ویکسین کب؟

Updated: July 27, 2020, 10:24 AM IST | Editorial

کل تک یہ انتظار تھاکہ ’’کورونا جائے‘‘ مگر اب انتظار ہے کہ ’’ویکسین آئے‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالات دگرگوں ہیں، معیشت منہدم ہورہی ہے، روزگار ختم ہورہے ہیں اور لوگ عاجز آچکے ہیں

Vaccine - Pic : INN
ویکسین ۔ تصویر : آئی این این

کل تک یہ انتظار تھاکہ ’’کورونا جائے‘‘ مگر اب انتظار ہے کہ ’’ویکسین آئے‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالات دگرگوں ہیں، معیشت منہدم ہورہی ہے، روزگار ختم ہورہے ہیں اور لوگ عاجز آچکے ہیں۔ اُن کی اولین خواہش ہے کہ اس وباء سے نجات مل جائے۔ اس دوران کورونا نئے علاقوں اور ریاستوں میں پھیل چکا ہے اور اس کا قہر ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ ملک میں صحت یاب ہونے والوں کی شرح کافی حد تک بڑھی ہے مگر نئے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور ہورہا ہے۔ لاک ڈاؤن حل نہ ہونے کے باوجود ناگزیر ہے اس لئے ہر خاص و عام، جو لاک ڈاؤن سے پریشان ہے، ویکسین کا منتظر ہے اور یہ اُمید لگائے بیٹھا ہے کہ اس کی وجہ سے شہری زندگی دوبارہ پٹری پر آجائے گی۔
 مگر ویکسین ’’دلی ّہنوز دور است‘‘ کے مصداق اب بھی دور ہے۔ اس کے تعلق سے دعوے تو چہار جانب سے جاری ہیں اور ایک قسم کی عالمی جنگ چھڑی ہوئی ہے مگر کون اپنے دعوے پر پورا اُترتا ہے اور کامیاب ویکسین جاری کرنے میں سبقت لے جاتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا۔ اطلاعات کے مطابق پوری دُنیا میں کم از کم سو (۱۰۰) ویکسین اپنی تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ یہ سو ویکسین تیار کرنےو الوں میں دوا ساز کمپنیاں، تعلیمی ادارے اور سرکاری ایجنسیاں شامل ہیں۔ ان میں سے ۷۰؍ پروجیکٹس ایسے ہیں جن سے ڈبلیو ایچ او کو بھی بڑی اُمید ہے۔ مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کون سی ویکسین کامیاب تجربے کے باوجود بڑے پیمانے پر کامیابی سے ہمکنار ہوگی، اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔
  امریکہ میں دوا ساز کمپنی ’’ماڈرنا‘‘ سے لے کر بائیوٹیک فرم ’’انووی او‘‘ تک، جسے بل اینڈملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی سرپرستی حاصل ہے، پوری دُنیا کی نگاہوں کا مرکز ہیں۔ چین کی بائیو ٹیک فرم ’’کین سینو بائیولوجکس‘‘ بھی انسانوں پر ویکسین کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ امریکی فرم ’’نوواواکس‘‘ نے آسٹریلیا میں کچھ پیش رفت کی ہے جبکہ آسٹریلیا ہی میں مرڈوک چلڈرنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی انسانوں پر تجربہ میں مشغول ہے۔ برطانیہ میں آکسفورڈ نے اپریل ہی میں انسانوں پر تجربہ شروع کردیا تھا مگر بڑے پیمانے پر اس کا تجربہ اگست میں ہوگا۔ جرمنی کی کمپنی ’’فائزر‘‘ جرمنی ہی کی ایک کمپنی بائیو این ٹیک نیز چینی فرم فوسن فارما کے ساتھ مل کر انسانوں پر تجربہ شروع کرچکی ہے۔ ہمار ا ملک بھی اس میدان میں پیچھے نہیں ہے جبکہ کناڈا، جاپان، روس، سنگاپور اور جنوبی کوریا کے سائنسداں بھی انتھک محنت کررہے ہیں کہ کوئی کامیاب ویکسین ایجاد ہوجائے مگر اب تک کسی کو بھی حتمی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔
 اتنے بڑے پیمانے پر جاری جدوجہد ناکام نہیں ہوسکتی۔ کسی نہ کسی کو تو یقیناً کامیابی ملے گی مگر ابھی اس میں کتنا وقت ہے یہ کہا نہیں جاسکتا۔ بالفرض آئندہ ماہ کسی ویکسین کی اطلاع ملے کہ انسانوں پر اس کے جتنے بھی تجربے ہوئے سب کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں تب بھی یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہے گا کہ کیا تمام ملکوں کو ویکسین مل جائے گی؟ ویکسین کا کامیاب قرار پانا اور پھر اس کا بہت بڑے پیمانے پر پروڈکشن دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ان دونوں کے درمیان بھی ایک رخنہ ہے اور وہ ہر ملک کی نیشنل ریگولیٹری ایجنسی سے اس کا منظور ہونا ہے۔ امریکہ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن، یورپ میں یوروپین میڈیسن ایجنسی اور ہندوستان میں آئی ایم آر سی اور وزارت صحت۔ بہرکیف، جتنا ڈیمانڈ اس وقت ہے اُتنی بڑی تعداد میں اس کی سپلائی کو یقینی بنانا کارے دارد ہے۔ موجودہ وقت میں پوری دُنیا کو ویکسین کے اربوں ڈوز درکار ہیں۔ ڈیمانڈ کے مطابق سپلائی کیلئے الگ الگ ملکوں میںپروڈکشن پلانٹس کی ضرورت ہوگی، اور یہ بھی کوئی ایسا کام نہیں ہے جو راتوں رات انجام پاجائے چنانچہ سوائے انتظار کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK