مقابلہ جاتی امتحان کیلئے بیرون شہرجانے والےطلبہ کیاکریں،کیانہ کریں؟

Updated: January 25, 2023, 10:50 AM IST | Sandeep Manudhane | Mumbai

بہتر رہنمائی، یکسوئی کیساتھ پڑھائی اور سازگارماحول کی تلاش میں طلبہ کو  اپنا گھر ، شہر چھوڑکر کچھ عرصے کیلئے دوسرے شہر کا رخ کرنا پڑتاہے، ایسے طلبہ کے لئے اس مضمون میں کچھ اہم باتیں پیش کی جارہی ہیں

photo;INN
تصویر :آئی این این

دسویں ، بارہویں اور گریجویشن  کے لیول کے طلبہ اور والدین کے سامنے ایک بڑا سوال ہوتا ہے کہ کیا مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کے لئے اپنا گھر چھوڑکر دوسرے شہر میں جانا چاہئے؟ اس سے اہم معاملے سے کئی باتیں جڑی ہوتی ہیں ، جیسے کہ پیسے کا سوال ، تحفظ و سلامتی اور جذباتی لگاؤ  اور کچھ  حد تک وقار کی بھی بات ہوتی ہے۔کیا آپ بھی اس سوال کا سامنا کررہے ہیں ؟ آج ہم اسی موضوع پر بات کریں گے۔
امیدوار اپنا شہر کیوں چھوڑتا ہے؟
 مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کے لئے امیدوار کو  اپنا شہر چھوڑ کر دوسرے شہر جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ اس کی سب سے اہم وجہ اپنے شہر میں تعلیمی سہولیات، اچھے ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ، بہترین ٹیچرس اور اچھے طلبہ (مثبت مقابلہ آرائی کیلئے ) کا نہ ملنا ہے۔ یہ سہولیات طلبہ کو صحیح وقت پر نہ ملنے سے ان کی تیاری اور ڈیولپمنٹ بہت اثر پڑسکتا ہے۔ کیونکہ والدین اور امیدواروں کو لگتا ہے کہ پیشہ ورانہ زندگی کے لئے راستہ اور لائحہ عمل کرنے کا یہ اہم وقت ہے تو اس بات کو زیادہ سنجیدگی سے لیاجاتا ہے۔
نئے شہر جاکر پڑھنے کے ۵؍ اہم پہلو
 طعام و قیام: گھر سے باہر نکلنے پر سب سے پہلا مسئلہ ہوتا ہے کھانے اور رہنے کا کیونکہ کئی مہینوں تک تو نئی جگہ کے کھانے کا ذائقہ ہی پسند نہیں آتا ہے۔
باہر کے کھانے کی کوالیٹی کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔
بہتر تو یہ ہے کہ آپ بیرون شہر جارہے ہوں اور وہاں آپ کے کوئی رشتے دار و جان پہچان والے ہوں توان کے یہاں پےاِنگ گیسٹ کے طور پر رہیں۔
اچھے ہوسٹل وغیرہ کی معلومات حاصل کرلیں۔ لیکن اچھے سے اچھے ہاسٹل میںبھی کھانے کی کوالیٹی اچھی نہیں ملتی۔ میں نے جب آئی آئی ٹی سے ۴؍ سال تعلیم حاصل کی  تب وہاں کے ہاسٹل میس کا کھانا اچھا نہیں ہوتا تھا۔
اپنے ہی شہر کے دیگر طلبہ کے ساتھ مل کر فلیٹ یا کیمرہ بھی کرائے پر لے سکتے ہیں۔ یہاں آپ اپنا خود کا کچن بناکر  اور راشن وغیرہ منگاکر خود بھی کھانا بناسکتے ہیں یا کسی کھانا بنانے والے کو بھی کام پر رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح تھوڑا خرچ بڑھ سکتا ہے لیکن گھر جیسا کھانا مل سکتا ہے۔ 
اگر آپ کے دو وقت کے کھانے  کا مسئلہ یوں حل ہوجاتا ہے تو یقیناً آپ تھوڑی راحت محسوس کریں گے جس سے پڑھائی بھی توجہ کے ساتھ ہوگی۔
ہوم سِکنیس(گھر سے دوری کا غم)
پہلی بار گھر سے باہر نکلنے والے بچے کے ساتھ دوسرا سب سے اہم مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہوم سِکنیس(گھر سے دوری کا غم) اور اکیلے پن سے متاثر ہوجاتا ہے۔ کچھ اس باعث ہمت ہارکر گھر لوٹ جاتے ہیں اور جو بلند حوصلہ ہوتے ہیں وہ کسی طرح  باہر رہنے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔
گھر اور اپنوں سے دور ی پر ہونے والے تناؤ کو ہوم سِکنیس کہتے ہیں۔
ہوم سِکنیس کے برے اثرات میں نیند نہ ہونا، سردرد ، بھوک نہ لگنا، عدم تحفظ کا احساس، اکیلا پن، نروس اور چڑچڑاپن محسوس ہونا وغیرہ ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اپنے شہر کے ، اپنی زبان بولنے والے اور اپنے جیسا سوچنے والے دوست بنانے سے بہت فائدہ ملتا ہے۔
اپنے روم میں ہی ادا س نہ پڑے رہیں، یا کلاسیز میں بیٹھ بیٹھ کر گم صم نہ ہو، اس سے نقصان کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
اپنی کتابیں لے جاکر کافی شاپ یالائبریری میں جاکر پڑھائی کی جاسکتی ہے۔ گھر پر فون کرکے بات کرنے سے حوصلہ ملتا ہے۔ خود کو اپنا ہدف یاددلائیں اس سے آپ میں  جوش پیدا ہوتاہے۔
فائنانس
تیسرا مسئلہ صرف طلبہ کا نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ پورے گھر کا مسئلہ ہوتا ہے جی ہاں وہ مسئلہ ہے امیدوار کے لئے پیسوں کا انتظام، یعنی فیس ،طعام و قیام کا خرچ وغیرہ۔
آج کل کئی خاندان پہلے سے ہی ایسے اخراجات کے بارے میں سوچ کر اس کے لئے بچت کرتے ہیں، ایسا ہے تو ٹھیک ہےلیکن ایسا نہ ہونے پر یہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
بری سنگت یا ہدف سے بھٹکنا
گھر کے نظم و ضبط بھرے ماحول سےباہر آنے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہونے پر کئی طلبہ اپنے ہدف سے بھٹک جاتے ہیں۔ تھوڑی بہت شرارت، گھومنا پھرناٹھیک ہے لیکن اگر امیدوار اپنی ڈگر سے ہٹ جائے تو پھر یہ ٹھیک بات نہیں ہے۔
اس میں دوستوں کے ساتھ ادھر ادھر گھومنے میں وقت برباد کرنا اور کسی بری عادت کا اپنالینا بھی شامل ہے۔
ایسا ہونے کی اہم وجہ پختگی اور عدم اعتماد کا فقدان ہے، جس سے طلبہ اپنی بات پر ٹک نہیں پاتے اور آسانی سے دوستوں کے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔
اس صورت میں والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں سے تعلقات مضبوط رکھیں۔  والد سے زیادہ والدہ کا کردار اہم ہوتا ہے۔ عموماًبچے والدہ سے زیادہ قریب ہوتے ہیں، اس لئے والدہ’مدر ٹیسٹ‘ کا طریقہ اپنائے۔  پیار سے، ترغیبی الفاظ سے بچے کی ہمت بڑھائے اور اسے اپنے ہدف کے حصول میں لگے رہنے کی ترغیب دیتی رہے۔
مدرٹیسٹ کیا ہوتا ہے؟
اپنے بچے سے بات کریں اور اسے کھل کر بتائیں کہ باہر اکیلے رہنے پر کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ’مدر ٹیسٹ‘ دے۔ یعنی طالب علم اپنے آپ سے یہ پوچھے اگر یہ کام کروں گا اور اس کی خبر میری ماں کو ہوجائے تو انہیں کیسا لگے گا؟ کیا وہ خوش ہوں گی، ناراض ہوں گی ، یا غمزدہ ہوجائیں گی۔ اگرجواب ’خوش ہوں گی‘ تو پھر وہ کام کرنے لائق ہے، ورنہ فوراً وہاں سے ہٹ جائے، دوست چاہے کتنے ہی جگری ہوں۔
 امید ہے کہ درج بالا مشورے اور باتیں  آپ کے لئے مفید و کارگر ثابت ہوں گے۔ آزمائش شرط ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK