• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

جب زندگی نے موت کو شکست دی!

Updated: November 30, 2023, 9:50 AM IST | Mumbai

اُترکاشی کی سلکیارا سرنگ میں پھنسے ہوئے اکتالیس مزدوروں کا سترہ دن کی شبانہ روز جدوجہد کے بعد بحفاظت نکال لیا جانا ایسا کارنامہ ہے جس کی ستائش نہ کرنا بخل ہوگا۔

Uttarkashi
اُترکاشی

اُترکاشی کی سلکیارا سرنگ میں پھنسے ہوئے اکتالیس مزدوروں کا سترہ دن کی شبانہ روز جدوجہد کے بعد بحفاظت نکال لیا جانا ایسا کارنامہ ہے جس کی ستائش نہ کرنا بخل ہوگا۔ چونکہ وزیراعظم نے خود ستائش کی اور کہا کہ راحتی کام میں ہاتھ بٹانے والا ہر شخص مبارکباد کے قابل ہے نیز سرنگ سے بحفاظت باہر آنے والے مزدوروں کو ایک ایک لاکھ روپے بھی دیئے جارہے ہیں اس لئے ہمیں اُمید ہے کہ ہمارے اس مطالبے کو شرف قبولیت حاصل ہوگاکہ توصیفی سند اور نقد انعام پر مشتمل اعزاز اُن تمام افراد کو بھی دیا جائے جو سترہ دن کے دوران مسلسل یا وقفے وقفے سے سرگرم عمل  رہے، ورنہ، سچ پوچھئے تو اان مزدوروں کے زندہ سلامت باہر نکل آنے کی اُمید کم تھی اور جیسے جیسے دن گزر رہے تھے، اُمید کم سے کم تر ہوتی جارہی تھی۔ 
 واضح رہنا چاہئے کہ جب امریکی ’’آگر‘‘ مشین بھی ناکام ہوگئی تب مشینوں سے زیادہ افراد کی حکمت اور تجربہ سے کام لیا گیا اور ایسے ماہر افرادکو زحمت دی گئی جو ’’ریٹ ہول مائننگ‘‘ میں مہارت رکھتے ہیں۔ ریٹ ہول مائننگ سے مراد چٹان میں چوہوں جیسا بل بناکر اندر داخل ہونا اور کوئلے کی کان تک پہنچنا۔ یہ کام  آسان نہیں ہے، اس کیلئے دُبلے پتلے افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ جن علاقوں میں کان کنی ہوتی ہے وہاں کی لائسنس یافتہ کمپنیاں ایسے  افراد کو اس کام کیلئے ملازمت دیتی ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ دُنیا میں ہر کام آسان نہیں ہے۔ اس کا معنی ہے کچھ کام مشکل ہوتے ہیں۔ مگر، آسان او رمشکل سے بلند ہوکر دیکھا جائے تو کچھ کام وہ ہوتے ہیں جن کی تکمیل  جان جوکھم میں ڈالے بغیر ممکن نہیں۔ ریٹ ہول مائننگ بھی اسی نوعیت کا کام ہے۔ اسی لئے ہم نے اِن افراد کو توصیفی سند اور نقد انعام دینے کی سفارش کی ہے۔ 
 جو لوگ اندھیری چٹان میں اُترتے ہیں اُن کی زندگی میں روشنی کا گزر شاذونادر ہی ہوتا ہوگا، اتنی جرأت کا کام کرنے کے بعد بھی اگر وہ اُس روشنی سے محروم ہی رہے تو اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے اُن کی جرأت، محنت اور تجربہ کی قدر نہیں کی۔ ریٹ ہول مائننگ کے جو ماہرین سرنگ میں پھنسے ہوئے اکتالیس افراد سے سب سے پہلے ملے وہ فیروز قریشی اور مونو کمار ہیں جبکہ بارہ رُکنی بچاؤ ٹیم کے لیڈر وکیل حسن ہیں۔ ان تینوں کو مذکورہ اعزاز کے علاوہ بہادری کا ایوارڈ بھی ملنا چاہئے۔ ہم نے اعزاز یا انعام کا یہ مطالبہ اس لئے کیا کہ یہ لوگ سرکاری ملازم نہیں ہیں۔ ویسے، اس کارِ خیر پر مامور سرکاری افسران بھی مبارکباد، انعام اور عہدہ میں ترقی کے حقدار ہیں جن میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی کے اہم افسر لیفٹننٹ عطا حسنین شامل ہیں۔ ان سب نے مل کر ہر اُس تدبیر کو بروئے کار لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے ذریعہ سرنگ کے مزدوروں تک پہنچا جاسکتا تھا۔
 ریٹ ہول مائننگ کے ذریعہ ملنے والی کامیابی سے جہاں مزدوروں کی جان بچی وہیں یہ حقیقت بھی اُجاگر ہوئی، جس کا صدق دل سے اعتراف کیا جانا چاہئے،  کہ مشین مددگار ہے، مداوا نہیں ہے۔ جس طرح مشین وہ کام بھی کرسکتی ہے جو انسان نہیں کرسکتا  (جو مصنوعی ذہانت کے حق میں سب سے بڑی دلیل ہے) اُسی طرح بہت سے کام انسان ہی کرسکتا ہے مشین نہیں۔   اس لئے جہاں جہاں مشین پر انسان کو برتری حاصل ہے وہاں وہاں انسان کی خدمات سے گریز کرنا اور مشین سے کام لینا سخت ناانصافی ہے۔ اس رویہ کو غیر انسانی بھی کہا جاسکتا ہے ۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK