Updated: November 04, 2026, 2:03 PM IST
| Canberra
ریڈٹ نے آسٹریلیا کی۱۶؍ سال سے کم عمر کے سوشل میڈیا پر پابندی کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اسےناقص طریقہ کار، اور غیر موثر قرار دیا، کمپنی کا کہنا ہے کہ پابندیاں نوجوانوں کے سیاسی اظہار کو محدود کرتی ہیں، جبکہ حکومت قانون کا بچوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہونے کا دفاع کرتی ہے۔
آسٹریلوی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ نے منگل کو آسٹریلیا کی۱۶؍ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کو ’’ناقص طریقہ کار اور غیر موثر‘‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کی، ملک کی ہائی کورٹ کے سامنے دلیل دی کہ پابندیاں سیاسی مباحثوں میں نوجوانوں کی شرکت کو محدود کرتی ہیں۔واضح رہے کہ یہ دلائل اس وقت سامنے آئے جب عدالت نے ریڈٹ اور وکالت گروپ ڈیجیٹل فریڈم پروجیکٹ کی طرف سے لائے گئے آئینی چیلنجوں پر دو روزہ سماعت شروع کی۔بعد ازاں ریڈٹ کے وکلاء نے دلیل دی کہ۲۰۲۴ء میں پارلیمنٹ کے ذریعے جلد بازی میں منظور کی گئی قانون سازی نے سیاسی مواصلات پر وسیع پابندیاں عائد کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی ماڈلز اب بیشتر اعلیٰ سائنسدانوں سے زیادہ ذہین ہوچکے ہیں: سیم آلٹ مین
کمپنی نے کہا کہ نوعمر اب بھی آن لائن مواد دیکھ سکتے ہیں لیکن رجسٹرڈ اکاؤنٹس کے بغیر پوسٹ کرنے، تبصرہ کرنے یا مباحثوں میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔ریڈٹ نے قانون کے تحت عمر کی پابندی والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر اپنی درجہ بندی کو بھی چیلنج کیا۔تاہم حکومت نے بچوں کو نقصان دہ مواد اور سوشل میڈیا کی ممکنہ طور پر نشہ آور خصوصیات سے بچانے کے لیے اقدامات کو ضروری قرار دیا۔یاد رہے کہ دسمبر ۲۰۲۵ء میں متعارف کرائی گئی اس پابندی کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور ریڈٹ سمیت۱۰؍ بڑے پلیٹ فارم کو۱۶؍ سال سے کم عمر کے بچوں کو اکاؤنٹس برقرار رکھنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ کے سپر مارکیٹس کے فریزرس پر سائبر حملہ، اچانک درجہ حرارت بڑھ گیا
اے بی سی نیوز کے مطابق، اس کے بعد سے تقریباً۵۰؍ لاکھ اکاؤنٹس بلاک یا غیر فعال کر دیے گئے ہیں۔جبکہ قانونی چیلنج اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا پابندیاں آسٹریلیا کی آئینی طور پر مضمر سیاسی مواصلات کی آزادی کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔سماعت بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