Updated: November 04, 2026, 10:41 AM IST
| London
سوشل میڈیا پر مسلسل جنگوں، قدرتی آفات، سیاسی کشیدگی اور منفی خبروں سے بھری ویڈیوز دیکھنے کے بجائے اب صارفین اپنی فیڈ میں خوشی، سکون اور امید پیدا کرنے والا مواد شامل کرنے لگے ہیں۔ اس نئے رجحان کو ’بلوم اسکرولنگ‘ (Bloomscrolling) کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق قدرتی مناظر، جانوروں، فن، دلچسپ مشاغل اور متاثر کن انسانی کہانیوں پر مشتمل مواد ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اس کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر شعوری کنٹرول بھی ضروری ہے۔
برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ نے یکم نومبر ۲۰۲۶ء کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں سوشل میڈیا کے اس نئے رجحان کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ صارفین اب اپنی ڈجیٹل دنیا کو خود ترتیب دینے اور منفی مواد کی مسلسل یلغار سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ’بلوم اسکرولنگ‘ دراصل ’ڈوم اسکرولنگ‘ کا متبادل تصور ہے، جس میں لوگ سوشل میڈیا پر طویل وقت گزارتے ہوئے مسلسل پریشان کن خبریں، جنگوں کی تصاویر، حادثات، قدرتی آفات اور سیاسی تنازعات دیکھتے رہتے ہیں، چاہے انہیں معلوم ہو کہ اس سے ان کی ذہنی کیفیت مزید خراب ہورہی ہے۔ اس کے برعکس بلوم اسکرولنگ میں جان بوجھ کر ایسا مواد تلاش کیا جاتا ہے جو خوشی، سکون، معلومات، تخلیقی صلاحیت یا امید کا احساس پیدا کرے۔ اس رجحان میں صارفین اپنی سوشل میڈیا فیڈ کو قدرتی مناظر، پھولوں کے کھلنے، پہاڑوں اور آبشاروں کی ویڈیوز، معصوم جانوروں کی شرارتوں، بچوں کی مسکراہٹوں، فن پاروں، موسیقی، دلچسپ مشاغل اور عام لوگوں کی متاثر کن کہانیوں سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی شخص کی جانب سے کسی اجنبی کی مدد کرنے کا واقعہ، کسی گم شدہ جانور کا اپنے مالک سے دوبارہ ملنا یا کسی چھوٹے قصبے کی مثبت پیش رفت بھی اس مواد کا حصہ ہوسکتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ موبائل کھولنے کے بعد صارف کا سامنا ہر مرتبہ کسی نئے بحران یا پریشان کن خبر سے نہ ہو بلکہ اسے ایسی چیزیں بھی دیکھنے کو ملیں جو اس کے مزاج پر خوشگوار اثر ڈالیں۔
لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی کلینیکل کونسلر شیرل گروسکوف (Cheryl Groskopf) نے ’دی انڈیپنڈنٹ‘ سے گفتگو میں کہا کہ جب کسی شخص کی سوشل میڈیا فیڈ مسلسل تباہی، تنازعات اور پریشان کن خبروں سے بھری ہو تو اس کا جسم بھی ان معلومات پر ردعمل ظاہر کرسکتا ہے، حالاں کہ وہ محفوظ ماحول میں بیٹھا ہو۔ اس کے برعکس کوئی مزاحیہ ویڈیو دیکھنا، دوسرے لوگوں سے تعلق کا احساس پیدا کرنا یا کسی خوشگوار منظر سے لطف اندوز ہونا اعصابی نظام کو زیادہ محفوظ اور پُرسکون محسوس کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق مثبت مواد دیکھنے سے جذباتی کیفیت کو بہتر انداز میں منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈوم اسکرولنگ کی ایک بڑی وجہ انسانی دماغ کا منفی واقعات پر زیادہ توجہ دینا ہے، جسے نفسیات میں ’نیگیٹوٹی بائس‘ (Negativity Bias) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ارتقائی خصوصیت ہے جس کے تحت دماغ ممکنہ خطرات، نقصان اور منفی تبدیلیوں کو جلد شناخت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ صلاحیت انسان کو خطرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتی تھی، لیکن ڈجیٹل دور میں یہی رجحان مسلسل منفی معلومات تلاش کرنے کی عادت میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ کولوراڈو سے تعلق رکھنے والی لائسنس یافتہ کونسلر ایلینس شاویز (Alanys Chavez) کے مطابق انسان یہ سمجھ کر مزید پریشان کن معلومات دیکھتا رہتا ہے کہ شاید اس طرح وہ مستقبل کے خطرات کے لیے زیادہ تیار ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے قشم جزیرے میں دھماکے، آبنائے ہرمز میں امریکی حملوں کی اطلاعات
