ادب کے طلبہ اپنی ڈائری میں کیا لکھیں؟

Updated: May 10, 2020, 1:29 PM IST | Mubarak Kapdi

ادب میں بھلے ہی کریئر کے بہت زیادہ مواقع نہ ہوں لیکن ایک بات تو طے ہے کہ آپ اپنی زندگی میں جو بھی کریئر اپنائیں گے، ادب کی معلومات سے اُس کی قیمت دوبالا ہو جائے گی

Diary Writing - Pic : INN
ڈائری رائٹنگ ۔ تصویر : آئی این این

زندگی کے بازار میں آج ادب و ثقافت کی قدرو قیمت کچھ کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔آج معاشیات،سیا سیات،نفسیات،سائنس،ماحولیات کا ہر سو چرچا ہے۔ان مضامین کے طلبہ کی آرا کو’وزن دار‘ سمجھا جاتا ہے، بہ نسبت ادب کے طالب علم کے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے؟ 
 حالاتِ حاضرہ پر اپنے مشاہدات کو اپنی بیاض یا ڈائری میں نوٹ کرنے کا مشورہ ہم نے ہر فیکلٹی کے طالب علم کو دیا ہے اور اس میںآرٹس اور فنون ِ لطیفہ کے طلبہ بھی شامل ہیں بلکہ سب سے زیادہ جاذب،موثر اور خوبصورت ڈائری تو ادب کے طلبہ کی وجود میں آئے گی۔ہمیں علم ہے کہ جس دَور سے ہم گزر رہے ہیں، وہ اب تک کا سب سے زیادہ مادّ پرست دَور ہے۔ہر شئے،ہر علم کو صرف اور صرف مادّے کی عینک سے دیکھا جاتا ہے کہ اُس سے آخر مادّی فائدہ کتنا ہے۔آج ہمارے یہاں ملک بھر میں جونیئر کالج کی سطح تک زباندانی کا مضمون دستیاب ہے البتہ طلبہ(اور والدین) کی مادہ پرستی کا مزاج اُنہیں روکتا ہے اور وہ زبان و ادب سیکھنے کے بجائے انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے مضمون کو ترجیح دیتے ہیں۔وجہ؟ وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ زبان و ادب سے پیٹ نہیں بھرتا۔آئی ٹی اور کمپیوٹر کے مضامین سے روٹی روزی ملتی ہے۔محکمہ تعلیم کو کوئی فکر نہیںہے، تووہ یہ دیکھتا ہے کہ آئی ٹی وغیرہ مضامین سے اُس کے محکمہ کا بھی پیٹ بھرتا ہے کہ اگر ایک طالب علم زباندانی کو ترجیح دیتا ہے تو اس سے تین ہزار روپئے فیس اُنہیں موصول ہوتی ہے اور آئی ٹی لینے پر بارہ ہزار! آج ادب سے اکتاہٹ یا بیزاری کو ہم طلبہ کے ذہن و مزاج سے کم کر سکتے ہیں؟ اس ضمن میں ذہن سازی کیسے ممکن ہے؟
 ہم اسلئے ایک واقعہ بتانا چاہیں گے۔ایک یونیورسٹی نے اُردو صحافت کا  ایک کورس شروع کیا۔ صحافت کے اُن طلبہ کو خطاب کر نے کیلئے ہمیں مدعو کیا گیا۔میں نے ہامی بھرلی البتہ فون منقطع کر نے سے پہلے اُس یونیورسٹی کے صدرشعبہ اُردو نے کہاکہ میرا موضوعِ سخن ہوگا کہ صحافت میں کریئر کے مواقع۔میں نے ا ُن سے کہا کہ یہ بہت ہی چھوٹا موضوع ہے۔میں ابھی فون پر ہی پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا  اور سوشل میڈیامیں کریئر کے مواقع  پر آپ کو کچھ باتیں بتاتا ہوں، وہ اپنے طلبہ کو سمجھا دیجئے البتہ میں جس موضوع پر بات کرنا چاہوں گا وہ ہے’افسانچہ نگاری اور زندگی‘۔صدرِ شعبہ اُردو راضی ہو گئے۔وہاں ہم نے اپنی تقریر کو ورکشاپ میں تبدیل کیا۔