ایسے بیانات کی ضرورت ہی کیا ہے؟

Updated: September 15, 2021, 5:48 PM IST

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ’’ابا ّ جان‘‘ والا بیان، جس کے ذریعہ انہوں نے ملک کے ایک خاص فرقے کو نشانہ بناتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں پر غریبوں کا حق مارنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے

Yogi Adiyanath .Picture:INN
یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ۔تصویر: آئی این این

 اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ’’ابا ّ جان‘‘ والا بیان، جس کے ذریعہ انہوں نے ملک کے ایک خاص فرقے کو نشانہ بناتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں پر غریبوں کا حق مارنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے، یہ سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ جب کہنے کیلئے کچھ نہ ہو یا کچھ ایسا نہ ہو جس پر سب کو قائل کیا جاسکتا ہوتو سب سے آسان کام تنازع کھڑا کردینا ہے تاکہ ہر خاص و عام کی توجہ تنازع پر مرکوز ہوجائے اور کوئی یہ نہ سوچے یا پوچھے کہ دوران ِتقریر جو دعوے کئے گئے وہ کتنے درست ہیں۔ اس کا اتنا ہی فائدہ نہیں ہے۔ ایک خاص فرقہ کو نشانہ بنانے کا سب سے بڑا مقصد ووٹوں کا ارتکاز ہے۔ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ انتخابات قریب ہوں تو اس پر خاص محنت ہوتی ہے اور تنازع جتنا طول پکڑتا ہے پارٹی خود کو اُتنا زیادہ کامیابی کے قریب دیکھنے لگتی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ’’ابا ّ جان‘‘ سے شروعات ہوئی ہو اور پارٹی کے ترکش میں اس قسم کے اور بھی کئی تیر ہوں۔  ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ بھرپور اکثریت اور سیاسی طاقت کے ساتھ اُترپردیش کی سربراہی کرنے والے یوگی آدتیہ ناتھ کو ایسے جملوں اور فقروں کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔ اُن کے اقتدار کو پانچ سال ہونے جارہے ہیں۔ کیا ان پانچ برسوں کی کارکردگی کا کوئی حصہ اس قابل نہیں جسے وہ عوام کے سامنے رکھ سکیں، اُس پر مباحثے کروا سکیں، ماہرین اور مبصرین کو قائل کرسکیں اور اپنے دور اقتدار کو ایس پی،  بی ایس پی اور کانگریس کی حکومتوں سے بہتر قرار دے سکیں؟ ’’ابا ّ جان‘‘ والی بات نکال دی جائے تب بھی سابقہ حکومتوںپر اُن کے الزام کا زور کم نہیں ہوتا، اس کے باوجود انہوں نے اس فقرے کی ضرورت محسوس کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندو مسلم کی سیاست کے حصار سے باہر آکر عوام کی ترقی کو سیاسی اور انتخابی موضوع نہیں بناسکتی۔ موجودہ وقت میں پارٹی کے سب سے بااثر لیڈر نریندر مودی نے بھی ’’ قبرستان اور شمشان ‘‘ نیز ’’عید اور دیوالی‘‘ کے موازنہ کے ذریعہ اسی تفرقہ آمیز سیاست کو تقویت دی تھی۔ اس دوران وہ یہ بھی بھول گئے تھے کہ ملک کے وزیر اعظم ہیں جو آبادی کے بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے حصے کا نمائندہ ہوتا ہے۔ ایسے بیانات سے پارٹی کے کیڈر کا حوصلہ بلند ہوتا ہے اور پھر وہ ’’گولی مارو....‘‘ کا نعرہ لگانے سے بھی باز نہیں آتا جسے عملاً کردکھانے کیلئے کچھ لوگ خم ٹھونک کر میدان میں آجاتے ہیں۔ ہجومی تشدد کے ذریعہ وقفے وقفے سے ہونے والی قتل کی وارداتیں اس کا ثبوت ہیں۔ 
 سوال یہ ہے کہ اگر ایسے ہی فقروں اور بیانات کے ذریعہ الیکشن جیتنا مقصود ہو تو ان پر ترقی کا لیپ لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو جمہوریت کو بے اثر کرنے کی کوشش ہے ۔ جمہوریت ہی کے بل بوتے پر حکومت بنانا اور اسی کو کمزور کرنا  جمہوریت کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔ ایسے بیانات سے نہ تو کوئی سماج اس قابل بن سکتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور ان کی کامیابی میں حکومت کے شانہ بہ شانہ چل سکے نہ ہی جمہوریت اس قابل بن سکتی ہے کہ اپنی معنوی تہ داریوں پر فخر کرسکے۔ 
 یوگی آدتیہ ناتھ کو اپنا یہ بیان واپس لینا چاہئے کہ اُن کا منصب ایسے سطحی فقروں کی اجازت نہیں دیتا۔ پھروہ اس الزام کو بھی ثابت نہیں کرسکیں گے جو ’’ابا جان‘‘ کے استعمال کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں پر لگایا گیا ہے؟ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ جب وزیر اعلیٰ کچھ کہتا ہے تو اس کا ایک ایک لفظ نپا تلااور حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ کیا زیر بحث بیان کا ایک فیصد بھی اس معیار پر پورا اُترتا ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK