کامرس کے طلبہ کیلئے مِلّی ایجنڈا کیا ہونا چاہئے؟

Updated: March 22, 2021, 4:34 PM IST | Mubarak Kapdi

کورونا سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے، ایسے میں کامرس کے طلبہ پر کافی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

سائنس،ٹیکنالوجی کے بعد آج جس علم کا سب سے زیادہ بول بالا ہے اور جس کی شدید اہمیت و ضرورت بھی ہے وہ ہے ’ معاشیات‘۔ ہمارے یہاں نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس علم سےغفلت برتی جاتی ہے۔ یہ اُس قوم کا حال ہے جس نے شہرئہ آفاق ماہرِ اقتصادیات، فلسفی اور تاریخ داں ابن خلدون اس دنیا کو دیا۔اس کے باوجودگزشتہ تین صدیوں سے مسلم معاشرے میں معاشیات کے محاذ پر سنّاٹا چھایا ہوا ہے۔ اس ضمن میں ہم چہار سُو یہ ڈنکا تو بجاتے رہے کہ ہمارے یہاں سُود کو حرام قرار دیا گیا ہے مگر غیر سُودی نظام کو رائج کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے اور اب تو سُودی نظام دنیا بھر کے معاشی و سماجی نظام کو اپنے شکنجے میں لے چکاہے۔ کہنے کو تو دنیا کے نقشے پر ۵۶؍مسلم ممالک موجود ہیں البتہ جدید سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے مغربی ممالک کے محتاج ہیں اور اُن میں سے اکثر کی معیشت کا عالم یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک سے حاصل کئے ہوئے قرض کا سُود  ادا کرنے کیلئے اُنہی ملکوں سے پھر قرض  لیتے رہتے ہیں۔ 
 آزادی کے بعد سے معاشیات کے ضمن میں ہماری قوم کا رویّہ بھی افسوس ناک ہی ہے۔ ہمارے کامرس کے طلبہ سے استفسار ہوتا ہے کہ وہ آخر اُس شعبے کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں، تو کہتے ہیں (الف) آگے چل کر دیکھیں گے (ب) بینک میں کام کرنا ہے (ج) کامرس میں زیادہ پڑھائی کا بوجھ نہیں ہوتا (د) کامرس میں پریکٹیکل نہیں ہوتے (و) پارٹ ٹائم میں پڑھ کر فُل ٹائم ملازمت کرسکتے ہیں (ہ) جلد نوکری مل جاتی ہے وغیرہ۔ ایک آدھ فیصد طلبہ بھی یہ خواب نہیں دیکھتے کہ وہ ماہرِ اقتصادیات بن جائیں، معاشیات میں ریسر چ کریں، معاشیات کے تحقیقی جرنل میں اپنے مقالے پیش کریں یا معیشت کے موضوع پر کچھ نیا خیال، نیا نظریہ یا کوئی تحقیق پیش کریں۔ کیا معاشیات کی کوئی اہمیت نہیں ۔ کووِڈ۱۹؍کے ایک خوردبینی جرثومے نے تو آج ہمیں اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ معاشیات و اقتصادیات میں لاعلمی و لاپروائی کی بھاری قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑتی ہے۔آج ہمارا روئے سخن معاشیات کے طلبہ سے ہے۔ یہ طلبہ اس شعبے میں کسی مقصد کے تئیں داخلہ لیں، وہ کیا کیا ہوسکتے ہیں؟
 ہمارے نوجوانوں کا پہلا مقصد یہ ہو کہ وہ کامرس کی فیلڈ میں داخلہ لے کر کسی طرح سے بارہویں، پھر گرتے پڑتے گریجویشن پورا کرنے اور کسی دفتر میں بابو گیری کرنے یا کسی بینک کے کائونٹر پر کیش کے انبار میں ڈوبے رہنے کی خواہش نہ رکھیں بلکہ وہ ماہراقتصادیات بننے کا خواب رکھیں۔ ایسے ماہر جس کی پکڑ معاشی نظام پر ہو، اُس کے ہر پہلو اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ویژن کا وہ حامل ہو۔ اُسے یہ بھی علم ہو کہ کسی بھی ملک کا دل گائوں، دیہات اور قصبوں میں دھڑکتا ہے۔ وہاں کے ہر نفس تک زندگی کی بنیادی ضرورتیں مہیّا کرنے کے چھوٹے، اوسط و طویل مدّتی منصوبے اُس کے پاس تیار ہوں ۔ 
معاشیات کے طلبہ کو ہم ایک اور ہدف دینا چاہیں گے۔ ہمارے پولیٹکل سائنس کے طلبہ بھی اس معاملے کو خوب خوب سمجھ لیں۔ آزادی کے بعد سے ہمارے یہاںمولانا آزاد کے بعد کوئی قومی لیڈرشِپ نہیں اُبھری۔ سیاسی لیڈران کو ہمارے یہاں قائد سمجھا جانے لگا۔ ہماری قوم سے وابستہ یہ سیاسی افراد یا ہمارے علماء سے بھی چند اشخاص اپنی جیب میں ہمیشہ اپنا ذاتی ایجنڈا ہی لئے پھرتے رہتے ہیں۔ ساری سیاسی پارٹیوں میں اِ ن کا’ ریٹ‘ کارڈ گھومنے لگتا ہے۔ ہر الیکشن سے قبل اِن کی شیروانیوں میں سونے کے بٹن چمکنے لگتے ہیں۔ اس طرح یہ اپنی جوشیلی و جذباتی تقریروں اور تحریروں کا سودا کرتے ہیں۔ آج کل البتہ ہمارے سارے نوجوانان یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ ہمارے یہ قائدین جو ہماری قوم کے مسائل کو ایوان میں، محلّوں میں، نکّڑوں پر بڑے زور وشور سے اُٹھاتے تھے، اب بالکل بھیگی بلّی بنے ہوئے ہیں۔ ہوا یہ کہ آج مرکز میں ایک ایسی پارٹی برسرِاقتدار آئی ہے جو اُس کے خلاف اُٹھنے والی ہر آواز کو انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ، محکمۂ انکم ٹیکس اورسی بی آئی کے ذریعے خاموش کراتی ہے۔ اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نام نہاد قائدین  خاموش  ہیں۔
  نوجوانوں سے ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ ہمارے وہ نام نہاد قائدین جن کے معاشی معاملات وغیرہ میں شفافیت نہ ہو، اُنھیں قوم کالیڈر کیوں تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ جن کے معاملات مشکوک ہوں اور جنہیں ای ڈی اور انکم ٹیکس سے ڈرایا جاسکتا ہو، اُنھیں ہمارے محلّوںو بستیوں میں بطور قائد کیوں پیش کیا جائے۔ ایسے کھوکھلے لیڈر، ملّت کے مسائل پر فوراً حکمراں پارٹی کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ اپنی جان بچانے اور اپنے سیاسی آقائوں کو خوش کرنے کیلئے ان کی پسند  کے مطابق بیانات دیتے ہیں۔
  نوجوانوں کو اِن نام نہاد قائدین کی قیادت کو رَد کرنا ہے اور طلبہ و نوجوانوں ہی سے قیادت تیار کرنی ہے۔ ہمارے کامرس کے طلبہ کو اس قیادت کو اپنے حساب کتاب اور اپنے معاملات میں شفافیت رکھنے میں رہنمائی کرنی ہے۔ 
 ہمارے کامرس اور اِکنامکس کے طلبہ کو اپنے محلّے و علاقے کے مساجد و مدارس ٹرسٹ نیز قوم کے تعلیمی اداروں کے اکائونٹس لکھنے اور رکھنے میں پہل کرنی چا ہئے۔ اب ہمارے مساجد و مدارس کے ٹرسٹوں پر سب کی نظر و پکڑ ہوگی۔ اکثر ہمارے یہاں اِن میں شفافیت نہیں برتی جاتی۔ کچھ ٹرسٹیان تو اِن ٹرسٹ اور وقف کی اِملاک ہی سے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ حساب کتاب اور آڈٹ نہ کرنے کی بنا پر ہمارے یہ دینی و تعلیمی ادارے چیریٹی کمیشن اور آئی ٹی وغیرہ کی زد پر رہتے ہیں۔مقدمے بازی چلتی رہتی ہے، ہمیں ڈر ہے کہ فرقہ پرست حکومت ایسی صورتِ حال کا فائدہ اُٹھاکر ہمارے کئی مدارس کے ٹرسٹ کو تحلیل نہ کردے یا ہمارے تعلیمی ٹرسٹوں پر سرکاری منتظم کا تقررنہ کردے۔
  نوجوانوں سے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ جب بھی وہ کسی طلبہ کی تنظیم، کسی این جی او، کسی خیراتی ٹرسٹ، کسی ادارہ، جماعت، سوسائٹی اور اسو سی ایشن سے وابستہ ہونے کا ارادہ کرلیں تب وہ یہ دیکھیں کہ (ا) کیا اُس تنظیم/ادارہ کے حساب کتاب میں شفافیت  ہے؟ (۲) بحسن خوبی سالانہ آڈٹ ہوتا ہے؟ (۳) ملک کے سارے قوانین کی پاسداری کرتا ہے؟ (۴) ادارہ کے نصب العین، اغراض و مقاصد اِس ملک کے آئین سے ہم آہنگ ہوںتاکہ آگے چل کر آپ ایک اسکالر، دانشور، عالمِ دین وغیرہ ہوتے ہوئے بھی بھیگی بلّی نہ بن جائیں اور اپنے ضمیر اور اپنے ساتھ اپنی قوم کا بھی سودا کرنے پر مجبور نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK