹ بسوں یا اپنی گاڑیوں میں کوکن میں سیاحت کا مزہ لوٹا۔ ان سیاحوں کی بڑھتی تعداد کے سبب کوکن میں تجارت اور ملازمتوں کے بھر پور مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ چھوٹے موٹے ہوٹلز کے ساتھ ساتھ تین تا پانچ ستارہ ہوٹلز، ریزورٹس، واٹر اسپورٹس کلب کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اور سبھی مالکان اچھا کاروبار کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے بھی کچھ ہوٹلز اور ریزورٹس ہیں جو اچھا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کے ذائقے دار حلال کھانے اور نماز کا انتظام مسلم سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ ایم ٹی ڈی سی کے مطابق ہوٹلوں اور ریزورٹس میں پورے سیزن میں ۸۰؍ فیصد سے زائد بکنگ رہی یعنی۲۰۲۵ء کوکن کیلئے اب تک کا سب سے کامیاب سال رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کوکن کی مسلم خواتین: علم، تہذیب اور کامیابی کا ایک صدی پر محیط سفر
کوکن کی سیاحت میں مسلمانوں اور خصوصاً کوکن کے مسلمانوں کی حصّے داری کی بات کریں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم اس سیکٹر میں موجود توہیں لیکن ہم نے اتنی سرمایہ کاری نہیں کی جتنا سرمایہ کوکن کے مسلمانوں کے پاس ہے اور ان وسائل کا استعمال بھی نہیں کیا جتنے وسائل ہمارے پاس ہیں اور اُن سرکاری مراعات اور اسکیموں سے بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جتنا اٹھایا جا سکتا تھا۔
کوکن کا ٹورزم سیکٹر اب ایک انڈسٹری بن چکا ہے ہم اب دنیا کے سیاحت کے نقشہ پر موجود ہیں۔رپورٹس کے مطابق کوکن کے لگ بھگ ۲۸؍ مقامات الگ الگ وجوہات کی بنا پرملک بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں ۔ آنے والے ان سیاحوں میں۱۱؍ فیصد حصہ غیر ملکی سیاحوں کا بھی ہےجو گوا کی بھیڑ بھاڑ سے تنگ آکر کیرالا اور کوکن میں ذہنی سکون تلاش کرتے ہیں ۔سیاحت کیلئے ان معروف و مصروف مقامات میں بیشتر ایسے مقامات ہیں جن کے اطراف مسلمانوں کی بڑی بڑی بستیاں آباد ہیں جن کے اپنے بڑے بڑے مکانات ( آدھے سے زیادہ مقفل) ہیں۔ ان گھروں کا ایک یا اس سے زیادہ کمرے حکومت مہاراشٹر کی’اسٹے ہوم اسکیم‘ کے تحت سیاحوں کو کرائے پر دیئے جا سکتے ہیں۔ ان کمروں کو سیاحوں کی ضروریات کے مطابق بنانے کیلئے ریاستی سرکار ۱۰؍ لاکھ روپے تک لون اور سبسڈی دیتی ہے جس کا ہم بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہماری خالی اور کھلی جگہیں جہاں اب کھیتیاں ندارد ہیں ایسے مقامات اور کھلی جگہوں کا استعمال ٹورزم ڈیولپمنٹ کیلئے کیا جا سکتا ہے۔اس کیلئے ہم اپنے لوگوں یا برادران وطن کو سرمایہ کاری کیلئے مدعو کر سکتے ہیں یا انہیں یہ خالی جگہیں۵؍ تا۱۰؍ سال کی مختصر مدتی لیز پر دے سکتے ہیں یا اُن کے ساتھ پارٹنر شپ کی جا سکتی ہے۔
ہماری خواتین کھانا پکانے اور دیگر کوکنی ڈشز بنانے میں مہارت رکھتی ہیں۔ ان کی اس مہارت کو کمرشیل لیول پر لایا جاسکتا ہے نزدیکی دکانداروں، ہوٹلوں اور ریستورانوں سے ان لذیذ کھانوں کی حسب ضرورت سپلائی کیلئے ایگریمنٹ کیا جا سکتا ہے۔
گاؤں، دیہاتوں اور کوکن کے چھوٹے شہروں میں رہائش پزیر نو جوانوں کو اسپورٹس کلب کیلئے ایم ٹی ڈی سی کے ذریعے دی جانے والی ٹریننگ سے استفادہ کرنا چاہئے جس سے انھیں کوکن اور گوا کے ریزورٹس اور اسپورٹس کلبوں میں ۴۰؍ تا ۵۰؍ ہزار روپے ماہانہ کی مستقل ملازمت مل سکتی ہے۔
بیشتر فشنگ بوٹس اور ٹرالرز کوکنی مسلم صاحبان کی ملکیت ہیں اور اُن کے پاس مزید مالی وسائل ہیں۔ انہیں اب فشنگ کے ساتھ ساتھ دوسرے مواقع اور امکانات کے بارے میں بھی بھی قدم بڑھانے ہوں گے۔ اُن میں سے کچھ مالکان کو اپنی پرانی بوٹس اور پسنجر لانچز(۲۰؍ تا ۶۰؍ افراد کی گنجائش والی بو ٹس) کو خوبصورت، دلکش اور آرام دہ بنا کر سمندر کی سیر کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کچھ ساحلوں پر جہاں پانی پر سکون ہے، ہاؤس بوٹ کی گنجائش بھی ہے جس کا آغاز داپولی اور گھاگر کے پرچوری ساحل پر کامیابی کے ساتھ کیا جا چکا ہے۔ غرض یہ کہ ہم اپنے موجودہ وسائل اور مین پاور کو ہی استعمال کرتے ہوئے ہزاروں نوجوانوں اور سیکڑوں خواتین کیلئے آمدنی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ اس کیلئے ایک تحریک کی ضرورت ہے اور اس تحریک کے آغاز کیلئے ہمارے گاؤں دیہاتوں کی جماعتوں کے ذمے داران کو، ممبئی اور خلیج میں مقیم کوکن واسیوں کو ، چھوٹے بڑے سرمایہ کاروں کو اپنی ذمے داری نبھانی ہوگی۔ کوکن کے ٹورزم ڈیولپمنٹ میں اپنی اور اپنوں کی حصّے داری بڑھانے کیلئے فوراً پہل کرنی ہوگی تاکہ کوکن کے مسلمانوں کی معیشت کو ایک اور مضبوط سہارا مل جائے۔