• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انتخابی بائیکاٹ سے اپوزیشن کو کیا حاصل ہوگا ؟

Updated: November 30, 2025, 5:27 PM IST | Pankaj Srivastava | Mumbai

بین الاقوامی تنظیمیں بھی اب کھل کر کہنے لگی ہیں کہ ہندوستانی جمہوریت ایک گہرے بحران میں ہے۔ ’ای آئی یو‘۲۰۲۴ء کی ’ڈیموکریسی انڈیکس‘ میں ہندوستان ۱۶۷؍ ممالک میں ۴۱؍ ویں نمبر پر ہے۔۲۰۱۴ء میں یہ۲۷؍ ویں نمبر پر تھا یعنی ہندوستان کو’تیرتی جمہوریت‘ یا ’لنگڑی جمہوریت‘ کہا جاسکتا ہے۔

Picture: INN
تصویر:آئی این این
بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی یکطرفہ کامیابی نے کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس کی وجوہات ’ایس آئی آر‘ کے نام پر ووٹ چوری سے لے کر لاکھوں خواتین کو دی گئی دس ہزار روپے کی کھلی رشوت تک ہیں۔ الیکشن کمیشن مودی حکومت کے ماتحت کے طور پر کام کر رہا ہے اور میڈیا جو کہ تاریخی طور پر اس مسئلے کو عوام کے درمیان اٹھانے کا ذمہ دار ہے، حکومت کی گود میں بیٹھا ہوا ہے۔ اس تناظر میں کئی حلقوں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ اپوزیشن کو چاہئے کہ عوامی شعور کو بیدار کرنے کیلئے انتخابات کا بائیکاٹ کرے۔ ایسی صورتحال میں انتخابات میں حصہ لینا، دراصل حکومت کی تشکیل کو جائز قرار دینا  ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بائیکاٹ  سے اپوزیشن کوکچھ فائدہ ہوگا؟
۱۸؍ نومبر کو دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم میٹنگ ہوئی۔۱۲؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ریاستی صدور اور انچارجوں کو اس میں بلایا گیا تھا جہاں ووٹر لسٹوں پر خصوصی نظر ثانی ( ایس آئی آر) جاری ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ لاکھوں رائے دہندگان کو ایس آئی آر کے نام پر حذف کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں اپوزیشن مضبوط ہے۔ پارٹی صدر ملکارجن کھرگے نے واضح طور پر کہا کہ ’’اگر الیکشن کمیشن اس کو نظر انداز کرتا ہے، تو یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے بلکہ یہ اس کی واضح ملی بھگت ہے۔‘‘
کانگریس دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی کے رام لیلا میدان میں اس موضوع پر ایک بڑی ریلی کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ راہل گاندھی اس تعلق سے بہت سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے واضح کردیا ہے کہ جو لیڈر سڑکوں پر نہیں اتریں گے، وہ یہ بات سمجھ لیں کہ ان کیلئے پارٹی میں اپنی جگہ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
دریں اثناء کئی مفکرین نے اپوزیشن کے انتخابات میں حصہ لینے کو بے معنی قرار دیتے ہوئے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان میں سے ایک آنند تیل تمبڑے بھی ہیں۔ آئی آئی ٹی کھڑگپور کے سابق پروفیسر، ڈاکٹر امبیڈکر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے مصنف، اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں جنہوں نے بھیما-کوریگاؤں کیس میں ڈھائی سال جیل میں گزارے۔ اسکرول میں شائع ان کے مضمون کا عنوان ہی بہت کچھ بیان کردیتا ہے’’اپوزیشن کا بہار کا وہم اور جمہوریت کا وہم۔‘‘ وہ لکھتے ہیں کہ جب الیکشن کمیشن،  انتخابی فہرستیں، ای وی ایم اور میڈیا سب پر قبضہ ہو چکا ہے، الیکشن لڑنا صرف حکمراں جماعت کو ایک سرٹیفکیٹ فراہم کرتا ہے: ’’دیکھو جمہوریت زندہ ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اصل لڑائی اب سڑکوں پر اور اداروں کو آزاد کرانے کی ہے۔
ایک اور آواز اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی ہے۔ معروف ماہر معاشیات پرکلا پربھاکر۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے شوہر ہیں۔انہوں نے بھی کچھ اسی طرح کی بات کہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی پر لوک سبھا انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے تقریباً۸۰؍ سیٹیں جیتنے کا الزام لگایا۔ بہار کے نتائج کے بعد، ان کا خیال ہے کہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ سے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے کر سڑکوں پر آجانا چا ہے۔ اپوزیشن کے الیکشن لڑتے رہنے سے  برسراقتدار جماعت اور  مضبوط ہوتی ہے۔
لیکن اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ہمارے پڑوس میں دو ممالک نے بار بار اس بائیکاٹ کا تجربہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں، خالدہ ضیاء کی بی این پی نے۱۹۸۶ء اور۱۹۸۸ء میں فوجی حکمران ارشاد کے خلاف انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اُس وقت اس کے نتائج مثبت رہے۔ ۱۹۹۰ء میں، ایک عوامی تحریک نے جنرل ارشاد کو اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ تاہم، بعد میں ہونے والے تجربات نے اس کے برعکس رہے۔۲۰۱۴ء اور۲۰۲۴ء میں بی این پی نے شیخ حسینہ کے خلاف انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ دونوں بار عوامی لیگ نے تمام نشستیں جیت کر اقتدار کو مزید مستحکم کیا۔۲۰۲۴ء میں ووٹر ٹرن آؤٹ صرف۴۰؍ فیصد تھا، پھر بھی حسینہ چوتھی بار وزیر اعظم بنیں۔ بالآخر، وہ بائیکاٹ نہیں بلکہ طلبہ کی تحریک کی وجہ سے اقتدار سے محروم ہوگئیں۔
پاکستان میں عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی نے فوج کے دباؤ کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑا۔ اس کے بجائے، ان کی پارٹی کے  لیڈروں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا۔ انہیں سب سے زیادہ ووٹ بھی ملے لیکن اقتدار شہباز شریف کی گود میں آ گیا۔ اگر بائیکاٹ پوری طرح سے کیا گیا ہوتا تو شاید آج پی ٹی آئی مزید ٹھکانے لگ چکی ہوتی۔ صورتحال یہ ہے کہ اس وقت قومی اسمبلی میں اس کے کئی اراکین موجود ہیں۔
دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ۲۰۱۶ء کے ایک مطالعے میں۱۷۱؍ انتخابی بائیکاٹوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زیادہ تر معاملات میں بائیکاٹ کرنے والی جماعت ہی کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کا ووٹر بیس منتشر ہو گیا، پارلیمنٹ کی نشستیں ختم ہو گئیں، اور حکمران جماعت کو واک اوور مل گیا۔ سویڈن کے ’وی ڈیم‘ انسٹی ٹیوٹ کے محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بائیکاٹ میں سے صرف ۳؍ سے ۵؍فیصد ہی کامیاب ہو سکے ہیں، وہ بھی اُس وقت جب کہ ایک بڑی عوامی تحریک اور بین الاقوامی دباؤ اس کے ساتھ رہا ہو۔ صرف بائیکاٹ سے اکثر اپوزیشن کو  نقصان ہی برداشت کرنا پڑتا  ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی تنظیمیں بھی  اب کھل کر کہنے لگی ہیں کہ ہندوستانی جمہوریت ایک گہرے بحران میں ہے۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ۲۰۲۴ء کی ’ڈیموکریسی انڈیکس‘ میں ہندوستان ۱۶۷؍ ممالک میں۴۱؍ ویں نمبر پر ہے۔۲۰۱۴ء میں یہ۲۷؍ ویں نمبر پر تھا۔ اسکور۷ء۱۸؍ تھا، یعنی ہندوستان کو’تیرتی جمہوریت‘ یا ’لنگڑی جمہوریت‘ کہا جا سکتا ہے۔
سویڈن کا وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی۲۰۲۴ء کی رپورٹ میں ہندوستان کو ایک ’انتخابی خود مختاری‘ کا لیبل لگایا گیا ہے یعنی انتخابات ہوتے ہیں، لیکن نتائج کنٹرول اور متاثر ہوتے ہیں۔اس طرح ہندوستان کو۱۷۹؍ ممالک میں۱۰۰؍ ویں نمبر پر دکھایا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK