سرفراز خان کی عدم شمولیت کا موضوع ایک انٹرویوکے سبب سوشل میڈیا پر پھر گرم ہوگیا، انصاف پسند کھیل بینوں نے ایکس پر سوالات قائم کئےاورکرکٹ حکام و انتظامیہ کو گھیرا۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 2:02 PM IST | Azhar Mirza | Mumbai
سرفراز خان کی عدم شمولیت کا موضوع ایک انٹرویوکے سبب سوشل میڈیا پر پھر گرم ہوگیا، انصاف پسند کھیل بینوں نے ایکس پر سوالات قائم کئےاورکرکٹ حکام و انتظامیہ کو گھیرا۔
ممبئی کے اسٹار بلے باز سرفراز خان کی ٹیسٹ ٹیم میںعدم شمولیت پر ایک بار پھر بحث زور پکڑگئی ہے۔ کیونکہ تقریباً ۲۰؍ کلو وزن گھٹانے اور گھریلو کرکٹ میں مسلسل رن بنانے کے باوجود ان کیلئے ٹیسٹ ٹیم کا دروازہ کھل نہیں رہا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی ایک اسٹوری سوشل میڈیا میں گردش میں ہے جس میں سرفراز نے کریئر اور فٹنس کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔ اس دوران انہوں نے ٹیسٹ ٹیم میں جگہ نہ مل پانے پر ایسی بات بھی کہہ دی جو انصاف پسند کرکٹ بینوں کے دل کو چھوگئی۔
دائیں ہاتھ کے ہونہار بلے باز سرفراز خان کا کہنا ہے کہ ’’میں آج بھی ہرصبح ۵؍ بجے اٹھتا ہوں اور پریکٹس کرتا ہوں۔ میں خودسے روز پوچھتا بھی ہوں کہ آخر اس پروسیس سے کیوں گزرنا چاہئے جب کہ میں ممبئی سے کھیل ہی رہا ہوں۔‘‘ سلیکٹروں کی بے رخی کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ’’ میرا کام کھیلنا ہے اوروہ کررہا ہوں۔ سلیکٹر جہاں مجھے موقع دیں گے میں کھیلوں گا، اگر وہ مجھے وہاں (ٹیسٹ ٹیم) میں نہیں بلاتے تو میں یہاں کھیلوں گا۔‘‘
اس مختصر سے انٹرویو میںانہوں نے اور بھی بہت سی باتیں کہی ہیںجو کرکٹ بینوں کو متاثرکررہی ہیں۔ ’پی سی سی آئی پوڈ‘ نامی صارف نے انڈین ایکسپریس کی اس اسٹوری کو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے(کوٹ) تبصرہ کیا کہ ’’کیا ہی درد چھپا ہواہے اس اسٹوری میں۔ تاریخ اس درجے کی بے رخی کو یاد رکھے گی۔‘‘ آئی ایم میانک بی نے لکھا کہ ’’یہ کہنا آسان ہے کہ میرا کام کھیلنا ہے، میں سلیکشن کی فکر نہیں کرتا۔ بے شک اس کا اثر کھلاڑیوں پر پڑتا ہے۔ یہ اسٹوری پڑھ کر افسوس ہورہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن آئے گا جب سرفراز کو اس کا حق ملے گا۔
یہ بھی پڑھئے: بیلن ڈی او ر جیتنے والے ہیری کین نے اپنی تقریر میں وراٹ کوہلی کا نام بھی لیا
یہ تو ابھی ۲۹؍سال کا ہے، اسکے ساتھ منصفانہ سلوک ہونا چاہئے۔‘‘ لیزی بیئنگ نے لکھا کہ ’’میرے بچے یہ بڑا ہی افسوسناک ہے‘‘ شیلی نے لکھا کہ ’’یہ اسٹوری دل شکن ہے۔‘‘ ہلکی بلکی نے لکھا کہ ’’سرفراز خان کو ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل نہ کرنا انتہائی ناانصافی اور مجرمانہ عمل ہے۔آخر فرسٹ کلاس کرکٹ کاسسٹم قائم کرنے کا کیا فائدہ، اگر آپ اس دہائی کے رنجی ٹرافی کے بہترین بلے باز کو ہی ٹیم میں منتخب نہ کررہے ہوں ؟‘‘ یاور نے لکھا کہ ’’سرفراز خان کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔‘‘چراغ واکسکر نے لکھا کہ ’’دل سے برا لگتا ہے ، اسے موقع دیا جانا چاہئے تھا، نیوزی لینڈہوم سیریز میں سرفراز اکلوتا بلے باز تھا جس نے سیکڑہ بنایا تھا۔ ‘‘
روہن گلوانی نے لکھا کہ ’’اجیت آگرکر کو اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ گھریلو کرکٹ میں مسلسل خود کو منوانے کے باوجود سرفراز کو نظر انداز کرنا یا اسے گنے چنے موقع دینے کا سبب کیا تھا؟ آگرکر بھی متعصب سلیکٹروں میں سے ایک ہیں ،انہوں نے سرفراز (خان)، (محمد) سمیع، سنجو (سیمسن) اور رنکو(سنگھ) جیسے کرکٹروں کا کریئر تباہ کیا‘‘ کرکٹ اُنیب نے لکھا کہ گوتم گمبھیر نے سرفراز کا کریئر تباہ کیا۔
انڈین ایکسپریس نے اپنی اس اسٹوری کو ایکس پر شیئر کیا جس کے ذیل میں آئیکونِک نامی صارف نے لکھا کہ کچھ کلکس کیلئے بھرت سندریشن نے کریئر تباہ کردیا۔ان کا ٹویٹ اس ڈریسنگ روم لیک تنازع کے پس منظر میں تھا جس کے سبب سرفراز کو مبینہ طور پر ٹیم سے بے دخلی کا عتاب جھیلنا پڑا۔ اسی حوالے سے اننت بھارگو نے بھی لکھا کہ ’’ تب تھوڑی سمجھداری سے کام لینا چاہیے تھا۔ آسٹریلیا میں کہیں بیٹھے کسی بدبخت شخص نے محض کلکس اور وویوز حاصل کرنے کیلئے ایک ابھرتے ہوئے کرکٹ کریئر کو تباہ کر دیا۔ بھرت سندریشن آج اگر آپ کو معافی مل گئی تو کل کسی اور کھلاڑی کیساتھ بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اسی پیشے سے وابستہ رہے تو آنے والے دنوں میں مزید کئی کھلاڑیوں کے کریئر تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘ پوزرآرچر، ڈِیپ ٹیک زیرو زیرو ون نے بھی اسی حوالے سے تلخ انداز میں سندریشن کو کوسا ہے اور لعن طعن کی ہے۔
ایکس پر جہاں اکثریت نے سرفراز سے یگانگت کا اظہار کیا وہیں کچھ نے اس حالت کیلئے خود سرفراز کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا۔ ’پِس ڈین کرکٹ‘ نامی صارف کا کہنا ہے کہ ’’نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سرفراز کی کارکردگی مایوس کن تھی، یہاں تک کہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر بھی وہ ناکام رہے۔ انہیں ٹیم میں شامل کرنے کیلئے کئی دوسرے کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا ۔ اس کے علاوہ، اندرونی حلقوں میں ان کے تکبر اور مغرور رویے کے چرچے بھی عام ہیں۔ ان کے ایٹی ٹیوڈ میں مسئلہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ سطحی کرکٹ میں ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔‘‘