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھم بھی اس عادت کو تقویت دیتے ہیں۔ صارف جس قسم کی ویڈیوز دیکھتا، ان پر ردعمل دیتا یا انہیں زیادہ دیر تک کھول کر رکھتا ہے، پلیٹ فارم اسی نوعیت کا مزید مواد اس کی فیڈ میں دکھانے لگتا ہے۔ اس طرح ایک صارف اگر جنگ یا کسی بڑے حادثے سے متعلق ویڈیو دیکھے تو اسے اسی واقعے سے متعلق مزید تصاویر، تجزیے اور ویڈیوز مسلسل دکھائی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ لامتناہی اسکرولنگ (Infinite Scrolling) کی سہولت بھی صارف کو یہ احساس نہیں ہونے دیتی کہ وہ کتنی دیر سے موبائل استعمال کررہا ہے۔ ماہرِ نفسیات الزبتھ بوڈیٹ ڈریسر (Elizabeth Bodett Dresser) کے مطابق ڈوم اسکرولنگ بعض اوقات بے چینی سے پیدا ہونے والی اس کوشش کا نتیجہ ہوتی ہے جس میں انسان زیادہ معلومات حاصل کرکے حالات پر قابو پانے کا احساس پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس رجحان کی ضرورت کو نوجوانوں سے متعلق ایک سروے کے نتائج بھی واضح کرتے ہیں۔ ہاپی لیب (Hopelab) اور ڈیٹا فار پروگریس (Data for Progress) کے ستمبر کے سروے کے مطابق ۱۳؍ سے ۲۴؍ سال کی عمر کے ۸۸؍ فیصد افراد ڈوم اسکرولنگ میں ملوث پائے گئے۔ ان میں ۱۰؍ میں سے ۶؍ نوجوانوں نے بتایا کہ منفی مواد دیکھنے سے انہیں بے چینی، ذہنی دباؤ، غصے یا مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کا مسئلہ صرف اس پر صرف ہونے والے وقت کا نہیں بلکہ اس مواد کا بھی ہے جسے صارف بار بار دیکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوم اسکرولنگ شروع کرنے کے لیے کسی نئی ایپ یا خصوصی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں۔ صارفین کو اپنی فیڈ کے بارے میں شعوری فیصلے کرنے ہوں گے۔ جن اکاؤنٹس سے مسلسل پریشانی یا بے چینی پیدا ہوتی ہو انہیں اَن فالو یا میوٹ کیا جاسکتا ہے، جب کہ ایسے اکاؤنٹس کو فالو کرنا چاہیے جو قدرت، فن، تعلیم، تخلیقی سرگرمیوں، جانوروں یا مثبت انسانی تجربات سے متعلق مواد پیش کرتے ہیں۔ کسی غیر پسندیدہ ویڈیو پر ’Not Interested‘ کا اختیار استعمال کرنا بھی الگورتھم کو اپنی ترجیحات سمجھانے کا ایک طریقہ ہے۔ شاویز کے مطابق سوشل میڈیا فیڈ کو ایسی جگہ سمجھنا چاہیے جسے صارف خود ترتیب دے، نہ کہ ایک ایسا خودکار سلسلہ جس میں ہر اگلی چیز کا فیصلہ پلیٹ فارم کرے۔ تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ مثبت مواد دیکھنے کی عادت بذاتِ خود ہر ذہنی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر کوئی شخص پریشانی، تنہائی یا کسی ناخوشگوار احساس سے بچنے کے لیے گھنٹوں موبائل پر ویڈیوز دیکھتا رہے تو مثبت مواد بھی اسے حقیقی زندگی سے دور رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ گروسکوف کے مطابق صارف کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ موبائل کیوں اٹھارہا ہے؛ کیا وہ بوریت کا شکار ہے، بے چین ہے یا کسی مشکل معاملے سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا محض فیڈ تبدیل کرنے جتنا ہی اہم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی مداخلت پر بھی آئزن کوٹ نیتن یاہو کے اتحادی نہیں بنیں گے: رپورٹ
ماہرین نے مثبت مواد کے انتخاب کے ساتھ موبائل کے استعمال کی جسمانی حدود مقرر کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ مثلاً سونے کے کمرے میں فون نہ رکھنا، صبح بیدار ہونے کے بعد پہلے ۳۰؍ منٹ سوشل میڈیا سے دور رہنا اور ویڈیوز دیکھنے کے لیے وقت کی حد مقرر کرنا مفید ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق صارف کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ موبائل بند کرنے کے بعد وہ کیسا محسوس کررہا ہے۔ اگر ذہن زیادہ پُرسکون اور طبیعت بہتر محسوس ہو تو فیڈ میں تبدیلی فائدہ مند ہوسکتی ہے، لیکن اگر وہ پہلے کی طرح تھکا ہوا، بے چین یا ذہنی طور پر خالی محسوس کرے تو محض مواد بدلنا کافی نہیں۔ بلوم اسکرولنگ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنا یا اسے مکمل طور پر چھوڑ دینا ہی واحد انتخاب نہیں۔ صارف اپنی ڈجیٹل سرگرمیوں کو زیادہ بامقصد بنا سکتا ہے، اپنی دلچسپیوں کے مطابق مواد منتخب کرسکتا ہے اور منفی خبروں کے مسلسل دباؤ کے درمیان خوشی، علم اور تخلیقی صلاحیت کے لیے بھی جگہ نکال سکتا ہے۔ تاہم مثبت ویڈیوز کی مسلسل تلاش بھی ایک نئی قسم کی بے مقصد اسکرولنگ نہ بن جائے، اس لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ صارف الگورتھم کے پیچھے چلنے کے بجائے خود طے کرے کہ اسے کیا دیکھنا ہے اور کب موبائل بند کردینا ہے۔