Updated: November 03, 2026, 6:03 PM IST
| Washington
وہائٹ ہاؤس کے ذریعے جاری کردہ اس فہرست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے مئی ۲۰۲۵ء کے ہند-پاک تنازع سمیت ۸ بین الاقوامی تنازعات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، نئی دہلی نے امریکی ثالثی کے دعوے کو بارہا مسترد کیا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ `آپریشن سندور` کے بعد فوجی کارروائیوں کا تعطل صرف اس وقت ہوا جب پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے اپنے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کیا۔ ہندوستان کا مؤقف ہے کہ اس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں تھا۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے محض چند گھنٹے قبل، وہائٹ ہاؤس نے پیر کے روز ۱۲۷ وعدوں کی فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے بعد سے انہیں پورا کیا ہے۔ ”صدر ٹرمپ کی دوسری مدت: کئے گئے وعدے، نبھائے گئے وعدے، دیئے گئے نتائج“ نامی یہ دستاویز انتخابی مہم کے آخری دن سامنے آئی اور تجارت، خارجہ پالیسی، امیگریشن اور معیشت میں انتظامیہ کی جانب سے حاصل کردہ اہم کامیابیوں کو نمایاں کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مداخلت پر بھی آئزن کوٹ نیتن یاہو کے اتحادی نہیں بنیں گے: رپورٹ
وہائٹ ہاؤس کے ذریعے جاری کردہ اس فہرست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے مئی ۲۰۲۵ء کے ہند-پاک تنازع سمیت ۸ بین الاقوامی تنازعات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، نئی دہلی نے امریکی ثالثی کے دعوے کو بارہا مسترد کیا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ `آپریشن سندور` کے بعد فوجی کارروائیوں کا تعطل صرف اس وقت ہوا جب پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے اپنے ہندوستانی ہم منصب سے رابطہ کیا۔ ہندوستان کا مؤقف ہے کہ اس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں تھا۔
فہرست میں ہندوستان، چین، جاپان، برطانیہ اور یورپی یونین کے ساتھ ”نئے اور بہتر تجارتی معاہدوں“ کو یقینی بنانے کا سہرا بھی ان کے سر باندھا گیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق، یہ شراکت دار مل کر عالمی جی ڈی پی کے نصف سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تاہم، ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے۔ دونوں ممالک نے فروری میں عبوری معاہدے کے فریم ورک کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے ایک وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے کے ساتھ ساتھ اسے نافذ کرنے کیلئے کام کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی حمایت کرنےوالے عرب نژاد امریکی مشی گن سینیٹ کےمعرکے میں ڈیموکریٹ السید کی طرف مائل ہورہے ہیں
امیگریشن کے محاذ پر، وہائٹ ہاؤس نے امریکہ-میکسیکو سرحد پر فوجی تعیناتیوں، سرحدی دیوار کی تعمیر کے دوبارہ آغاز اور ”ریمین ان میکسیکو“ پالیسی کی واپسی کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے کہا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور کی سالانہ اوسط کے مقابلے جنوب مغربی سرحد پر گرفتاریوں میں ۹۵ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ۳۰ لاکھ سے زائد غیر دستاویزی تارکینِ وطن ملک چھوڑ چکے ہیں۔ معیشت پر، فہرست میں ورکنگ فیملیز ٹیکس کٹس کے تحت ٹیکس کٹوتیوں، تیل اور گیس کی زیادہ ملکی پیداوار اور ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں سے وابستہ سرمایہ کاری کے وعدوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں انتظامیہ کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایکشن پلان، اسٹیبل کوائنز سے متعلق جینیئس (GENIUS) ایکٹ اور ناسا کے آرٹیمس II مشن کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