ڈھائی گھنٹے کے اس ورکشاپ کے آخر میں سوال و جواب کا جب سیشن شروع ہُوا تو اس میں حسبِ توقع پہلا ہی سوال ایک طالب علم کی طرف سے یہ تھا کہ کیا افسانچہ نگاری میں کوئی کریئر بن سکتا ہے؟طلبہ یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ افسانچہ نگاری بہت خوب مگر اس سے روزی روٹی بھی ملتی ہے؟ہم نے یہ جواب دیا کہ اس کاایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ ہاں ممکن ہے،آج الیکٹرانک میڈیا میںجو افسانوی سیریل وغیرہ بن رہے ہیں اُن میںاسکرپٹ و مکالمہ نویسی وغیرہ میں یہ سب کام آئے گا البتہ  ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ افسانچہ نگاری میں کریئر نہیں بنایا جا سکتا البتہ ایک بات تو طے ہے کہ آپ اپنی زندگی میں جو بھی کریئر اپنائیں گے، اُس کی قیمت دوبالا ہو جائے گی۔ یہ فن آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو نئے آفاق سے آشنا کردے گا۔زندگی کے ہر معاملے کو نت نئے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔آج اپنی روزانہ کی ڈائری لکھنے میں ادب کا انتہائی موثر  ہتھیار استعمال کر نے کی ترغیب ہم اسلئے دے رہے ہیں کہ یہ سب اب غائب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔کبھی کالج میں وال میگزین یا نقشِ دیوار وغیرہ ہُوا کرتے تھے جس کے ذریعے اردو کے اساتذہ کا اپنے طلبہ میں ادبی ذوق کو پروان چڑھاتے تھے آج بد بختی سے کئی کالجوں سے شعبہ اُردوختم ہُوا اور ادب کے نقوشِ دیوار بھی۔
  نوجوانو! سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ فکشن یا افسانہ نویسی نصف سائنس ہے اور چند چوٹی کے افسانہ نگاروں کی تحریروں سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ پورا سائنس ہے۔ چند لوگوں کو جھوٹ لگتا ہو مگر سچائی کی بقا کیلئے اس کا وجود بے حداہم ہے۔اسی افسانہ نگاری سے افسانچہ نگاری،مائیکرو فکشن،شارٹ فکشن، فاسٹ فکشن  ،منی افسانہ  یا مختصرکہانی وجود میں آئی۔آج یہ صنف بے حد اہم اور موثر شکل اختیار کر گئی ہے۔افسانچہ نگاری کو جو لوگ صرف چٹکلا یا لطیفے بازی سمجھا کرتے تھے وہ سب خاموش ہو جاتے ہیں جب اُن کے سامنے منٹو کے’سیاہ حاشیے‘ کو رکھا جاتا ہے۔افسانچہ نگاری کیلئے کسی بڑی تربیت کی ضرورت نہیں۔ ایک خیال ،ایک دانش پارہ کو انفرادیت کے ساتھ لکھ دِیا جائے  اوربرسہا برس کیلئے ہزاروں اذہان پر وہ ثبت ہو جائے۔ اس دوڑتی بھاگتی زندگی میں اب افسانہ بلیک اینڈ وہائٹ لگتا ہے اور افسانچہ ست رنگی۔ہم افسانچہ نگاری کو صحافت کے ذیل میں، اسلئے رکھنا پسند کریں گے کہ صحافت کا کینواس بہت بڑا ہے۔اس میں ہم اپنی بات کو عوام و خواص تک بھی پہنچا سکتے ہیں۔ یہ افسانچہ نگاری ایک  بڑا کا م اسلئے ہے کہ وہ سمندر کو کوزے میں بھرنے کا عمل ہے اور خوب سیرت و خوبصورت ایسا کہ جیسے چاول کے دانے پر تاج محل کی تصویر بنائی جائے۔
 نوجوانو! حالاتِ حاضرہ،اُس کے نشیب و فراز،سیاست دانوں کی سیاہ کاریاں،اہل اقتدار کے شعبدے،اہلِ ثروت کی بے حسی،محنت کشوں کی بے بسی وبے کسی اور زمانے کی نیرنگیاں ان سب سے متعلق اپنے مشاہدات اور احساسات کو ہر روز قلمبند کرنا ضروری ہے تاکہ ساری دنیا کو آپ اپنی نظر و فہم وادراک سے دیکھے اور اس کیلئے ہم آپ کو افسانچہ نگاری کا مشورہ دیں گے صرف ادب کے نہیں بلکہ سائنس و کامرس کے طلبہ بھی یہ بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔اس سے آپ کی شخصیت سازی اور خود اعتمادی میں بہتری  پیدا ہوگی۔اس سے آپ افسانچہ نگاری میں کوئی کریئر شایدآپ نہ بنا پائیں البتہ آپ نے جس کریئر کو اپنایا ہے اس میں قوسِ قزح کے رنگ بھر جائیں گے۔آج یہاں ان کالموں میں تنگی داماں کی بنا پر افسانچہ نگاری پر پورے ورکشاپ کا انعقاد نہ کر پائیں گے البتہ ہم موجودہ حالات میں ہمارے لکھے ہوئے دس افسانچے یا یک سطری کہانیاں پیش کر رہے ہیں جن سے کالج کے طلبہ استفادہ کر سکتے ہیں: 
  بالکنی کیا ہوتی ہے؟ بیٹا! بڑے لوگوں کے گھروں میں ایک بالکنی ہوتی ہے جہاں وہ تالی اور تھالی بجاتے ہیں اور موم بتی جلاتے ہیں۔
  وہ پوچھتے ہیں کہ گاؤں جانے کیلئے ہم اس قدر بے چین کیوں ہیں؟ آخر کیا ہے وہاں؟ میں نے کہا میرا گاؤں ہے وہی کافی ہے۔
 یہ وبا ہے یا بلا مگراس کا ایک روشن پہلو تو دیکھو بیٹا کہ زندگی میں پہلی بار ہمیں کسی  سماجی تنظیم کی طرف سے ہر روز دو وقت کا کھانا مل رہا ہے۔
  یہ لاکھوں مزدور چھ سات سو کلو میٹر پیدل چل کر جا رہے ہیں، اِن سے تالی بجاؤ، تھالی  بجانے کہیں گے تو وہ پھر اُس تھالی میں کھانا مانگیں گے۔
 بیماری کے ٹیکے کی تحقیق کرنے کے  بجائے ہمارے ملک میں ہندو ترکاری اور مسلم ترکاری کی تحقیق کا ٹھیکہ کس نے دِیا؟
  ۶)  صرف چھینکنے کا طریقہ سکھانے کیلئے اتنی بڑی تباہی ؟
 لگتا ہے اخلاقی اقدار کی تعلیمات اسکول کے نصاب کیلئے ہیں۔ کالج میں جا کر معاشیات کے مضمون میں سکھایا جاتا ہے کہ شراب اور جوئے کو ’بُرا مت کہو‘ کیونکہ ملک کی معیشت اُن پر منحصر ہے۔
  کورونا وائرس سے نجات پر یہ قوم جشن منا رہی ہے البتہ اسے ہماری کورونا لوجی سے کون بچائے گا؟ابھی معلوم ہو جائے گا اُسے کہ کورونا وائرس خطرناک ہے یا کورونا لوجی۔
چھ فٹ کی دوری ؟ ہمارے سیٹھ جی کے آنگن سے بھی ہم ہمیشہ ۱۵؍ فٹ کی دُوری پر بیٹھتے ہیں، اس سماجی دُوری کو کیا کہتے ہیں پتا جی؟
  دیکھا اس ملک کے غریبوں کی ڈسپلن،ہر ایک کے سرپر ایک بیگ،بغل میں بچہ،ہاتھ میں ایک گٹھری اور کیسے قطار میں چلے ہیں،ہم اور کچھ بھی نہیں البتہ ان پر ہیلی کاپٹروں سے گلاب کے پھول تو برسا سکتے ہیں۔
 (ہوم ورک):حالاتِ حاضرہ پر ہر طا  لب علم ۲۵؍ افسانچے یا منی کہانیاں، اپنی ڈائری میں نوٹ کرے اور آن لائن ایک دوسرے سے شیئر کرے)۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK