• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی حمایت کرنےوالے عرب نژاد امریکی مشی گن سینیٹ کےمعرکے میں ڈیموکریٹ السید کی طرف مائل ہورہے ہیں

Updated: November 03, 2026, 1:04 PM IST | Washington

حالیہ جائزوں کی مانیں تو السید اپنے حریف سے آگے چل رہے ہیں۔ انہیں WDIV/ڈیٹرائٹ نیوز کے ایک سروے میں تقریباً ۶ پوائنٹس اور مچل ریسرچ کے جائزے میں ۷ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی شرح ۳۰ سے ۳۵ فیصد کے درمیان ہے۔ راجرز نے مینوفیکچرنگ، زندگی کے اخراجات اور عوامی تحفظ پر مہم چلائی ہے، اور کنیڈا پر ٹیرف اور ایران جنگ کے معاملات پر ٹرمپ سے مختلف موقف اپنایا ہے۔

Trump and El-Syed. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ اور عبدل السید۔ تصویر: ایکس

امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے متعدد عرب نژاد امریکی ووٹرز مشی گن کے سینیٹ کے معرکے میں ڈیموکریٹ عبد السید کی حمایت کر رہے ہیں۔ شامی نژاد امریکی معالج، ۸۰ سالہ ڈاکٹر یحییٰ باشا، جنہوں نے ۲۰۲۴ء میں ٹرمپ کیلئے عرب اور مسلم حمایت حاصل کرنے میں مدد کی تھی، کا کہنا ہے کہ انہوں نے السید کی مہم کیلئے تقریباً ۵ لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔ وہ معیشت، غزہ اور ایران میں نئی جنگ پر عدم اطمینان کا حوالہ دیتے ہیں۔ باشا کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ٹرمپ کی شام سے متعلق پالیسی کی تائید کرتے ہیں، لیکن صدر کی جانب سے مذہب کو بطور مزاحیہ مواد استعمال کرنے پر اعتراض کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: نومبر کا ’اسلاموفوبیا آگاہی مہینہ‘، ’خاموش تماشائی نہ بنیں‘ کا پیغام

ٹرمپ نے ریلیوں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر السید کا کئی مرتبہ تمسخر اڑاتے ہوئے انہیں ”محمد“ پکارا ہے، جسے مشی گن کے بیشتر مسلمان توہین آمیز سمجھتے ہیں۔ اگر السید منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ امریکی سینیٹ میں پہلے مسلمان ہوگے۔ ان کے ریپبلکن حریف، مائیک راجرز، نے دعویٰ کیا ہے کہ السید اور ان کے رشتہ داروں کے مشرقِ وسطیٰ میں مسلح گروہوں سے روابط ہیں۔ السید نے بارہا اس کی تردید کی ہے۔

طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کے تنظیمی کارکن کے طور پر کام کرنے والے واصل یوسف کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کیلئے عرب حمایت اب ”صفر“ ہو چکی ہے، حالانکہ وہ خود اب بھی راجرز کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بشارہ باہبہ، جنہوں نے ’عرب امریکنز فار ٹرمپ‘ کی بنیاد رکھی تھی، نے گزشتہ سال اس گروپ کا نام بدل کر ’عرب امریکنز فار پیس‘ رکھ دیا۔ چینج ریسرچ کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ ممکنہ عرب اور مسلم ووٹرز ۱۸ فیصد کے مقابلے ۷۷ فیصد کے ساتھ السید کی حمایت کرتے ہیں۔ مشی گن کے ووٹرز میں عربوں کا تناسب تقریباً ۵ فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری؛ امریکہ ایران پر ایٹمی حملہ کرسکتا ہے: ٹکر کارلسن کا دعویٰ

حالیہ جائزوں کی مانیں تو السید اپنے حریف سے آگے چل رہے ہیں۔ انہیں WDIV/ڈیٹرائٹ نیوز کے ایک سروے میں تقریباً ۶ پوائنٹس اور مچل ریسرچ کے جائزے میں ۷ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی شرح ۳۰ سے ۳۵ فیصد کے درمیان ہے۔ راجرز نے مینوفیکچرنگ، زندگی کے اخراجات اور عوامی تحفظ پر مہم چلائی ہے، اور کنیڈا پر ٹیرف اور ایران جنگ کے معاملات پر خود کو ٹرمپ سے الگ رکھا ہے۔ بعض ریپبلکن ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ عوامی تحفظ کے خدشات اور ٹرمپ کے نام بگاڑنے پر ناگواری کے باعث راجرز کی حمایت کر رہے ہیں۔ مشی گن میں تقریباً ۱۵ لاکھ ووٹ پہلے ہی ڈالے جا چکے ہیں، جن میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK